پُرسہ

پُرسہ
نوشکی!
تیرے صحرائی بچوں کے سینوں کو راحت ملے
خشک سالی مِٹے
سبز آنکھوں میں دو نیل بھر کے
عدن کی یہ پیاسی رُتوں کو میں سیراب کرکے
چلا جاوں گا
غاصبوں نے ہر اک شاخ کاٹی
گھروں کے چبوتر پہ ستھر بچھائے
اذیت کی تکرار سے قوسِ وحشت بنائی
مگر تیرے خانہ بدوشوں کی پیشانیوں پہ نہ بل کوئی آئے
شگوفے ہڑپے کے کھیتوں میں ساون اُگائے
مگر بارشوں کے بھڑولے ترے دشت آنے سے پہلے ہی خالی ہوئے ہیں
بگولوں کی بستی پہ آسیب ہے
نوشکی
تیری بستی کے مستوں کی فریاد
کو
کوئی سُنتا نہیں
جھٹپٹے کے سمے چیختے ہیں سبھی
کوئی چِھکو چڑھانے کو بے تاب ہے
اِن فصیلوں سے باہر یہ گریہ
سُنا جا رہا پے
تری گھاٹیاں، کھیت بھی
میرے پنجاب کی لہلہاتی رُتوں
سے بھرے ہوں
تری خشک سالی کی ساعت مدارِ اذیت کی گھڑیوں سے نکلے
ترے نوجوانوں کے سینے ہرے ہوں
عرفان شہود

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے