Qareeb Dil

قریب دل ، خروشِ صد جہاں ہم
جو تم سن لو ، تمہاری داستاں ہم

کسی کو چاہنے کی چاہ میں گم
جیے بن کر نگاہِ تشنگاں ہم

ہر اک ٹھوکر کی زد میں لاکھ منزل
ہمیں ڈھونڈھو ، نصیبِ گمرہاں ہم

ہمیں سمجھو ، نگاہِ ناز والو
لبوں پر کانپتا حرفِ بیاں ہم

بجھی شمعوں کی اس نگری میں ، امجدؔ
ابھرتے آفتابوں کی کماں ہم
جنوری 1958ء
(مجید امجد)​

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے