قیمے کی بجائے بوٹیاں

قیمے کی بجائے بوٹیاں

ڈاکٹر سعید میرا ہمسایہ تھا۔ اس کا مکان میرے مکان سے زیادہ سے زیادہ دو سو گز کے فاصلے پر ہو گا۔ اس کی گراؤنڈ فلور پر اس کا مطب تھا۔ میں کبھی کبھی وہاں چلا جاتا۔ ایک دو گھنٹے کی تفریح ہو جاتی۔ بڑا بذلہ سنج ٗ ادب شناس اور وضعدار آدمی تھا۔ رہنے والا بنگلور کا تھا۔ مگر گھر میں بڑی شُستہ و رفتہ اردو میں گفتگو کرتا تھا۔ اس نے اردو کے قریب قریب تمام بڑے شعرا کا مطالعہ کچھ ایسے ہی انہماک سے کیا تھا کہ جس طرح اس نے ایم بی بی ایس کورس کی جملہ کتابوں کا۔ میں کئی دفعہ سوچتا کہ ڈاکٹر سعید کو ڈاکٹر بننے کی بجائے کسی بھی مضمون میں ایم اے ایچ پی کی ڈگری حاصل کرنی چاہیے تھی۔ اس لیے کہ اس کی افتاد طبع کے لیے یہ نہایت موزوں و مناسب ہوتی۔ چنانچہ میں نے ایک روز اس سے کہا:

’’ڈاکٹر صاحب! آپ نے یہ پروفیشن کیوں اختیار کیا؟‘‘

’’کیوں‘‘

میں نے ان سے کہا:

’’آپ اردو ٗ فارسی زبان کے بڑے اچھے پروفیسر ہوتے۔ بڑے ہر دلعزیز۔ طالب علم آپ کے گرویدہ ہوتے۔ ‘‘

وہ مُسکرایا:

’’ایک ہی بات ہوتی۔ نہیں۔ زمین و آسمان کا فرق ہوتا میں یہاں اپنے مطب میں بڑے اطمینان سے بیٹھا ہر روز کم از کم سو سوا سو روپے بنا لیتا ہوں۔ اگر میں نے کوئی دوسرا پیشہ اختیار کیا ہوتا تو مجھے کیا ملتا۔ زیادہ سے زیادہ چھ سات سو روپے ماہوار۔ ‘‘

میں نے ڈاکٹر سے کہا :

’’بڑی معقول آمدنی ہے۔ ‘‘

’’آپ اسے معقول کہتے ہیں۔ سو روپے کے قریب تو میرا اپنا جیب خرچ ہے۔ آپ جانتے ہی ہیں۔ کہ میں شراب پینے کا عادی ہوں ٗ اور وہ بھی ہر روز۔ قریب قریب پچھتر روپے تو اس پر اٹھ جاتے ہیں۔ پھر سگریٹ ہیں۔ دوست یاروں کی تواضع ہے۔ یہ سب خرچ کیا ایک لیکچرر ٗ پروفیسر ٗ ریڈر یا پرنسپل کی تنخواہ پورا کرسکتی ہے؟‘‘

میں قائل ہو گیا۔

’’جی نہیں۔ آپ ڈاکٹر نہ ہوتے۔ ادیب ہوتے ٗ مصور ہوتے۔ ‘‘

میری بات کاٹ کر انہوں نے ایک چھوٹا سا قہقہہ لگا کر کہا:

’’اور فاقہ کشی کرتا‘‘

میں بھی ہنس پڑا۔ ڈاکٹر سعید کے اخراجات واقعی بہت زیادہ تھے ٗاس لیے کہ وہ کنجوس نہیں تھا۔ اس کے علاوہ اسے اپنے مطب سے فارغ ہو کر فرصت کے اوقات میں دوست یاروں کی محفل جمانے میں ایک خاص قسم کی مسرت حاصل ہوتی تھی۔ شادی شُدہ تھا۔ اس کی بیوی بنگلور ہی کی تھی جس کے بطن سے دو بچے تھے۔ ایک لڑکی اور ایک لڑکا۔ اس کی بیوی اردو زبان سے قطعاً نا آشنا تھی ٗ اس لیے اسے تنہائی کی زندگی بسر کرنا پڑتی تھی۔ کبھی کبھی چھوٹی لڑکی آتی اور اپنی ماں کا پیغام ڈاکٹر کے کان میں ہولے سے پہنچا دیتی اور پھر دوڑتی ہوئی مطب سے باہر نکل جاتی۔ تھوڑی ہی دیر میں ڈاکٹر سے میرا دوستانہ ہو گیا۔ بڑا بے تکلف قسم کا۔ اس نے مجھے اپنی گزشتہ زندگی کے تمام حالات و واقعات سنائے۔ مگر وہ اتنے دلچسپ نہیں کہ ان کا تذکرہ کیا جائے۔ اب میں نے باقاعدگی کے ساتھ ان کے ہاں جانا شروع کر دیا۔ میں بھی چونکہ بوتل کا رسیا تھا۔ اس لیے ہم دونوں میں گاڑھی چھننے لگی۔ ایک دو ماہ کے بعد میں نے محسوس کیا۔ کہ ڈاکٹر سعید الجھا سا رہتا ہے۔ اپنے کام سے اس کی دلچسپی دن بدن کم ہو رہی ہے۔ پہلے تو میں اسے ٹٹولتا رہا ٗ آخر میں نے صاف لفظوں میں اس سے پوچھا:

’’یار سعید۔ تم آج کئی دن سے کھوئے کھوئے سے کیوں رہتے ہو‘‘

ڈاکٹر سعید کے ہونٹوں پر پھیکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی :

’’نہیں تو۔ ‘‘

’’نہیں تو کیا۔ میں اتنا گدھا تو نہیں کہ پہچان بھی نہ سکوں کہ تم کسی ذہنی اُلجھن میں گرفتار ہو۔ ‘‘

ڈاکٹر سعید نے اپنا وسکی کا گلاس اُٹھایا اور ہونٹوں تک لے جا کر کہا :

’’محض تمہارا واہمہ ہے۔ یا تم اپنی نفسیات شناسی کا مجھ پر رعب گانٹھنا چاہتے ہو۔ ‘‘

میں نے ہتھیار ڈال دیے۔ حالانکہ اس کا لب و لہجہ صاف بتا رہا تھا کہ اس کے دل کا چور پکڑا جا چکا ہے۔ مگر اسے اپنی شکست کے اعتراف کا حوصلہ نہیں۔ بہت دن گزر گئے۔ اب وہ کئی کئی گھنٹے اپنے مطب سے غیر حاضر رہنے لگا۔ یہ جاننے کے لیے کہ وہ کہاں جاتا ہے، کیا کرتا ہے، اس کی ذہنی پریشانی کا باعث کیا ہے ٗ میرے دل و دماغ میں بڑی کھد بد ہو رہی تھی۔ اب اتفاقاً اگر اس سے ملاقات ہوتی تو میرا بے اختیار جی چاہتا کہ اس سے ایک بار پھر وہ سوالات کروں جن کے ٹل جواب سے میری ذہنی اُلجھن دور ہو اور ڈاکٹر سعید کے عقب میں جو کچھ بھی تھا، اس کی صحیح تصویر میری آنکھوں کے سامنے آ جائے۔ مگر ایسا کوئی تخلیے کا موقع نہ ملا۔ ایک دن شام کو جب میں اس کے مطب میں داخل ہوا۔ تو اس کے نوکر نے مجھے روکا

’’صاحب: ابھی اندر نہ جائیے۔ ڈاکٹر صاحب ایک مریض کو دیکھ رہے ہیں۔ ‘‘

’’تو دیکھا کریں۔ ‘‘

نوکر نے مؤدبانہ عرض کی :

’’صاحب۔ وہ۔ وہ۔ میرا مطلب ہے۔ کہ مریض ٗ عورت ہے۔ ‘‘

’’اوہ۔ کب تک فارغ ہو جائیں گے۔ اس کے متعلق تمہیں کچھ معلوم ہے؟‘‘

نوکر نے جواب دیا :

’’جی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ تقریباً ایک گھنٹے سے وہ بیگم صاحبہ کو دیکھ رہے ہیں۔ ‘‘

میں تھوڑے توقف کے بعد مُسکرایا۔

’’تو مرض کوئی خاص معلوم ہوتا ہے۔ ‘‘

اور یہ کہہ کر میں نے غیر ارادی طور پر ڈاکٹر سعید کے کمرہ ءِ تشخیص کا دروازہ کھول دیا۔ اور اندر داخل ہو گیا۔ کیا دیکھتا ہوں۔ کہ سعید ایک ادھیڑ عمر کی عورت کے ساتھ بیٹھا ہے ٗ تپائی پر بیئر کی بوتل اور دو گلاس رکھے ہیں ٗ اور دونوں محو گفتگو ہیں ٗ سعید اور وہ محترمہ مجھے دیکھ کر چونک پڑے۔ میں نے ازرہِ تکلف ان سے معذرت طلب کی ٗ اور باہر نکلنے ہی والا تھا کہ سعید پکارا :

’’کہاں چلے۔ بیٹھو۔ ‘‘

میں نے سعید سے کہا:

’’میری موجودگی شاید آپ کی گفتگو میں مخل ہو‘‘

سعید نے اُٹھ کر مجھے کاندھوں سے پکڑ کر ایک کرسی پر بٹھا دیا۔

’’ہٹاؤ یار اس تکلف کو۔ ‘‘

پھر اس نے ایک خالی گلاس میں میرے لیے بیئر انڈیلی اور اسے میرے سامنے رکھ دیا:

’’لو ٗ پیو۔ ‘‘

میں نے دو گھونٹ بھرے تو سعید نے اس ادھیڑ عمر کی عورت سے جو لباس اور زیوروں سے کافی مالدار معلوم ہوتی تھی۔ تعارف کرایا۔

’’سلمےٰ رحمانی۔ اور یہ میرے عزیز دوست سعادت حسن منٹو۔ ‘‘

سلمےٰ رحمانی چند ساعتوں کے لیے مجھے بڑے غور اور تعجب سے دیکھتی رہی۔

’’سعید۔ کیا واقعی یہ سعادت حسن منٹو ہیں۔ جن کے افسانوں کے سارے مجموعے میں بڑے غور سے ایک نہیں ٗ دو دو ٗ تین تین مرتبہ پڑھ چکی ہوں۔ ‘‘

ڈاکٹر سعید نے اپنا گلاس اٹھایا۔

’’ہاں ٗ وہی ہیں۔ میں نے کئی مرتبہ خیال کیا کہ اس سے تمہارا غائبانہ تعارف کرا دوں۔ پر میں نے سوچا تم اس نام سے یقیناًواقف ہو گی۔ شیطان کو کون نہیں جانتا۔ ‘‘

سلمےٰ رحمانی یہ سن کر پیٹ بھر کے ہنسی۔ اور اس کا پیٹ عام پیٹوں کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہی بڑا تھا۔ اس کے بعد مس سلمےٰ رحمانی سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ پڑھی لکھی عورت تھی۔ بڑے اچھے گھرانے سے متعلق تھی۔ تفتیش کیے بغیر مجھے اس کے متعلق چند معلومات حاصل ہو گئیں کہ وہ تین خاوندوں سے طلاق لے چکی ہے۔ صاحبِ اولاد ہے۔ جہاں رہتی ہے۔ اس گھر میں دو چھوٹے چھوٹے کمرے اور ایک غسل خانہ ہے ٗ وہاں اکیلی رہتی ہے۔ غیر منقولہ جائیداد سے اس کی آمدن چار پانچ سو روپے ماہوار کے قریب ہے۔ ہیرے کی انگوٹھیاں پہنتی ہے۔ ان انگوٹھیوں میں سے ایک میں نے دوسرے روز شام کو سعید کی انگلی میں دیکھی۔ تیسرے روز کو ڈاکٹر سعید کے مطب میں سلمےٰ رحمانی موجود تھی۔ دونوں بہت خوش تھے اور چہچہا رہے تھے۔ میں بھی ان کی بیئر نوشی میں شریک ہو گیا۔ پچھلے ایک ہفتے سے میں دیکھ رہا تھا کہ ڈاکٹر سعید کے کمرہ ءِ تشخیص سے کچھ دُور جو کمرے خالی پڑے رہتے ہیں ٗ ان کی بڑی توجہ سے مرمت کرائی جارہی ہے۔ ان کو سجایا بنایا جارہا ہے۔ فرنیچر جب لایا گیا تو وہی تھا جو میں نے سلمےٰ رحمانی کے گھر دیکھا تھا۔ اتوار کو ڈاکٹر سعید کی چھٹی کا دن ہوتا ہے۔ کواڑ بند رہتے تاکہ اس کو تنگ نہ کیا جائے۔ مجھے تو وہاں ہر وقت آنے جانے کی اجازت تھی۔ ایک اور چور دروازہ تھا۔ اس کے ذریعے میں اندر پہنچا۔ اور سیدھا ان دو کمروں کا رخ کیا جن کی مرمت کرائی گئی تھی۔ دروازہ کھلا تھا۔ میں اندر داخل ہوا تو حسب توقع ڈاکٹر سعید کی بغل میں سلمےٰ رحمانی بیٹھی تھی۔ سعید نے مجھ سے کہا:

’’میری بیوی سلمےٰ رحمانی سے ملو۔ ‘‘

مجھے اس عورت سے کیا ملنا تھا۔ سینکڑوں بار مل چکا تھا۔ لیکن اگر کسی عورت کی شادی ہو تو اس کو کن الفاظ میں مبارکباد دینی چاہیے۔ اس کے بارے میں میری معلومات صفر کے برابر تھیں۔ سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کہوں۔ لیکن کہنا بھی کچھ ضرور تھا۔ اس لیے جو منہ میں آیا ٗ باہر نکال دیا :

’’تو آخر اس ڈرامے کا ڈراپ سین ہو گیا۔ ‘‘

میاں بیوی دونوں ہنسے۔ سعید نے مجھے بیٹھنے کو کہا۔ بیئر پیش کی اور ہم شادی کے علاوہ دنیا کے ہر موضوع پر دیر تک گفتگو کرتے رہے۔ میں شام پانچ بجے آیا تھا۔ گھڑی دیکھی تو نو بجنے والے تھے۔ میں نے سعید سے کہا:

’’لو بھئی۔ میں چلا۔ باتوں باتوں میں اتنی دیر ہو گئی ہے ٗ اس کا مجھے علم نہیں تھا۔ ‘‘

سعید کے بجائے سلمےٰ رحمانی۔ معاف کیجیے گا ٗ سلمےٰ سعید مجھ سے مخاطب ہوئیں :

’’نہیں ٗ آپ نہیں جاسکتے۔ کھانا تیار ہے۔ اگر آپ کہیں تو لگوا دیا جائے۔ ‘‘

خیر ٗ سعید اور اس کی نئی بیوی کے پیہم اصرار پر مجھے کھانا ٗ کھانا پڑا۔ جو بہت خوش ذائقہ اور لذیذ تھا۔ دو برس تک ان کی زندگی بڑی ہموار گزرتی رہی۔ ایک دن میں ناسازئ طبیعت کے باعث بستر ہی میں لیٹا تھا کہ نوکر نے اطلاع دی :

’’ڈاکٹر سعید صاحب تشریف لائے ہیں۔ ‘‘

میں نے کہا۔

’’اندر۔ جاؤ‘ ان کو اندر بھیج دو۔ ‘‘

سعید آیا تو میں نے محسوس کیا وہ بہت مضطرب اور پریشان ہے۔ اس نے مجھے کچھ پوچھنے کی زحمت نہ دی اور اپنے آپ بتا دیا کہ سلمےٰ سے اس کی ناچاقی شروع ہو گئی ہے ٗ اس لیے کہ وہ خود سر عورت ہے ٗ کسی کو خاطر ہی میں نہیں لاتی۔ میں نے صرف اس لیے اس سے شادی کر لی تھی کہ وہ اکیلی تھی۔ اس کے عزیز و اقربا اسے پوچھتے ہی نہیں تھے جب وہ بیمار ہوئی۔ اور یہ کوئی معمولی بیماری نہیں تھی۔ ڈپتھریا تھا جسے خناق کہتے ہیں۔ تو میں نے اپنا تمام کام چھوڑ کر اس کا علاج کیا اور خدا کے فضل و کرم سے وہ تندرست ہو گئی۔ پر اب وہ ان تمام باتوں کو پسِ پشت ڈال کر مجھ سے کچھ اس قسم کا سلوک کرتی ہے جو بے حد ناروا ہے۔ ‘‘

تو آغاز کا انجام شروع ہو گیا تھا۔ چونکہ ڈاکٹر سعید کا گھر میرے گھر کے بالکل پاس تھا ٗ اس لیے ان کی لڑائیوں کی اطلاعات ہمیں مختلف ذریعوں سے پہنچتی رہتی تھیں۔ سلمےٰ کے ساتھ دو نوکرانیاں تھیں ٗ بڑی تیز طرار اور ہٹی کٹی۔ ان دونوں کے شوہر تھے۔ وہ ایک طرح اس کے ملازم تھے۔ اس کے اشارے پر جان دے دینے والے۔ اور ڈاکٹر سعید بڑا نحیف اور مختصر مرد۔ ایک دن معلوم ہوا کہ ڈاکٹر سعید اور سلمےٰ نے پی رکھی تھی کہ آپس میں دونوں کی چخ چخ ہو گئی۔ ڈاکٹر نے معلوم نہیں نشے میں کیا کہا کہ سلمےٰ آگ بگولا ہو گئی۔ اس نے اپنی دونوں نوکرانیوں کو آواز دی۔ وہ دوڑی دوڑی اندر آئیں۔ سلمےٰ نے ان کو حکم دیا کہ ڈاکٹر کی اچھی طرح مرمت کر دی جائے ٗ ایسی مرمت کہ ساری عمر یاد رکھے۔ یہ حکم ملنا تھا۔ کہ ڈاکٹر سعید کی مرمت شروع ہو گئی۔ ان دونوں نوکرانیوں نے اپنے شوہروں کو بھی اس سلسلے میں شامل کر لیا۔ لاٹھیوں ٗ گھونسوں اور دوسرے تھرڈ ڈگری طریقوں سے اسے خُوب مارا پیٹا گیا کہ اس کا کچومر نکل گیا۔ افتاں و خیزاں بھاگا وہاں سے ٗ اور اوپر اپنی پرانی بیوی کے پاس پہنچ گیا جس نے مستعد نرس کی طرح اس کی خدمت شروع کر دی۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ اس نے ان دو کمروں کا رخ قریب قریب دو ماہ تک نہ کیا۔ اب وہ سلمےٰ سے کسی قسم کا رشتہ قائم نہیں کرنا چاہتا تھا۔ ہو گیا۔ سو ہو گیا۔ اب اس کو اپنے گھر سے بہت زیادہ دلچسپی پیدا ہو گئی تھی۔ لیکن کبھی کبھی اسے یہ محسوس ہوتا کہ یہ عورت جس سے میں نے شادی کا ڈھونگ رچایا تھا۔ کیوں ابھی تک اس کے سر پر مسلط ہے۔ اس کے گھر سے چلی کیوں نہیں جاتی۔ مگر اس سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔ ایک دو ماہ اور گزر گئے۔ اس دوران ڈاکٹر سعید کو معلوم ہوا کہ اس کا یوپی کے تاجر سے معاشقہ چل رہا ہے۔ یہ شخص صرف نام ہی کا تاجر تھا۔ اس کے پاس کوئی دولت نہیں تھی۔ صرف ایک مکان تھا۔ جو اس نے ہجرت کرنے کے بعد اپنے نام الاٹ کرا لیا تھا۔ دونوں ہر روز شام کو میرے یہاں آتے۔ شعر و شراب کی محفلیں جمتیں۔ اور میرے سینے پر مونگ دلتی رہتیں۔ ایک دن اس سے یہ کہے بغیر نہ رہا جاسکا۔ میں نے ذرا سخت لہجے میں اس سے کہا۔

’’اوّل تو تم نے یہ غلطی کی۔ کہ سلمےٰ سے شادی کی۔ دوسری غلطی تم یہ کر رہے ہو کہ اسے اپنے گھر سے باہر نہیں کرتے۔ کیا یہ اس کے باپ کا گھر ہے؟‘‘

ڈاکٹر سعید کی گردن شرمساری کے باعث جھک گئی۔

’’یار! چھوڑو اس قصّے کو۔ ‘‘

’’قصّے کو تو تم اور میں دونوں چھوڑنے کیلیے تیار ہیں۔ لیکن یہ قصّہ ہی تمہیں نہیں چھوڑتا۔ اور نہ چھوڑے گا۔ جبکہ تم کوئی بھی مردانہ وار کوشش نہیں کرتے۔ ‘‘

وہ خاموش رہا۔ میں نے اس پر ایک گولہ اور پھینکا

’’سچ پوچھو تو سعید۔ تم نامرد ہو۔ میں تمہاری جگہ ہوتا تو محترمہ کا قیمہ بنا ڈالتا۔ اصل میں تم ضرورت سے زیادہ ہی شریف ہو۔ ‘‘

سعید نے نقاہت بھری آواز میں صرف اتنا کہا:

’’میں بہت خطرناک مجرم بھی بن سکتا ہوں۔ تم نہیں جانتے‘‘

میں نے طنزاً کہا:

’’سب جانتا ہوں۔ اس سے اتنی مار کھائی۔ اتنے ذلیل ہوئے۔ میں صرف اتنا پوچھتا ہوں کہ محترمہ تمہارے گھر سے جاتی کیوں نہیں۔ ؟ اس پر اس کا اب کیا حق ہے؟‘‘

سعید نے جواب دیا:

’’وہ چلی گئی ہے۔ اور اس کا سامان بھی۔ بلکہ میرا سامان بھی اپنے ساتھ لے گئی ہے۔ ‘‘

میں بہت خوش ہوا:

’’لعنت بھیجو اپنے سامان پر۔ چلی گئی ہے۔ بس ٹھیک ہے تم خوش تمہارا خدا خوش۔ چلو اسی خوشی میں وہ بیئر کی یخ بستہ بوتلیں پئیں۔ جو میں اپنے ساتھ لایا ہوں۔ اس کے بعد کھانا کسی ہوٹل میں کھائیں گے۔ ‘‘

سلمےٰ کے جانے کے بعد ڈاکٹر سعید کم از کم ایک ماہ تک کھویا کھویا سا رہا۔ اس کے بعد وہ اپنی نارمل حالت میں آگیا۔ ہر شام اس سے ملاقات ہوتی۔ گھنٹو ں اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے اور ہنسی مذاق کرتے رہتے۔ کچھ دنوں سے میری طبیعت موسم کی تبدیلی کے باعث بہت مضمحل تھی۔ بستر میں لیٹا تھا کہ ڈاکٹر سعید کا ملازم آیا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ ڈاکٹر صاحب آپ کو یاد کرتے ہیں اور بُلا رہے ہیں۔ ایک ضروری کام ہے۔ میرا جی تو نہیں چاہتا تھا۔ کہ بستر سے اُٹھوں۔ مگر سعید کو نااُمید نہیں کرنا چاہتا تھا‘ اس لیے شیروانی پہن کر اس کے یہاں پہنچا۔ مکان کے باہر دیکھا۔ کہ چار دیگیں چڑھی ہیں۔ قصائی دھڑا دھڑ بوٹیاں کاٹ کاٹ کر صف کے ایک ٹکڑے پر پھینکے چلا جارہا ہے۔ آس پاس کے کئی آدمی جمع تھے۔ میں سمجھا شاید کوئی نذر نیاز دی جا رہی ہے۔ میں نے گوشت کا وہ بڑا سا لوتھڑا دیکھا۔ جس پر کلہاڑی چلائی جارہی تھی۔ اس کے ساتھ دو بانہیں تھیں۔ ! بالکل انسانوں کی مانند۔ ! میں نے پھر غور سے دیکھا۔ قطعی طور پر انسانی بانہیں تھیں۔ سمجھ میں نہ آیا۔ یہ قصہ کیا ہے قصائی کی چھری اور کلہاڑی چل رہی تھی۔ چار دیگوں میں پیاز سرخ کی جارہی تھی۔ اور میرا دل۔ دماغ ان دونوں کے درمیان پھنستا اور دھنستا چلا جارہا تھا۔ کہ ڈاکٹر سعید نمودار ہوا۔ مجھے دیکھتے ہی پکارا:

’’آئیے۔ آئیے۔ آپ کے کہنے کے مطابق قیمہ تو نہ بن سکا۔ مگریہ بوٹیاں تیار کرالی گئی ہیں۔ ابھی اچھی طرح بھونی نہیں گئیں۔ ورنہ میں آپ کو ایک بوٹی پیش کرتا۔ یہ معلوم کرنے کے لیے کہ مرچ مصالحہ ٹھیک ہے یا نہیں‘‘

یہ سن کر پہلے مجھے متلی آئی۔ اور پھر میں بے ہوش ہو گیا۔

سعادت حسن منٹو

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے