قدیم وقت بھی رہتا ہے نوجواں کی طرح

قدیم وقت بھی رہتا ہے نوجواں کی طرح

ہری زمین کی طرح ، نیلے آسماں کی طرح

جو سالِ نو تھے بتدریج کہنہ ہوتے گئے

نئے لباس کی صورت ، نئے مکاں کی طرح

وہ یاد مٹ کے بھی دل میں دوام چھوڑ گئی

ہے سطحِ آئنہ کھرچے ہوئے نشاں کی طرح

میں کیا کروں مجھے بے طرح یاد آتے ہیں

تمام سالِ گذشتہ گزشتگاں کی طرح

سعود عثمانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے