سیڑھیوں والا پُل

تاری حسب معمول سورج نکلنے سے پہلے ٹین کی صندو قچی، مٹیالے رنگ کی گٹھڑی اور طوطوں کا پنجرہ اٹھائے شہر کی جانب چل پڑا ۔ جیراں نے اسے آج پھر چائے پیئے بغیرگھر سے نکلنے پر مجبور کردیا تھا۔ ایسا پہلی بار نہیں ہواتھا بلکہ اسے اکثر بِنا ناشتہ کئے دھندے کے لیے نکلنا پڑتا تھا۔
’’ جیراں کو ہزار بار سمجھا یا ہے صبح چولہا جھوکنے کے لئے خشک لکڑیاں دن کو ہی چن لایا کر مگر اس کمبخت کو عین وقت پر ہر شے یا د آتی ہے،کلموہی ………کہیں کی …….جس دن بغیر ناشتے کے بھیجتی ہے …….دن بھر مندہ رہتا ہے ۔ بھلا میں دن چڑھے تک اس کے ناشتے کا انتظار کرتا رہوں تو مانی اورسیدے کے وارے نیارے ہوجائیں ویسے بھی مسافروں کا زیادہ رش تو صبح کی گاڑیوں میں ہوتا ہے ۔ اگر ان میں سے ایک گاڑی بھی چوک جائے تو پھر اپنی فاقوں ہی گزرے گی۔‘‘
وہ انہی سوچوں میں گم خود سے لڑتا ،جیراں کو کوسُتا، مسائل کی گرہیں کھولتا چلا جارہا تھا۔ اس سے پہلے کہ سورج کی رُوپیلی کرنیں شہر کے اونچے نیچے چوباروں کی منڈیروں پر جابیٹھتیں ، تاری شہر میں داخل ہوچکا تھا۔ وہ تیز تیز قدموں سے چلتا ، ہانپتا،کانپتا ریلوے پھاٹک عبور کرنے لگا اور نہ چاہتے ہوئے بھی دور سے ریلوے اسٹیشن کے خالی پلیٹ فارم کی جانب دیکھ کر بجھ ساگیا۔ سات بجے کی گاڑی اسٹیشن چھوڑ کر جاچکی تھی۔ دھوئیں کی ایک لمبی سیاہ لکیر صبح کے دھندلے اور بے رنگ آسمان کو گدلا کررہی تھی۔ تاری کے ذہن پر بھی مایوسی کا دھواں چھانے لگا۔ وہ اسی عالم میں اسٹیشن کی دوسری جانب سیڑھیوں والے پل پر بوجھل قدموں سے چلتے ہوئے اپنے ٹھیئے پر جا پہنچا۔ اس نے دیکھا کہ مانی اور سیدا چٹائیاں ڈالے اپنے ٹھیئے جماچکے تھے اور ان کے اردگرد قسمت کا حال جاننے والے بہت سے حاجت مند بھی جمع ہوچکے تھے۔ دونوں کے مشّاق طوطے بڑی مہارت سے اشارہ پاتے ہی کارڈ اچک رہے تھے۔ مانی اور سید ا تاری کو دیکھتے ہی قسمت کے کارڈوں پر لکھی مخصوص تحریریں اونچی آوازوں میں پڑھنے لگے۔
’’ وقت پر شروع کیا گیا کام کامیابی سے تکمیل پاتا ہے‘‘ ’’ اپنی عاقبت سنوارنی ہے تو دنیا کی فکر چھوڑ دے ‘‘ ۔ ’’ رشک کربُخل نہ کر‘‘ اور ’’محنت کر کامیابی خود چل کر تیرے قدم چومے گی۔‘‘ دونوں نے لگاتار کئی کارڈ پڑھ ڈالے۔
’’ ابے سیدے، دیکھ تیرا شہزادہ آن پہنچا ہے ، لگتا ہے آج پھر جو رُو نے بِن ناشتے کے گھر سے نکالا ہے‘‘ مانی نے تاری پر چوٹ کی اور کِتّھئ دانت نکال کر کھلکھلانے لگا۔
تاری اندر ہی اندر دانت پیس کے رہ گیا ، غصے کے عالم میں ایک بار پھر جیراں کی شبیہہ اس کے ذہن کی سکرین پر گھوم گئی اور وہ منہ ہی منہ میں بڑ بڑا کر رہ گیا۔ اس نے جلدی جلدی صندوقچی او ر طوطوں کا پنجرہ ایک طرف رکھا اور کاندھے سے گٹھ اتار کر کھولنے لگا۔تاری ،مانی اور سیدے کے ٹھیئے پر لوگوں کا ہجوم دیکھ کر مایوس ہوچکا تھا۔ اسے دن کے آغاز پر ہی یہ احساس ہوگیا تھا کہ وہ آج بھی کچھ زیادہ نہ کماسکے گا۔ جس کا بڑا سبب یہ کمبخت جیراں ہوگی۔ وہ چیزیں ادھر ادھر پھیلا کے، پل کا جنگلہ پکڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کا چہرہ غصے اور جھنجھلا ہٹ سے کپکپانے لگا۔
غصے میں بار بار جیراں کا سراپا اس کے ذہن کی سکرین پر گھوم جاتا ۔ اس نے جب سے اپنی مرضی کے ساتھ جیراں سے بیاہ رچایا تھا اس کی بے فکر زندگی میں نحوست اور بے سکونی کا زہر گھل گیا ۔ اب وہ جس کا م میں بھی ہاتھ ڈالتاہے، قسمت کا فیصلہ الٹ نکلتا ہے۔ جب سے بستی چھوڑی ہے جیب میں پھوٹی کوڑی نہیں ٹکتی ۔ بڑی بے برکتی ہے، مجھ سے میرے اماں باوا چھین کر الٹا اپنے نکھّٹو باپ کو بھی میرے سرمنڈھ دیا۔منحوس کہیں کی ، خود تو سدا سے بے گھر تھی، اب مجھے بھی ساتھ لئے لئے پھرتی ہے، کبھی جنگل تو کبھی شہرمیں، زندگی دربدر ہو کر رہ گئی ہے۔
پھر اسے خیال آیا ’’ میں خود تو فٹ پاتھ پر ہوں لیکن دوسروں کو محلوں کے خواب دکھاتا ہوں ۔ میرا اپنا تن من شکستہ ہے لیکن تقدیر کی خوش فہمیوں کے کچے دھاگے سے دوسروں کے تن کو ٹانکتا رہتا ہوں۔ بہت سے لوگ یہ سب کچھ پابھی لیتے ہیں، مگر اے نیلی چھتری والے تو نے میری قسمت کا سہانا اور خوش کن کارڈ کہاں چھپا رکھا ہے ؟ ترس ترس کر اولاد ملی تو وہ بھی محتاج اور معذور، یہ جیراں کمبخت تو ازل سے ہے ہی منحوس جو کسی کی بات پہ کان دھرے ، کوکے والی پڑوسن نے ، اسے بہت پہلے سے سمجھانا شروع کردیا تھا کہ زیادہ وزن نہ اٹھانا ، سنبھل کر چلنا، یوں کرنا ، یوں نہ کرنا ، لیکن سورج گرہن کے دن بھلا دو گا گریں سر پر اور بغل میں لے کر چلنے کی کیا ضرورت تھی ؟ بس اس روز بد بخت ایسی گری کہ خود تو گر کر بچ گئی لیکن میری نسل کی راہ کھوٹی کر گئی ۔‘‘
نحوست کا آغاز تو سویرے سویرے جیراں اور اس کے درمیان ہونے والی نوک جھونک سے ہی ہوگیا تھا……..رہی سہی کسر تاری کے ساتھیوں نے اُس پرپھبتیاں کس کے پوری کردی تھی۔ یہ سب کچھ سوچتے ہوئے اس کے دل کا بوجھ بڑھتا چلاگیا ۔مگر وہ پھر بھی تھوڑی دیر بعد بے یقینی کی کیفیت میں گرفتار اپنا ٹھیہ جمانے میں کامیاب ہوگیا۔
دس فٹ چوڑا یہ ریلوے پل شہر کے دو گنجان آباد حصوں کے درمیان رابطے کا ایک اہم ذریعہ ہے، جس کی اہمیت کا اندازہ پیدل چلنے والوں کو ہی ہوسکتا ہے۔ زندگی روزاپنی تمام تر رعنائیوں اور حشر سامانیوں سمیت پل پر جلوہ گر ہوتی ، جہاں سے ہر طرح کے لوگوں کا گزر ہوتاسفر سے واپس لوٹنے والوں کا بھی اور سفر کیلئے نکلنے والوں کا بھی ۔ تاری لوگوں کے چہرے پڑھتا رہتا، خوش باش اور غم زدہ، مایوس اور پریشان حال، توانا اور کمزور ،ہشاش بشاش اور سوئے ہوئے چہرے اور انہی رنگا رنگ چہروں کے طفیل اسے زندگی متحرک نظر آتی ، وہ ان چہروں کو پڑھ کر ان کے دکھ سکھ اپنے اندر سمو کر اپنے سارے دکھ درد بھول جاتا۔
سرماکا مدہم سورج مشرقی سمت میں دھندلا نقاب اوڑھے تاری کے سامنے تھاوہ سورج کی آنکھوں میں آنکھیں تو ڈال سکتا تھا لیکن اس کی نگاہیں اپنے اس کشمیری طوطے کے سامنے جھکی ہوئی تھیں جسے امرود اور کشمِش کھلانے کو اس کی جیب میں پھوٹی کوڑی تک نہ تھی۔ دونوں چھوٹے طوطے ابھی تک پنجرے سے باہر نہیں آئے تھے جبکہ کشمیری طوطا پنجرے کی چھت پہ بیٹھا پروں میں سردئیے اونگھ رہا تھا۔
’’ امرود کھائے گا……‘‘ دو سا اپنے کالے بدن پر لٹکتی لیروں کے درمیان گلے میں میلا کچیلا تھیلا لٹکائے اس کے سامنے کھڑا رال ٹپکا رہا تھا جو اس کی داڑھی کے بے ہنگم جنگل سے گزر کر چٹائی میں جذب ہورہی تھی۔ اس کے ایک ہاتھ میں ادھ کھایا امرود اور دوسرے ہاتھ میں پکوڑا تھا۔ تاری خشمگیں نگاہوں سے دو سے کو دیکھنے لگا جیسے کہہ رہا ہو’’ دو سے یار مجھ بد بخت سے تو تو سودائی ہی بھلا ہے جو اپنے ساتھ دوسرے کا پیٹ بھی پالتا ہے۔‘‘
’’ اوئے یہ تیرے لئے نہیں ہے۔ میں تو اپنے طوطے یار کے لئے لایا ہوں جو ہر روز میری قسمت کا کارڈ نکالتا ہے ، کبھی تو تاجی مجھ سے شادی کیلئے راضی ہوگی ناں؟‘‘ دو سے نے یہ کہتے ہوئے اپنا ہاتھ کچھ اس انداز سے پیچھے کھینچا کہ تاری جھینپ کررہ گیا۔
ایسے میں ایک مال گاڑی گڑ گڑاتی ہوئی بڑی تیزی سے پل کے نیچے سے گزرگئی تھی جس کی تھر تھر اہٹ پل پر کافی دیر تک محسوس کی جاتی رہی۔ بڑا طوطا جو ابھی تک اپنے پروں میں سردیے اونگھ رہا تھا۔ گاڑی کا شور سن کر پروں سے باہر آگیا اور دو سے کے ہاتھ میں امرود دیکھ کرٹیں ٹیں کرنے لگا۔ دو سے نے بڑی آہستگی کے ساتھ جھک کر ادھ کھایا امرود طوطے کے سامنے رکھ دیا، وہ جو نہی چلنے کے لئے سیدھا ہوا اس کے تھیلے سے دو امرود لڑھک کر تاری کے سامنے پھیلے ہوئے قسمت کے ملگجے لفافوں پر آرکے۔دو سا پلٹا، تاری سمجھا شاید وہ اپنے امرود اٹھائے گا مگر دو سا اس کے سامنے دو زانو ہوکر بیٹھ گیا اور بے شمار پھیلے ہوئے لفافوں میں سے ایک لفافہ اٹھایا اور تاری کی جانب بڑھاتے ہوئے بولا’’ میرا لفافہ کھول ناں، کیا کہتا ہے ؟‘‘ دو سے کی رال اب لفافے پر گررہی تھی،تاری لفافے سے کارڈ نکال کر پڑھنے لگا، لکھا تھا ’’ تو سخی ہے اور سخی کا ہاتھ اور دل دونوں کشادہ ہوتے ہیں۔ سبھی ان سے فیض پاتے ہیں‘‘ دو سا یہ سن کرہی ہی ہی ……….ہی ہی ہی کر کے دانت نکالنے لگا پھر بولا ’’ تیرے سارے لفافوں میں جھوٹ بھرا ہے ۔ تو خود بھی جھوٹا ہے اور تیرا کاروبار بھی ۔‘‘دو سایہ کہتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔طوطا ایک امرود ختم کر کے دوسرے کو پکڑنے کے لئے ادھر ادھر دوڑتے ہوئے لفافوں کی ترتیب خراب کرنے لگا تھا۔ تاری کا دل بیٹھا جاتا تھا۔ دو سے کی باتوں پر کبھی کبھی اسے سچ کا گمان ہونے لگتا ۔ وہ پل کے دوسرے کنارے تک لوگوں کی بھیڑ میں گم ہوتے ہوئے دو سے کو دیکھتا رہا۔ اس کی نظر ذرا سی پھسلی تو سامنے سے آتے ہوئے ایک نوبیا ہتا جوڑے نے اس کی نگاہوں کو جکڑلیا ۔ جنہیں زرق برق لباس میں دیکھ کر لمحہ بھر کے لیے تاری کو اپنی شادی کا دن یاد آگیا …….لیکن اس جوڑے کے الہٹرپن، اطراف سے بے گانگی اور شان بے نیازی کی چال نے تاری کو اپنے خرابے میں نہ بھٹکنے دیا۔ وہ دونوں اس کے ٹھیئے کے سامنے سے گزرنے لگے’’ ہائے اللہ شانی! دیکھو کتنا پیارا طوطا ہے‘‘ لڑکی نے نوجوان کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا تھا۔
’’فال نکالوں میم صاحب؟‘‘ تاری نے لڑکی کی دلچسپی بھانپ کر لڑکے کے جواب کا انتظار کئے بغیر طوطے کو اشارہ کیا، طوطے نے اپنے مخصوص انداز سے لفافہ نکال کر تاری کے سامنے ڈال دیا۔ تاری نے دونوں کا انہماک دیکھتے ہوئے کارڈ نکال کر انہیں تھما دیا۔’’ زندگی ایک سفر ہے جس میں لوگ ملتے ہیں، بچھڑجاتے ہیں‘‘ نوجوان نے کارڈ کی تحریر فلمی گانے کی طرح گنگناکر لڑکی کو سنائی۔ تو وہ مسکرادی اور پانچ کا نوٹ تاری کی طرف بڑھا کر چل دی۔
’’ یار لگتا ہے نویں نویں شادی ہوئی ہے دونوں کی ‘‘ نور محمد داندان ساز نے ایک ادھیڑ عمر شخص کی داڑھ کو چمٹی سے پکڑ ے پکڑے رائے دی۔ تاری خاموشی سے اپنے بکھرے ہوئے لفافوں کو ترتیب دینے لگا۔ گویا یہ بکھرے ہوئے لفافے نہ ہوں بلکہ وہ اپنے آپ کو سمیٹ رہا ہو۔
’’ او پیر و جلدی سے دو چاہ لے آ‘‘ نور محمد نے قریب سے گزرتے ہوئے ہوٹل والے چھوٹے کو ہانک لگائی۔
’’ ستار لگتا ہے آج صبح پھر تجھے چائے نہیں ملی، اس لئے تیرا موڈ خراب ہے ، اور تو نے کوئی بات بھی نہیں کی ‘‘ نور محمد نے کسی واقف حال کی طرح تجزیہ کیا۔
’’ نہیں چاچا، ایسی تو کوئی بات نہیں بس آج ذرا طبیعت کچھ سست ہے‘‘ تاری نے ٹالتے ہوئے جواب دیا۔ تھوڑی دیر میں چائے آگئی وہ دونوں باتیں کرتے ہوئے چائے پینے لگے ۔ اس دوران تاری کبھی کبھی نور محمد سے نظریں بچا کر سیدے اور مانی کے ٹھیئے کی طرف بھی دیکھ لیتا تھا، وہ محسوس کررہا تھا کہ انہیں صبح سے سر کھجانے کی بھی فرصت نہیں۔ تھوڑی دیر بعد دو منچلے قسم کے نوجوان بڑی بے فکری سے بغل میں کتابیں دابے اٹکھیلیاں کرتے ،گنگناتے ، اس کے سامنے سے گزرے اور چند قدم آگے جاکر کھسر پھسر کرتے واپس آگئے ۔ ابھی وہ دونوں تاری کے ٹھیئے، کے سامنے بیٹھنے بھی نہ پائے تھے کہ طوطے نے امرود کو ایک طرف لڑھکا کر چٹائی پر پھیلے لفافوں کے اوپر ایک شان سے چکر کاٹا اور ایک لفافہ اچک کر تاری کی گود میں ڈال دیا۔ ایک لڑکے نے لفافہ سے کارڈ نکالا اور پڑھنے لگا۔
’’ زندگی اک کمرہ امتحان ہے محنت کرو گے تو کامیابی پاؤگے۔‘‘
’’ اوہ یا ر نومی ایک تو قدم قدم پریہ امتحان سکھ کا سانس نہیں لینے دیتے ، میں تو بالکل تنگ آگیا ہوں یا ر……..‘‘ یہ سن کر اس کا ساتھی قہقہہ مار کر ہنسا ’’ دیکھو نہ یار گھر جاؤ تو اماں باوا کی نصیحتوں کے انبار، سکول میں یہ موٹی موٹی کتابیں منہ چڑاتی ہیں اور اوپر سے امتحانوں کا بھوت ہے کہ رات بھر سونے نہیں دیتا…….
ارے او بھائی قسمت والے ! خدا را کوئی ایسا گربتاجس سے کچھ پڑھے بغیر دنیا کی ساری کتابیں یاد ہوجائیں‘‘ اب کے وہ لڑکا تاری سے براہ راست مخاطب تھا، تاری کچھ دیر بڑی بے بسی سے اس کی طرف خالی خالی نظروں سے دیکھتا رہا پھر بولا۔
’’ باؤ جی ! کیوں مذاق کرتے ہو، بھلا، بِنا پڑھے بھی علم آیا ہے کسی کو ؟‘‘ لڑکا یہ سن کر سنجیدہ ہوگیا…….کچھ دیر سامنے پھیلے گرد سے اٹے لفافوں کو غور سے دیکھتے اور دانتوں سے ناخن کاٹتے رہنے کے بعد اس نے تاری سے ایک لفافہ اور نکالنے کی فرمائش کی۔ تاری کا اشارہ پاتے ہی طوطے نے سامنے پھیلے لفافوں میں سے ایک لفافہ نکال کر الگ ڈال دیا، لڑکے نے کارڈ نکال کر پڑھنا شروع کیا۔
’’ اپنے آپ کو بزرگو ں سے بڑا اور سیانا سمجھنا چھوڑ دے ان کی خدمت کیا کر فیض پائے گا۔‘‘
لڑکے نے بغیر بولے پینٹ کی جیب سے دو روپے نکال کر تاری کی طرف بڑھائے اور اپنے ساتھی کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھ گیا۔ تاری انہیں پل کے دوسرے کنارے تک جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ سامنے سے فرید احجام اپنی انگیٹھی اور صندوقچی لہراتا اس کے پاس آن کھڑا ہوا۔
’’او میں کیا ستار باؤ تین دن سے شیو نہیں بنوایا ، لگتا ہے آج کل مند اجارہا ہے۔‘‘ فریدے نے صندوقچی کھٹکھٹا کر تاری کو متوجہ کرتے ہوئے کہا۔
’’ لے فرید یارتو بھی کیا یاد کرے گا، ذرا ادھر آ اور ولایتی کریم والی گرما گرم شیو بنا، اُدھر تو طوطوں کی بجائے الّو بول رہے ہیں‘‘ ابھی تاری کچھ کہنے بھی نہ پایا تھا کہ سید رسول نے فریدے کو آواز دے کر اپنے ٹھیئے پر بلا لیا زور سے بولنے کا مقصد تاری کو تنگ کرنے کے علاوہ اور کچھ نہ تھا۔ اتنے میں پل کے دوسرے سرے پر بیٹھے کیسٹوں والے شادے نے ٹیپ ریکارڈ ر کی آواز تیز کردی ۔ گانے کے تیز سروں سے متاثر ہو کر سید رسول نے فریدے کی انگیٹھی سے سگریٹ سلگا یا اور ایک لمبا کش لے کر گانے کا لطف لینے لگا’’ یا ر جلدی کر فریدے تو تو دیہاڑی ڈال کے بیٹھ گیا ہے ، گاڑی سر پر آن پہنچی ہے۔‘‘ تھوڑی دیر بعد سید رسول نے اچانک دس بجے والی ٹرین کی وسل سن کر کہا۔ فرید حجام نے جلدی جلدی ہاتھ چلایا بالشت بھر لمبے تو لیے سے جھاگ صاف کر کے ریزگاری جیب میں ڈالی اور سامان سمیٹ کر آگے چل پڑا۔
دس بجے کی ٹرین وسل بجاتی برق رفتاری سے پل کے نیچے سے گزر گئی۔ تاری نے گردن موڑ کر ریلوے اسٹیشن کی جانب دیکھا جہاں پر سکون پلیٹ فارم پر ایک دم ہل چل سی مچ گئی تھی۔ ساتھ ہی اس کے دل کی دھڑکنیں بھی تیز ہوگئیں ۔ کچھ ہی دیر بعد پل پر آنے جانے والوں کا رش بڑھنے لگا…….گاہگوں اور خوانچہ فروشوں کی تکرار سے کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ رنگین شیشوں کے چشمے بیچنے والی پٹھان لڑکی کے پاس حسب معمول رش بڑھتا جارہا تھا اس کا ننھا سا بھائی اپنے بوسیدہ دامن سے عینکوں کے شیشے والے بکس کو بار بار چمکائے جارہا تھا۔ کیسٹوں والا گاہکوں کی فرمائش پر تیز ی سے کیسٹ بدل رہا تھا۔ پان سگریٹ والا کبھی فارغ نظر نہ آتا تھا۔ چاہے اسٹیشن پر گاڑی آئے یا نہ آئے۔
تاری کو بھی کچھ دیر بعد آگے پیچھے کئی گاہک ملے جن میں نوجوانوں کی تعداد قدرے زیادہ تھی۔ اکثر نوجوان لفافوں کی تحریروں کے علاوہ اپنے امتحان ، شادی ، عشق و محبت میں کامیابی کے بارے میں سوالات پوچھتے جنہیں تاری عامل بابا کے پاس جانے کا مشورہ دیتا ۔ بابا کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ علمِ نجوم کے علاوہ کالے جادو کا توڑ بھی جانتا ہے۔ اس کے پاس کوئی حاجت مند نہ بھی ہوتا وہ پھر بھی ناک پر نظر کے موٹے سبز شیشوں والی عینک رکھے ہر وقت اپنے حساب کتاب میں مشغول نظر آتا ۔
دوپہر تک تاری نے اتنے پیسے کمالئے تھے کہ اب اس کی پژ مردگی دھیرے دھیرے کم ہونے لگی تھی۔اب تاری اپنے لئے دال چاول کا آرڈر دینے کے ساتھ ساتھ ، طوطوں کے لئے کشمکش بھی لے آیا تھا۔ پل کا رش ویسے کا ویسا ہی رہا۔ اِکّا دُکا گاہک آتے جاتے رہے۔ اسٹیشن اور بازار میں کام کرنے والے مزدور جو پل بھر کو سستانے اور دھوپ سینکنے پل پر آجاتے تھے اب ان میں سے اکثر جنگلے پر لٹکتے بورڈوں کو پڑھتے اور آگے بڑھ جاتے ۔ بہت سے فارغ لوگ طوطے کے با ر بار کارڈ اُچکنے کا تماشا دیکھتے رہتے ۔ ایسے میں پاگل دوسا ایک کتے کو روٹی کا ٹکڑا دکھاتے ہوئے بڑی تیزی سے دوسری جانب گزر گیا۔ اسے دیکھ کر تاری کو اچانک خیال آیاکہ وہ صبح پریشانی کے عالم میں اپنا اور طوطے کی قسمت کا کارڈ نکالنا ہی بھول گیا ہے۔ اس نے جلدی سے طوطے کو اشارہ کیا جو دوسرے طوطوں کے پنجرے کی چھت پر کھیل رہا تھا۔ پہلا کارڈ اس نے طوطے کے نام کا نکلوایا جس پر لکھا تھا۔
’’ تو لوگوں میں خوشیاں بانٹتا ہے اوروں کے لئے جیتا ہے تیری عمر لمبی ہوگی۔‘‘ کارڈ پڑھ کر تاری کا جی خوش ہوگیا۔ اسے کارڈوں پر لکھی تمام تحریریں زبانی یاد تھیں۔ اسے یہ بھی احساس تھا کہ یہ کارڈ بہت ہی کم نکلتا ہے۔ اس نے جلدی جلدی وہ کارڈ دوسرے کارڈوں میں ملایا۔ اب اس نے طوطے سے اپنے نام کا کارڈ نکلوایا ۔ تاری نے لفافہ کھولا ۔ تو یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا پھر وہی کارڈ تھا جو تھوڑی دیر پہلے طوطے نے اپنے لئے نکالا تھا۔
اب تاری ذرا سوچ میں پڑ گیا۔ اسے زندگی کے تھکے ہارے، غم زدہ اور مفلوک الحال انسانوں میں قسمت کی خوش فہمیاں بانٹتے ہوئے سات سال ہوچلے تھے۔ بڑے طوطے کی عمر بھی لگ بھگ چار سال تھی لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ بار بار ایک ہی کارڈ نکلے اس نے یہ سب کچھ سوچتے ہوئے بے اختیاری میں نظریں اوپر اٹھائیں تو آسمان پر چیل کوؤں کے ساتھ چھوٹے بڑے رنگ برنگے اونچے نیچے پتنگ آنکھ مچولی کھیل رہے تھے۔ اس نے بے خیالی میں مانی اور سیدے کی ٹھیئے کی طرف دیکھا۔ وہ دونوں بھی تاری کی طرف دیکھتے ہوئے کھانا کھارہے تھے۔ مانی نے اسے کھانے میں شامل ہونے کا اشارہ ہی کیا تھا کہ ہوٹل والا چھوٹا تاری کے لئے بھی کھانا لے آیا۔ نور محمد کھانا گھر سے لایا کرتا تھا، وہ دونوں بھی مل کر خاموشی سے کھانا کھانے لگے۔
سہ پہر ہونے کو تھی لیکن سورج ابھی تک اپنے گِرد پھیلی ہوئی دھند کو ہٹانے میں کامیاب نہ ہوسکا تھا۔ فضا میں عجیب طرح کی مردنی چھائی ہوئی تھی ۔ تاری چائے پیتے ہوئے سوچنے لگا کہ اگر دو بجے اور پھر چار بجے کی گاڑی سے بھی بہت سے گاہک مل گئے تو آج کا دن اس کے لئے خوش قسمت ثابت ہوسکتا ہے ۔ یہ سوچ کر اس نے اپنے طوطوں کی طرف پیارسے دیکھا ۔ بڑا طوطا حسبِ عادت جنگلے کے تاروں کو پنجوں اور چونچ کی مدد سے پکڑتے ہوئے اوپر چڑھنے کا پسندیدہ کھیل، کھیل رہا تھا۔ دوسرے طوطے مونگ پھلی اور میوے سے سیر ہو کر ایک طرف کھڑے کھڑے اونگھ رہے تھے، کیا ہی اچھا ہوا گر یہ دونوں طوطے بھی کارڈ اٹھانا سیکھ لیں۔ تاری نے لمحہ بھرکو سوچا۔
’’ یار! تاری یہ دو بجے والی گاڑی آج لیٹ نہیں ہوگئی ؟ ‘‘ سید رسول نے حقہ گڑگڑاتے ہوئے اسے مخاطب کیا۔ تاری نے جنگلے کی دوسری جانب پھیلے ہوئے پلیٹ فارم کی طرف دیکھا جہاں اِکادُ کا لوگ آجارہے تھے۔ باقی پلیٹ فارم پر سکون تھا۔ البتہ مال والے پلیٹ فارم پر ایک کالا دُھت انجن مال گاڑی کے کچھ ڈبوں کو کافی دیر سے اِدھرُ ادھر کررہا تھا۔
’’ چاچا نور محمد، ذرا ٹائم تو بتانا ‘‘ تاری نے جمائی لے کر پوچھا۔
’’ اوئے کیا بات ہے لگتا ہے، دو بجے کی گاڑی سے تیری کوئی خاص مہمان آنے والی ہے، بھائی وہی کل والا ٹائم ہے‘‘…..نور محمد کے مذاق کو محسوس کر کے تاری دن بھر میں پہلی بارمسکرادیا۔
’’ اچھا یار ناراض کیوں ہوتے ہو دو بج کر بیس منٹ ہونے والے ہیں۔‘‘ نور محمد نے چھانٹے سے اپنے سامنے دھرا بورڈ جھاڑتے ہوئے کہا۔
’’ چاچا مہمان تو ہمارے کیا آئیں گے، لگتا ہے یہ کر موں والی گاڑی واقعی آج لیٹ ہو گئی ہے ‘‘ تاری بولا۔
’’ ارے بھائی ! گاڑی کا دیر سے آنا تو روز کا معمول ہے کوئی نئی بات تھوڑی ہے؟‘‘ نور محمد نے ہنس کر کہا۔
’’ لو وہ آرہی ہے تیری دو بجے والی شہزادی ‘‘ مانی خوشی سے چلایا۔
تینوں پلیٹ فارم کی جانب متوجہ ہوئے ، گاڑی واقعی اسٹیشن کی حدود میں داخل ہوچکی تھی۔ گڈو جو تھوڑی دیر پہلے پل پر کھڑے کھڑے پتنگ اڑا رہا تھا اس کی پتنگ لمحہ بھر کو ہوا تھم جانے سے بجلی کے اونچے تاروں میں الجھ کر رہ گئی تھی۔ اس کا بھائی منہ میں پان کی گلوری لیے اسے ڈانٹنے لگا۔
دو بجے کی گاڑی اسٹیشن پر آنے سے گھنٹہ بھر کے لیے خوب رونق رہی۔ آنے جانے والوں نے پل کی رونق کو دوبالا کیے رکھا۔ اب تاری کے ذہن سے مایوسی اور نا امیدی کا غبارچھٹ چکا تھا ۔ وہ خوش تھا کہ آج اس نے اچھی دیہاڑی بنالی تھی۔ اس نے سوچا کہ آج وہ اپنے غفار کے لیے مُرلی بھی لے جائے گا جو شیدے کے ہاتھ میں مرلی دیکھ کر تین دن تک ضد کرتا رہا تھااور اس لیے بھی خوش تھا کہ صبح اس کی جیراں سے لڑائی ہوئی تھی لیکن دنداسے والی فرمائش پوری کر کے وہ اسے بھی منالے گا اور ہاں یا د آیا جیراں کے ابا کا گڑ و الا تمباکو بھی تو ختم ہوگا…….اس وقت اتفاق سے ٹھیئے پر قسمت کا حال جاننے والا کوئی نہ تھا۔ دونوں طوطے آزاد فضا سے اکتا کر اپنے مانوس پنجرے میں چلے گئے تھے۔ بڑا طوطا ادھ کھائے امرود کو اِدھر اُدھر لڑھکاتے ہوئے کھیل رہا تھا۔ آہستہ آہستہ فضا کی خنکی میں اضافہ ہوتا جارہا تھا اس نے کشمیری طوطے کی جانب پیارے دیکھا اور جیب ٹٹولتے ہوئے اپنے دائیں ہاتھ بیٹھے سُرما اور دنداسہ بیچنے والے کی طرف چلا گیا ۔
’’ کیا بات ہے تاری صبح تیرا موڈ بہت خراب تھا اور اب تو بڑی خرید اریوں میں لگا ہے ، لگتا ہے آج جُو رو کو دانداسہ دے کے منانا ہے۔‘‘ مانی نے جیسے اس کے دل کا چور پکڑلیا ہو ، تاری مسکرادیا۔
’’ ہاں بھئی! خریداریاں کیوں نہ کرے آج اس نے دیر سے آکر دیہاڑی جو تگڑی بنالی ہے ۔‘‘ سید رسول نے لقمہ دیا۔
اچانک شور بلند ہوا’’ ابے تاری وہ دیکھ…..مار دیا کالی بلی نے تیرے طوطے کو ……..بھاگو………بھاگو پکڑو پکڑو……..وہ رہی ……..بھاگو پکڑو‘‘ مانی پوری قوت سے چلائے جارہا تھا اور بلی کی طرف ایک ساتھ کئی لوگ لپکے۔ تاری سب کچھ چھوڑ کر دیوانہ وار بلی کے پیچھے بھاگا، بلی اس کا طوطا منہ میں دبائے چھلانگیں لگاتی سیڑھیاں اترنے لگی۔ سیڑھیوں پر پیر پسارے کیلے کھاتے دو سے نے بھی صورت حال کو بھانپ کر بلی کے آگے اپنی ٹانگوں کی رکاٹ کھڑی کی لیکن اس کا ایسا کرنا بے سود گیا۔ تاری ماہر شکاری کی سی تیزی سے سیڑھیاں اترنے لگا۔ پھر نہ جانے آناً فاناً کیا ہوا تاری کا پاؤں پھسلا اور وہ بازار کو جاتی ہوئی سیڑھیوں پر لڑھکتا ہوا نیچے جاگرا۔ چار بجے والی گاڑی ایک دہشت ناک چیخ کے ساتھ پل کے نیچے سے گزر گئی ۔ تاری کی چیخ ریل گاڑی کے بے ہنگم شور میں ڈوب کر سرد ہوگئی ۔
سیڑھیوں کے نیچے بازار کی سمت جم غفیر کے درمیان تاری ایک میلی سی خون آلود چادر تلے زندگی کی تمام تر فکروں سے آزاد ہو کر پر سکون پڑا تھا۔ تاری کی خریدی ہوئی مرلی اور دنداسہ پل پر بھگدڑ میں پل پرکچلے گئے تھے۔ تاری کے ٹھیئے کے پاس کچھ پولیس والے جائے حادثہ کا معائنہ کرنے کے بعد روتے ہوئے سیدے اور مانی کا بیان لکھ رہے تھے۔ سیڑھیوں والا پل جو کچھ دیر پہلے زندگی کی بھر پور علامت تھا، اس پر ہونے والا کاروبار اب تاری کے جسم کی مانند سرد ہو چکا تھا۔
خوانچہ فروش، تھڑے والے اور مزدور تاری کی نعش کے قریب غمزدہ اور خاموش کھڑے تھے۔ دو سا تاری کے ٹھیئے پر بے ترتیبی سے پھیلے خوش فہمیوں سے لتھڑے میلے کچیلے لفافوں سے کارڈ نکال نکال کر ادھر ادھر بکھیرتے ہوئے بار بار کہے جارہاتھا۔ ’’ یہ سب کچھ جھوٹ ہے ……… دھوکہ ہے ……… فریب ہے ……… ‘‘ پنجرے کے ایک کونے میں دونوں طوطے ابھی تک سہمے ہوئے تھے۔ دو سے کے پھٹے ہوئے جھولے سے جھانکتے ہوئے کیلے کے چھلکے تاری کی موت کی چغلی کھارہے تھے۔ اداس اور سرد شام آہستہ آہستہ اپنا آنچل پھیلانے لگی۔ بازار میں تاری کی نعش کے ارد گرد کھڑے ہجوم کے عقب میں کالی بلی ایک ٹھیلے کے نیچے بیٹھی ہونٹ چاٹ رہی تھی۔
حمید قیصر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے