قرةالعین حیدر – احوال وکوائف

قرةالعین حیدر – احوال وکوائف
قرة العین حیدر کی پیدائش ایک متوسط مسلم گھرانے میں٠ ٢جنوری ٢٧ ١٩ء کو علی گڑھ میں ہوئی ۔انکے والد “سجاّدحیدر یلدرم’ کا شمار اردو کے مشہور فکشن نگاروں ہے میں ہوتا ہے وہ یوپی کے ایسے پڑھے لکھے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جنکے افراد دربار مغلیہ میں سہ ہزاری پنچ ہزاری اور منصب دار وغیرہ رہے تھے ۔انکے نگڑ دادا سیّد حسن تر ندی وسط ایشیا سے ہندوستان آ ئے۔ انکے خاندان میں علم وادب کا سرمایا ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتا رہا’ انکے گھرانے کی عورتیں بھی پڑھی لکھی تھی ۔ یلدرم کی نانی سیدہ ام مریم نے تو قرآن شریف کا فارسی میں ترجمہ بھی کیا تھا۔qurat ul ain سجاد حیدر یلدرم کے یہاں چھ بچوں کی ولادت ہوئی۔ چار بچے بچپن میں ہی اس دنیا سے کوچ کر گئے۔ ایک بیٹا اور بیٹی بہ قید حیات رہے ۔بیٹے کا نام مصطفیٰ حیدر عرف چھبوا اور بیٹی قرة العین حیدر عرف عینی آپا کے نام سے مشہور و معروف ہوئیں۔ ان کی والدہ نذر سجاد بھی اردو کی مشہور افسانہ نگار تھیں۔یہ فن ان کو حقیقتاً ورثہ میں ملا تھا۔ سجاد حیدر کے دادا امیر احمد علی نے انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی میں حصہ لیا۔ نتیجتاً ان کو انگریزی حکومت کی ناراضگی کا شکار ہونا پڑا ‘انکی جا ئداد ضبط کر لی گئی۔ جس کے سبب اس خاندان کو ترک وطن کرنا پڑا اور سرکاری ملازمت کرنی پڑ ی بعدمیں انکے والد سید جلیل الدین حیدر اور انکے چھوٹے بھائی سید کرار حیدر نے انگریزی تعلیم حاصل کر کے سرکاری ملازمت اختیا ر کی ۔ سید جلال الدین حیدر شہر بنارس کے حاکم مقرر ہوئے اور انھیں خان بہادر کے خطاب سے نوازہ گیا۔سید کرار حیدر یوپی میں سول سرجن رہے اور انکا شمار صوبے کے مشہور ڈاکٹروں میں ہوتا ہے ۔ ١٨٩٦ ء میں گھوڑے سے گرنے سے انکا انتقال ہوا۔
سجاد حیدر یلدرم ١٨٨٠ء میں پیدا ہوئے ۔ انھوں نے ایم اے اوکالج علی گڑھ سے بی اے کا امتحان پاس کیا ‘اسکے علاوہ الہ آباد یونیورسٹی میں دوسری پوزیشن حاصل کی ۔بعد ازاں ایم اے او کالج میں ایل ایل بی کے کورس میںداخلہ لیا ۔اسی وقفے میں وہ نواب اسمعےٰل خاں تعلق دار میرٹھ کے سیکریٹری رہے اور پھر راجہ صاحب محمود آباد کے سیکریٹری بھی رہے ۔اگے چل کر وہ بغداد میں برطانوی کونسل خانے میں ترکی متر جم کی حیثیت سے مقرّر رہے۔ اسکے بعد سرکار نے سابق امیر کابل یعقوب خاں کا اسسٹینٹ پولیٹکل ایجنٹ مقّرر کر کے اپنے ملک بھیج دیا ‘اور ١٢ ١٩ء میں انکی شادی نذر زہرا بیگم سے ہوئی ۔یعقوب خاں کی وفات کے بعد ا نکی خدمات یو پی سرکار سول سروس میں منتقل کر دی گئی ۔١٩٢٠ء میں مسلم یونیورسٹی بنی تو انھیں اسکاپہلا رجسٹرار مقّرر کیا گیا ۔ وہ شعبئہ اردو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے اعزازی صدر بھی تھے اور انکا شمار انجمن اردو معلٰی کے بانیوں میں ہوتا ہے ۔١٩٢٨ء میں حکومت نے انھیں اسی ادارے سے بلا کر جزائر انڈیمان نکو بار میں ریونیوکمشنر بنا کر پورٹ بلئیر بھیج دیا ۔وہا ں سے واپس آنے کے بعد وہ اٹاوہ اور غازی پور کے اضلاع میں تقّرر کئے گئے اور ١٩٣٥ء میں طبیعت کی علالت کے سبب ملازمت سے سبکدوش ہو گئے ۔باقی ماندہ زندگی انھوں نے تصنیف وتالیف اور علمی مشاغل میں گزاری اور ٤٣ ١٩ ء میں انکا انتقال ہوگیا ۔
قرةالعین حیدر کی والدہ نذر سجّاد کی پیدائش ١٨٩٤ء میں صوبہ سرحد میں ہوئی ۔ انکے دادا معصوم علی مصنف ”انشائے معصوم ”حکومت اودھ میں ناظم اور چکلہ دار تھے اور انکے دادا خان بہادر میر قائم علی کو پنجاب کے قانون اراضی کی تشکیل و تنظیم کے لئے منتخب کیا گیا ۔نذر کے والد میر نذر الباقر فوج کے محکمے سپلائی میں بہ طور ایجنٹ صوبہ سرحد میں معمو ر رہے ۔قرةالعین حیدر کی والدہ بھی علم وادب کی ماہر تھیں اور اردو فکشن سے کافی ذوق وشوق رکھتیں تھیں۔ شادی سے قبل بنت نذرالباقر کے نام سے تہذیب نسواں’پھول ‘اور دیگر رسالوں کے لئے مضامین لکھتی تھیں’ ا نھوں نے اپنے زور قلم سے افسانے اور ناول بھی تخلیق کئے ۔
قرةالعین حیدر کی والدہ نے” اخترالنساء”کے نام سے ناول لکھا ۔اس وقت انکی عمر ١٤سال کی تھی ۔شادی کے بعد انھوں نے نذر سجّاد کے نام سے لکھنا شروع کیا ۔انکے کردار میں سماجی اور مذہبی خدمت کا پر جوش جذبہ پایا جاتا ہے ۔انھوں نے زمانے کے مطابق اعلی تعلیم حاصل کی اور شروع سے ہی انھیں تصنیف وتا لیف کا شوق پیدا ہو گیا جسکی و جہ سے وہ سجاد حیدر سے شادی سے قبل ہی خاصی ادیبہ بن چکی تھیں ۔انکی تحریریں اس دور کے جرائد میں شائع ہوتی رہتیں تھیں ۔شوہر کی ملازمت کے سلسلے میں انھیں مختلف جگہ رہنے ‘ گھومنے پھرنے اور سےّاحت کرنے کابھی موقع ملا۔سجّاد حیدر ترکی زبان و ادب میں مہارت رکھتے تھے اور اسی دلچسپی کے نتیجہ میں وہ سجّاد حیدر یلدرم کے نام سے مشہور ہوئے۔
سجاد حیدر یلدرم علی گڑھ، پورٹ بلیئر ، مشرق بعید اور لاہور میںرہے۔ قرة العین حیدر کی زند گی کا بیشتر حصہ انہیں مقامات پر گزرا ۔قرةالعین کا فن لا زوال علمی ادبی شمع کا خزانہ ہے ۔ وہ علم وادب کے ساتھ ایک ملٹی ڈائمینشن ذہن کی مالک تھیں’ذی وقار ‘ صاحب حیثیت’معزززمیدار گھرانے کی بیٹی تھیں۔وہ ایک کسان کی بیٹی تھیں انکے گھرانے کے لوگ مغلیہ دربار میں اعلی منصب پر فائز رہے ۔انکے ابائو اجداد وسط ایشیا سے ہند وستان تشریف لائے تھے ۔اور یہی پر سکونت اختیا ر کی۔جنکے دم سے علم و ادب کا ایک سبز کنبہ وجود میں آیا ۔علم وادب انکے خاندان کی وراست میں موجو د رہا جو نسلاً بہ نسلاً چلتا رہا۔
قرة العین حیدر کا بچپن کا زمانہ پورٹ بلئیر میں گزرا اور انکی ابتدائی اور ثانوی تعلیم دہرادون، لاہور اور لکھنٔو میں ہوئی دہرہ دون میںپرائیویٹ سے میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔میڑک پاس کرنے کے بعد انٹرمیڈیٹ١٩٤١ء میں ازبلاتھو برن کالج لکھنٔو سے پاس کیا۔ والد کے انتقال کے بعد بھائی کو دہلی میں ملازمت مل گئی اورسبھی لوگ دہلی آگئے۔ قرة العین حیدرکا داخلہ ( بی۔اے٥ ١٩٤ئ) میں آئی۔ پی کالج دہلی یونیورسٹی میں کرادیا گیا۔ بی۔ اے کرنے کے بعد لکھنٔو یونیوورسٹی سے١٩٤٧ء میں ایم ۔اے انگریزی میں کیا۔جدید انگریزی ادب کا کورس٢ ١٩٥ء میں کیمبرج یونی ورسٹی سے کیا۔ اس کے بعد آرٹ کی تعلیم گورنمنٹ اسکول آف آرٹ لکھنٔو سے حاصل کی۔ صحافت کی تعلیم ریجنٹ اسٹریٹ پولی ٹیکنیک لندن سے حاصل کی اس طرح نو عمری سے ہی ان میں گھومنے اور لمبی لمبی سیرو سیاحت کرنے کا شوق پروان چڑھنے لگا انہیں تصنیف وتخلیق کے ساتھ ساتھ مصّوری کا بے حد شوق تھا مشہور ایل ایم سین سے انھوں نے جاپانیواش تکنیک بھی سیکھی لندن میں پنچ تنتر پر بنائی ہوئی انکی الیسٹریشن کی نمائش بھی ہوئی ۔اسکے علاوہ انھوں نے اپنی کتابو ں کے سر ورق بھی خود تیار کئے ۔اور بہت سی پینٹنگ بھی بنائیں لیکن یہ صرف شوق تھا جبکہ تصنیف انکا جذبہ وجنو ن تھا ۔
قرة العین حیدر کو عینی نام سے بھی پکارہ جاتا ہے ۔یہ اپنے عہد کی سب سے بڑی قلم کار و تخلیق کار تھیں۔تخلیقی سفر چھ سال کی عمر میں شروع کیا تھا ۔ انکی کہانی پہلی بار بچوں کے رسالے ‘پھول ‘لاہور میں شائع ہوئی ۔ ان کا پہلا افسانہ ١٣سال کی عمر میں ” ایک شام ” جیسے وہ طنزیہ اسکرپٹ کہتی تھیں۔ فرضی نام ”لالہ رخ”کے نام سے شائع کرایا گیا۔ ان کے چچا مشتاق کا مشورہ تھا کہ اپنے نام سے چھپواؤگی تو کسی کو یقین نہیں ہوگا کہ یہ آپ نے لکھا ہے۔ اس کے علاوہ دوسرا افسانہ ” یہ باتیں ” اور” ہمایوں ” ١٩٤٢ء میں بنت سجاّد حیدر یلدرم کے نام سے شائع ہوا۔ تیسرا افسانہ ” ارادے” جون ١٩٤٤ء کے ادیب میںشائع ہوا اور اس پر انہیں انعام بھی ملا۔ جب قرة العین حیدرکے نام سے اشاعت ہوئی ان کے چچا زاہدی نے کہا ” اب تم افسانہ نگار بن گئیں۔ ”
قرة العین حیدرکا بچپن نہایت ہی دلکش اور آزادانہ ماحول میں گزرا۔ ان کا خاندان قدامت پرست ہونے کے ساتھ نئے عہد سے متاثر بھی تھا۔ قرة العین حیدرکو ابتدا سے ہی اپنے والدین کے ساتھ مختلف جگہوں پر رہنے اور گھومنے پھرنے کا موقع فراہم ہوا۔ ایک جگہ خود قرة العین حیدرلکھتی ہیں:
”بھانت بھانت کی جگہوں پر رہنے بھانت بھانت کے لوگوں اور انسانوںسے ملے وہ جہاز کے سفر کی بس تیرتے ہوئے چلے جا رہے ہیں۔بمبئی ‘کلکتہ ‘قاہرہ ‘ترکی ‘مستقل ادھر سے اُدھر گھوم رہے ہیں” ١
قرة العین حیدر ایک خوش مزاج اور خوشحال گھرانے کی بیٹی تھیںاور ان کے والد علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے رجسٹرار کے عہدے پر فائز تھے لیکن ان کی خوشحال زندگی کو٧ ١٩٤ء تک آتے آتے زبردست دھکے لگے۔ ایک ان کے والد کی موت اور دوسرا تقسیم ہند کا المیہ۔ ان دونوں المیوں نے قرة العین حیدرکے ذہن ‘کردار اور قلم پر زبردست اثر ڈالا۔ تقسیم ہند کے بعد ہجرت کا سلسلہ شروع ہوا اور قرة العین حیدرخود بھی اس ہجرت کے قافلے میں شریک ہوکر پاکستان چلی گئیں۔ جہاں وہ مہاجرین کے قافلوں میں شریک نظر آتیں ہیں۔ان کے درد غم میں برابر کی شریک ہوکر حقیقت کی ا ئینہ سامانی فراہم کرتی ہیں۔قرة العین حیدر کے یہاں تقسیم ہند کا زبردست اثر نظر آتا ہے وہ تقسیم ہند کی شروع سے ہی مخالف تھیں۔ یہی سبب ہے ان کی تحریروں میں ذہنی اور جذباتی طور پر تقسیم ہندکے اثرات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ پاکستان میں قیام کے دوران وہ محکمہ اطلاعات و نشریات بحیثیت اسیسٹیٹ ڈائریکٹر کام کرتی رہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان انٹرنیشنل ایرلائن (PIA)میں١٩٥٥ء سے ١٩٥٦ء تک انفارمیشن افسر رہیں اور کچھ وقت کے لیے ” پاکستان کوارٹر ” کی قائم مقام ایڈیٹر بھی رہیں ۔ مگر چند سیاسی وجوہ سے پاکستان کی سکونت کو خیرآباد کہہ آئیں۔ جواہر لال نہرو کے کہنے پر ہندوستان میں بمبئی کی سکونت اختیار کی۔ اس دوران فکشن نگار ادیبہ پر جو کچھ بیتی وہ ان کی تحریروں اور کہانیوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ بمبئی میں وہ السٹریڈ ویکلی کے ایڈیٹوریل بورڈ میںشامل ہوگئیں۔٨٦۔١٩٧٧ء میں ساہیتہ اکاڈمی جنرل کونسل کی اردو ایڈوائزری بورڈ کے رکن کے طور پر کام کیا جس سے دولت اور شہرت دونوں ملیں بعدازیں قرة العین حیدر نے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں وزیٹنگ پروفیسر کے عہدے پربھی کام کیا۔ انہوں نے دہلی ہی میں مکمل سکونت اختیارکی۔ آخری چند برس نوئیڈا میں گزارے۔ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں مختلف ادبی انعامات اور اعزازات سے نوازا گیا جو اس طرح سے ہیں :
١۔ساہتیہ اکاڈمی ایوارڈ ( افسانوی مجموعہ پت جھڑ کی آواز) ،بدست ڈاکٹر ذاکر حسین، صدر جمہوریہ ہند ١٩٧٦ئ
٢۔ سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ، بدست محترم اندرا گاندھی وزیر اعظم ہند ١٩٩٦ء
٣۔ پرویز شاہدی کل ہند ایوارڈ’مغربی بنگال اردو اکیڈمی ١٩١٨ء
٤ ۔ اترپردیش اردو اکیڈمی ایوارڈ برائے مجموعی ادبی خدمات ٢ ١٩٨ء
٥۔ غالب ایوارڈ ١٩٢٨ء
٦۔ پدم شری ایوارڈ ١٩٤٨ء
٧۔ غالب مودی ایوارڈ’بدست محترمہ اندراگاندھی’ وزیر اعظم ہند ١٩٨٤ء
٨۔ اقبال سمان ایوارڈ ( حکومت مدھیہ پردیش) ٨٨ ۔١٩٧٨ء
٩۔ بھارتیہ گیان پیٹھ ایوارڈ ، بدست چندرشیکھر، وزیر اعظم ہند ١٩٩٠ء
١٠۔ بھائی ویر سنگھ انٹر نیشنل ایوارڈ’بدست ڈاکٹر شنکر دیال شرما’نائب صدر جمہوریہ ہند ١ ٩٩ ١ء
١١۔ بھارت گورو’روٹری انٹرنیشنل(غیر معمولی ادبی خدمات) ١ ٩٩ ١ء
١٢۔ فیلو وآف ساہتیہ اکیڈمی ١٩٩٤ء
١٣ ۔ کل ہند بہادر شاہ ظفر ایوارڈ ( اردو اکادمی دہلی)، بدست پروفیسر علی محمدخسرو ۔ ٢٠٠٠ء
ان کی ادبی خدمات پر ہندوستان کا سب سے بڑا ادبی اعزاز گیان پیٹھ ایوارڈ دیاگیا جو ان سے پیشتر اردو میں صرف فراق گورکھپوری ہی کو عطا کیا گیا تھا۔ قرة العین حیدر نے ٣١ معروف اور معتبر ایوارڈ اور اعزازات حاصل کئے ۔ اپنی شخصیت اور سوانح حیات کے بارے میں مصنفہ کا خود کہنا ہے:
” آتم کتھا ظاہر ہے اپنی پیدائش سے شروع کی جاتی ہے اور چند سطور یا پیراگراف یا صفحات خاندان کے متعلق۔ میں نے اس کے لیے ٣١ سو سال گھنگالے اور اس سے بھی قبل ابراہیم اور باب عشتار تک۔ کیونکہ مجھے تاریخ سے دلچسپی ہے اور میں اپنے عرب، ایرانی ،تورانی اور ہندوستانی ورثے کو آپ بیتی میں شامل اور اس کا لازم حصہ سمجھتی ہوں۔” ٢
قرة العین حیدر ہمارے عہد نو کی وہ جدید فکشن نگار تھیں جن پر اردو ادب ہمیشہ ناز کرتا رہے گا۔ قرة العین حیدر اور ان جیسی تخلیقی صفات و کمالات رکھنے والی شخصیت کسی بھی زبان اور کسی بھی عہد میں صدیوں میں جنم لیتی ہے۔ قرة العین حیدرکی وفات٠ ٨سال کی عمرمیں ١٢ اگست ٢٠٠٧ء (ساڑھے تین بجے شب) کیلاش ہاسپٹل نوئیڈا میں ہوئی۔ جن کی تدفین بعد نماز عصرجامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے اس خاص قبرستان میں ہوئی جہاں علم و ادب کی دوسری عظیم شخصیات دفن ہیں۔ یعنی مختار احمد انصاری’عابد حسین’ صالحہ عابد حسین’غلام السیدین’غلام السقلین’پرو فیسر نورالحسن’ بیگم انیس قدوائی’ شفیق ارحمٰن قدوائی’ سجّاد ظہیر’رضیہ سجّاد ظہیر وغیرہ سپرد خاک ہیں۔
قرة العین حیدرنے اپنے تخلیقی سفر کا آغاز تاریخ کی نبض پر ہاتھ رکھ کر شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے عالمی ادب پر پھیل گئیں۔ ان کی شاہکار تحریرو ںمیںمیرے بھی صنم خانے ‘سفینۂ غم دل ‘ آگ کا دریا، آخر شب کے ہمسفر ،گردش رنگ و چمن، کار جہاں دراز ہے، چاندنی بیگم ناول وغیرہ قابل ذکر ہیں۔جلا وطن ، آئینہ فروش شہر کوراں ، روشنی کی رفتارسینٹ فلورا آف جارجیا کے اعترافات، فقیروں کی پہاڑی، آوارہ گرد، فوٹو گرافر وغیرہ ایسے افسانے ہیں جو ان کی تاریخ و ادب سے دلچسپی کی گواہی دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انھو ں نے مشرقی پاکستان (بنگال)کے امیر طبقے کے ہاتھوں غریب محنت کشوں کے استحصا ل کے خلاف چائے کے باغ جیسی درد ناک کہانی قاریئن کے سامنے پیش کی اوراسی دور میں انھوں نے اگلے ”جنم موہے بٹیا نہ کیجو ”جیسی عہد وآفرین کہانی لکھ کر عورت ذات کی حالت و کیفیت ‘زبوں حالی اور معاشرے کے ایک المیہ کو اس انداز میں تحریر کیا ہے کہ یہ تحریر ادب عالیہ کا لافانی کارنامہ بن گئی ۔
بہرحال ان کی بے پناہ ا دبی خدمات کے اعتراف میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے شیخ الجامعہ پروفیسر مشیرالحسن نے کچھ اقدامات کئے تھے جن کو عملی جامہ کچھ اس طرح پہنایا گیا ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کیمپس میں پہنچے کے لیے پہلا دروازہ ہے اسے باب” قرة العین حیدر ” کے نام سے زندہ و تابندہ کیاگیا ہے۔اس کے علاوہ ان کی مستقبل یادگار کے لیے ایک میوزیم اور لائبریری بھی قائم کردی گئی ہے۔ علاوہ ازیں قرة العین حیدرکے نام سے ایک چیئر کا قیام بھی عمل میں آیاہے۔تاکہ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف سے آنے والی نوجوان نسل کو بھی قدر شناس کیا جاسکے۔ وہ نہ صرف افسانہ و ناول نگار تھیں بلکہ کامیاب مدیر و مترجم بھی تھیں اس کے علاوہ انہوں نے ناولٹ بھی تحریر کیے۔
قرة العین حیدر کی تخلیقات میں افسانے، ناول، ناولٹ، رپورتاژ، تراجم اور کہانیاں شامل ہیں۔ ان کے چار افسانوی مجموعے ہیں جن میں پہلا افسانوی مجموعہ” ستاروں سے آگے” ہے۔ جس میں چودہ افسانے شامل ہیں ۔یہ٧ ١٩٤ء میں شائع ہوا۔ دوسرا” شیشے کے گھر”٤ ١٩٥ء میں شائع ہوا جس میں بارہ افسانے شامل ہیں۔ تیسرا افسانوی مجموعہ ”پت جھڑ کی آواز” ١٩٦٦ء میں منظر عام پر آیا جس میں آٹھ افسانے شامل ہیں۔ چوتھا مجموعہ” روشنی کی رفتار”ہے جو کہ٢ ١٩٨ء شائع ہوا جس میں اٹھارہ افسانے شامل ہیں۔اس کے علاوہ ١٢ ایسے افسانے ہیں جو کسی کلیات یا مجموعہ میں ابھی شامل نہیں کئے گئے۔
محمودہاشمی اپنے مضمون” قرة العین حیدر : جدید افسانے کا نقطہ آغاز” میں حیدر کی افسانہ نگاری کے آغاز سے متعلق کچھ اس طرح رقمطراز ہیں :
” قرة العین حیدر کی افسانہ نگاری کا آغاز اس عہد میں ہوا جب بیسویں صدی کی دنیا کئی ذہنی اور سیاسی انقلابات سے گزرچکی تھی۔ پرانی بنیادوں پر قائم حقیقتیں لڑکھڑا رہی تھیں، تخلیقی ذہن نئے سوالات اور نئی حسیت سے روشناس ہورہا تھا۔ ماضی ایک ویرانے کا لینڈ اسکیپ بن چکا تھا۔ جس میں سنسان ہوائیں اور عہد گذشتہ کی عظمتوں کے کھنڈرات موجود تھے… دو عظیم جنگوں ، ملکی بین الاقوامی سیاست نے انسانی زندگی کی تمام بنیادیں منتشر کردی تھیں۔ انسان کا انفرادی وجود ریزہ ریزہ ہوکر عدم کے اس افق سے قریب ہوتا جارہا تھا جہاں موت کا سناٹا تھا — یا زندگی سے متعلق انتہائی اضطراب زدہ سوالا ت ”۔٣
محمود ہاشمی کے قول سے اتفاق کرتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ مذکورہ اضطراب زدہ سوالات کی روشنی میں بیسویں صدی کے ادبی منظر نامے کا اگر منظر غائر مطالعہ کیا جائے تو قرة العین حیدر کا زمانہ ادبی لحاظ سے اس زرّیں دور کا آغاز کہا جاسکتا ہے جہاں ایک تہذیب دم توڑ رہی تھی تو دوسری تہذیب اپنی تمام رعنائیوں کے ساتھ ظہور پذیر ہورہی تھی۔ تانا شاہی کے سفاک اور خون آلودہ پنچوں سے نجات حاصل کرنے کی تگ دو اپنے عروج پر تھی۔اس پُر آشوب ماحول میں قرة العین حیدر نے اپنے تخلیق سفر کا آغاز کیا۔ ان کا تخلیق سفر کم وبیش ستر سالوں پر محیط ہے۔ ان ستر سالوں میںانہوں نے اپنی تخلیقات میں تاریخی حقائق،انسانی نفسیات، معاشرتی ارتباط کے عوامی اور انسانی رشتوں کی قدر، فطرت کائنات ،وقت کا جبر اور موت کے فلسفے پر پوری زندگی زور دیا۔ وہ نہ صرف فنکار تھیں بلکہ انسانیت کی عظیم فنکار تھی۔ انہوں نے نہ صرف اپنے افسانوں میں زندگی کی بھرپور عکاسی کی ہے بلکہ پورے فکشن میں اس کی عکاسی کی ہے اور آج کی انسانیت کو اپنے ارتقا کی صحیح منزل دریافت کرانے کی کوشش کی تھیں۔ یہ اپنے پورے فکشن میں ماضی،حال اور مستقبل کے درمیان ایک کڑی کی حیثیت رکھتیں ہیں۔ یہی سبب ہے قرة العین حیدرکا ناول ” آگ کا دریا ” اردو ادب کا ایک شاہکار ناول ہے۔ جو قدیم عہد کا سراغ لگانے سے لے کر جدید عہد تک کی ترجمانی کرتا ہوا نظر آتا ہے یہ ناول ڈھائی ہزار سا ل پرانی ہندوستان کی تاریخ کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ قدیم عہد کی طرح آج کا انسان بھی وقت کی طاقت کے ہاتھوں بے بس و مجبور نظر آتا ہے۔
اسمیں کسی شک کی گنجائش نہیںکہ قرةالعین حیدر اردو ادب میں اس گوہر بار شخصیت کا نام ہے جنہوں نے ہندوستانی ادب کو کئی قیمتی سرمائے سے سرفراز کیا اور سماج کو نئی فکراور نئے احساسات عطا کئے ۔
ان کا پہلا افسانہ ” سینٹ فلورا آف جارجیا کے اعترافات اور دوسرا ” روشنی کی رفتار ” یہ طویل افسانے ہونے کے ساتھ ساتھ کئی زمانوں پر محیط ہیں یہی سبب ہے کہ قرة العین حیدر کوفکشن نگاری میں کافی مقبولیت حاصل رہی ۔انھوں نے کچھ رپور تاژ بھی تحریر کئے جو کہ اس طرح سے ہیں۔
١۔لندن لیٹر(”شیشے کے گھر”میں شائع ہوا) ٤ ٥ ١٩ء
٢۔ستمبر کا چاند ‘در چمن ہر ورقی دفتر حالوگزشت (نقوش لاہور) جون ١٩٥٨ء
٣۔چھٹے اسیرتو بدلہ ہوا زمانہ تھا۔ (نقوش لاہور) اپریل تا جون ٦٦ ١٩ء
٥۔کوہ دماند (آج کل’نئی دہلی ) ———
٦۔گلگشت (گفتگو’بمبئی ) ——–
٤۔خضر سوچتا ہے یک بابی تمثیل: جہاں دیگر (آج کل’اردو) ———
اسکے علاوہ انھوں نے کچھ تراجم بھی کئے ۔
١۔ہمیں چراغ ہمیں پروانے (ازہندی جمیس) ٢۔ما ں کی کھیتی (ا زمیخائل اعتمادوف)
٣ ۔ آپس کے گیت (ازواسل بائی کو ف) ٤۔آدمی کا مقدر(ازمیخائل شولو خوف)
٥۔کلیسا میں قتل (ازٹی’ایس’ ایلیٹ) ٦ ۔تلاش (ازٹرومین کا یوٹ)
٧۔یوووکیہ
قرةالعین حیدر نے بچوں کے ادب سے متعلق بھی کام کیا جنکا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے ۔ انمیں تراجم شامل ہیں۔
اسکے علاوہ اپنی کتابوں کے اردو سے انگریزی میں ترجمے کئے جو کہ اسطرح ہیں :
١۔آگ کا دریا( (The river of fire
٢۔آخر شب کے ہم سفر (Fier files in the mist) اسٹرلنگ ٩٤ ١٩ء
٣۔پت جھڑ کی آواز(The sound of faling leaves) ——-
٤۔جلا وطن (افسانہ)(The Exiles) پاکستان ——-
٥۔اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجو life) (A women’s چیتنا پبلی کیشن ٩ ٧ ١٩ء
٦۔چائے کے باغ ——- (Tea garden of sylhat)
اسکے علاوہ بہت سے افسانوں کا انگریزی میں ترجمہ کیا جو امپرنٹ اور السٹرویکلی میں شائع ہوئے ۔ قرة العین حیدر کی مرتب کتابیں جو پریس میں ہیں۔گزشتہ برسوں کی برف نذر سجّاد حیدر کا روز نامچہ’ایام گزشتہ (والدہ)اوردوسراسےّدافضل علی (قرةالعین حیدر کے خالو)۔ اسکے علاوہ انکی کتابوں کے ترجمہ جو دوسرو ں نے کئے اور جو کتابیں دوسروں نے مرتب کی اختصار نویسی کے سبب انکاذکر نہیں کیا جا رہا ۔
ان کے شاہکار افسانوں، ناولوں اور ناو لٹوں کا بنیادی موضوع وقت کا جبر، انسان کی بے چارگی ، تنہائی ازلی و ابدی جلاوطنی اور شدید احساس ناکامی ہے اس کے علاوہ عورت کا مقدر بھی ہے۔قرة العین حیدر ایسی آفاقی مصنفہ ہیں کہ جنہوں نے کسی بھی ازم میں مقید ہوکر نہیں لکھا۔ وہ حال کو ماضی کا آئینہ دکھاکرماضی کی بازیافت پر زور دیتی ہوئی نظر آتی ہیںتاکہ مستبقل کی صحیح پیشن گوئی کی جاسکے۔ انہیں تاریخ سے دلچسپی تھی یہی سبب ہے انہوں نے جوکچھ بھی اپنے علم سے صفحہ قرطاس پر تحریر کیا اس میں جنگ و جدل دو عالمی جنگوں ،نوآبادیات جاگیردار طبقہ کا عروج و زوال ، ہندو پاک کی تقسیم، مشرقی ہند کی تحریکات ،تاریخ و افسانہ روحانیت و مادیت کو اس طرح سموکر رکھا ہے کہ ان کی مثال ابھی تک کہیں دیکھنے میں نہیں آتی ۔ جن اہل نظر نے ان کا موازنہ کیا کہتے ہیںبعض جگہ اپنے مغربی پیش رو جیمس جوائس اور ورجینا وولف سے بھی آگے نکل گئی ہیں۔ اردو زبان و ادب کی نشونما اور ارتقائی دور میںآغاز سے اب تک قرةالعین جیسی کوئی قلم کار پیدا نہیں ہوئی ۔جنکی تخلیق سے اتنا وسیع سرمایا اردو ادب کو حاصل ہوا’انکا تخلیقی ادب روایت سے آگے جا کر ملک اور غیر ممالک میں بھی قدرومنزلت کی نگاہ دیکھا جاتا ہے اور آگے بھی دیکھا جاتا رہے گا۔
حواشی
١۔ڈاکٹر غلام محمد بتکلو’کتھاکار اگیے اور قرةالعین حیدرایک تقابلی مطالعہ’موڈرن پبلشنگ ہاؤس دریا گنج ‘ص٢ ٣
٢۔ایضاً ص٣٩
٣۔ارتضٰی کریم ‘قرةالعین حیدر کا فن ‘موڈرن پبلیشنگ ہاؤس دریا گنج دہلی ‘١٩٩٢’ص١ ٤٦
شاہین پروین
ریسرچ اسکالر
اردو یونیورسٹی دہلی کا شعبہ۔ دہلی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے