قسم سے میں نے تو کمرے میں گنگنائی غزل

قسم سے میں نے تو کمرے میں گنگنائی غزل
محلے داروں نے گھر آ کے بند کرائی غزل
کسی کا شعر چرایا کسی کا مصرعہ لیا
کسی سے ٹھیک کرائی گھڑی گھڑائی غزل
بس ایک حرفِ مکرر سنا تھا شاعر نے
پھر اس کے بعد بڑی دیر تک چبائی غزل
یوں بے دریغ ستم ڈھائے اس نے کانوں پر
مشاعرے میں ترنم سے جب سنائی غزل
مری دعا سے نہ آئے گی چھینک بھی تجھ کو
اگر تُو شوق سے سن لے مری وبائی غزل
ابھی تو کھاؤں گی جی بھر کے پیزا و برگر
پھر اس کے بعد سناؤں گی میں غذائی غزل
بہانہ کر کے بلایا ہمیشہ ماں جی نے
مجھے سنانے لگی جب بھی میری تائی غزل
میں اپنی عمر چھپا کر غزل سنانے لگی
کسی نے جھٹ سے کہا کیا کہے گی "مائی” غزل
منزّہ سیّد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے