قیامت سے قیامت سے گزارے جا رہے تھے

قیامت سے قیامت سے گزارے جا رہے تھے
یہ کن ہاتھوں ہزاروں لوگ مارے جا رہے تھے
سنہری جل پری دیکھی تو پھر پانی میں کودے
وگرنہ ہم تو دریا کے کنارے جا رہے تھے
سمندر ایک قطرے میں سمیٹا جا رہا تھا
شتر سوئی کے ناکے سے گزارے جا رہے تھے
چمن زاروں میں خیمہ زن تھے صحراؤں کے باسی
ہرے منظر نگاہوں میں اتارے جا رہے تھے
سبھی تالاب پھولوں اور کرنوں سے بھرا تھا
بدن خوش رنگ پانی سے نکھارے جا رہے تھے


تمہارے سامنے ہر بار ہارتا ہوا میں
احمد خیال

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے