قدموں تلے میں سارا سمندر لئے ہوئے

قدموں تلے میں سارا سمندر لئے ہوئے
چلتا ہوں آسمان کو سر پر لئے ہوئے

اک ہم نوا کی شہر میں آمد کا شور ہے
ہم بھی کھڑے ہیں ہاتھ میں پتھر لئے ہوئے

ہے انتہائے شوق سے آگے بھی اک جہاں
لیکن چلو جو عشق سا رہبر لئے ہوئے

یہ اور بات قافلہ دریا کو چل پڑا
ورنہ وہیں تھے ہم بھی سمندر لئے ہوئے

اپنے ہی خاک وخون لتھڑی ہوئی ہوا
وہ جا رہی ہے اپنا مقدر لئے ہوئے

شاھد کسی نے آخرش پلکیں ہی موند لیں
آنکھوں میں تیری دید کا منظر لئے ہوئے

افتخار شاہد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے