Qadeem Dar Duniya

قدیم درد نیا واسطہ نہ بن جائے
تراخیال مرا دائرہ نہ بن جائے

یہ تم جو دیکھتے ہی جا رہے ہو پتھر کو
خیال رکھنا کہیں آئنہ نہ بن جائے

گلِ مراد جو بنتا چلا گیا صحرا
مرے ٹھہرتے ہی یہ آبلہ نہ بن جائے

زیادہ دیر ملاقات سے یہ لگتا ہے
ہمارے بیچ کوئی فاصلہ نہ بن جائے

ترے حصار سے نکلا نہیں وجود مرا
کہ تیرے جسم کی خوشبو نشہ نہ بن جائے

فصیل ِ جسم گرا دی تری انا کے لیے
زمانے کے لیے یہ واقعہ نہ بن جائے

جنوں میں چل رہا ہوں آفتاب پر ایسے
میں سوچتا ہوں کہیں راستہ نہ بن جائے

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے