Qayamat Mujh Py Es ka

قیامت مجھ پہ سب اس کا ترحم اور تظلم تھا
کبھی تھیں گالیاں منھ پر کبھی لب پر تبسم تھا

یہ سب اپنے خیالِ خام تھے تم تھے پرے سب سے
جو کچھ سمجھے تھے ہم تم کو یہ سب اپنا توہّم تھا

اب اُلٹے ہم ہی اِس کے حکم میں رہنے لگے ناصح
وہ دفتر ہی گیا جو اپنا اِس دل پر تحکم تھا

تمھیں بھی یاد آتے ہیں کبھی وے دن کہ کوئی دن
ہمارے حال پر کیا کیا تفضّل اور ترحّم تھا

شب اُس مطرب پسر کے یاں حسن تھی زور ہی صحبت
اِدھر تو نالۂ دل تھا اُدھر اس کا ترنم تھا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے