پیار کرنا ہے تو پھر دل کو بناؤ پتھر

پیار کرنا ہے تو پھر دل کو بناؤ پتھر
کانچ کے شہر میں اب ڈھونڈ کے لاؤ پتھر
اس کو چا ہا ہے تو پھر اس کی جفا بھی جھیلو
اپنے احساس پہ ہر روز گراؤ پتھر
اب ہے ویرانہ جہاں پیار کبھی بستا تھا
اس کے ملبے سے ذرا دُور ہٹاؤ پتھر
میں نے اس شہر میں جس بُت کی غلامی کی ہے
تم اسی بُت کی گواہی میں بلاؤ پتھر
یہ مرے شہرِ خموشاں کا ہے دستور عجب
جو کوئی لب کو بھی کھولے تو اُٹھاؤ پتھر
میں نے جو سنگ تراشا ہے خدائی کے لیے
آؤ اس بُت کے مقابل کوئی لاؤ پتھر
موت کے بعد مری قبر کے کتبے کے لیے
اُس کی دیوار سے اِک مانگ لے لاؤ پتھر

شازیہ اکبر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے