قیدِ محبت

ترے قفس میں نئے خوشنما پرندے کو
میں کس طرح سے بتاؤں کہ تیری دلداری
ترا جنوں تیری محبوبیت ترے وعدے
یہ صبح و شام کی باتیں یہ انتہائے کرم
فقط فریبِ محبت ہے اور کچھ بھی نہیں
میں اس کو کیسے بتاؤں جب آرزو میں تری
چمن کے خواب حسیں نو بہار کے نغمے
تمام دل کے اثاثوں کو نذر کر کے تری
یہ اپنی خواہش پرواز تک بھلا دے گا
پھر اس کو اپنے نصیبوں پہ رحم آئے گا
کہ دل کے کھیل میں تسخیر کا جنوں ہے تجھے
میں اس کو کیسے بتاؤں کہ اس کی قسمت بھی
مری مثال محبت کا دردِ پیہم ہے
ترا مزاج ہوئی غفلت و فراموشی
کسی بھی شے پہ ترا دل کہاں ٹھہرتا ہے
محبتوں کو جگانے کی بس ہوس ہے تجھے
محبتوں کا نبھانا ترا شعار نہیں
یہ جو قفس میں ترے خوشنما پرندہ ہے
اب اس غریب کی قسمت میں بھی مری صورت
لکھی ہے قیدِ محبت مگر قرار نہیں
سعید خان 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے