پریشر ککر، دھواں اور خواب

پریشر ککر، دھواں اور خواب

“کیا ہم کتوں سے بھی بدتر ہو گئے ہیں؟ ”
یہ عاشر عظیم کے ڈرامہ” دھواں “میں کہا گیا ایک ڈائیلاگ ہے؛
” کتا، دو چیزوں کے لئے لڑتا ہے ایک ہڈی اور دوسرا گھر کی حفاظت کے لئے،تو کیا اب ہم کتوں سے بھی بدتر ہو گئے ہیں؟ ”
نوجوانی کے دنوں میں دیکھا گیا یہ ڈرامہ اور عاشر عظیم کا امیج ذہن میں آج بھی نقش ہے۔ اس ڈرامے کا مرکزی خیال برائی کے خلاف لڑائی تھا، 1994میں یہ ڈرامہ لکھنے والا عاشر، 2013میں جب فلم مالک لکھتا ہے تو تب بھی یہی خیال اس پر غالب رہتا ہے۔
ائیرونوٹیکل انجئینرنگ سے اپنے کئیرئیر کا آغاز کرنے والا جب سی ایس ایس (سول سپئیرئیر سروسز) کا امتحان اعلی نمبروں سے پاس کر کے کسٹم آفیسر بن گیا تو حقیقی زندگی میں بھی ان کا مرکزی خیال برائی کے خلاف آواز بلند کرنا ہی رہا۔
عاشر عظیم کی نہ توشکل و صورت غیر معمولی حسین ہے اور نہ ان کا کوئی بیک گراؤنڈ ایسا چونکا دینے والا تھا کہ وہ آتا اور بس چھا جاتا مگر ہوا یہی وہ آیا اور چھا گیا۔۔ “دھواں “لکھنے والے نے دھویں کی کالک یا بو نہیں بلکہ اپنی ذات سے اردگرد خوشبو پھیلانی چاہی تھی۔ ان کی آنکھوں کی چمک میں ذہانت کے ایک علاوہ ایک اور پیغام اس وقت بھی نظر آتا تھا؛
“یہ میرا ملک ہے اور میں اس کا مالک ہوں، ہر اس شہری کی طرح جس کا خون پسینہ اس ملک کو بنانے میں شامل رہا تھا، رہا ہے اور رہے گا۔۔ “۔۔ سرکاری افسر بن کر بھی ان کا یہ پیغام ان کی آنکھوں کی چمک سے چھلکتا رہا۔
کوئٹہ سے کراچی اور کر چی سے کینڈا میں آکر بس جانے والا عاشر،صرف ایک فرد نہیں بلکہ ہم جیسے کتنے ہی افراد کا نمائندہ ہے جو پاکستان سے انتہائی محبت کے باوجود پاکستان کو چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ وقت فیصلہ آپ کے سامنے آکر لا رکھتا ہے۔۔ کرو یا نہ کرو۔۔ رابرٹ فراسٹ کی نظم وہ راستہ جو اختیار نہ کیا گیا ۔۔ ہم سب کی زندگی میں ایک سڑک ہے جو ہم پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔۔
کوئی لاہور کی گلیاں کوئی کراچی کی،کوئی پشاور کی اور کوئی کوئٹہ کی اپنے پیچھے چھوڑ آیا ہے۔ بیرون ملک آنے والی اکثریت ایسے لوگوں کی ہی ہے جو محض دولت یا اعلی معیار ِ زندگی کے لئے نہیں بلکہ وہ اس جھوٹ، منافقت،خوشامد اور کرپشن کے نظام سے بچنے کے لئے باہر کے ملکوں میں آبسے ہیں۔
عاشر عظیم کے خلاف جو نیب کی انکوئری ہوئی تھی وہ غلط ثابت ہو ئی۔ ہوتا کچھ یوں ہے کہ وہ چھٹیاں گزارنے کینڈا آتے ہیں کہ پیچھے سے کوئی انکوائری شروع ہوجاتی ہے۔ اور وہ یہ شکر نہیں کرتے کہ شکر ہے کہ میں کینڈا میں ہوں بلکہ وہ واپس جا کر انکوائری کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ سچے انسان کی پہچان ہے، یہ نڈر اور خوش فہم انسان کی بھی پہچان ہے کہ ایسے ملک میں انکوائری کے لئے حاضر ہو جانا جہاں جھوٹے میڈیکل سرٹیکفیٹ سے لے کر جھوٹی پوسٹ مارٹم رپورٹ تک بن جا تی ہے۔ جہاں پولیس سے لے کر چپڑاسی تک سب بک جاتے ہیں۔۔ جہاں ہر مال ملے گا دو دو آنے۔۔ عزت بھی، غیرت بھی، وقار بھی اور ایمانداری بھی۔۔۔ سب قابل ِ فروخت میں ایک ناقابل ِ فروخت سینہ تان کر پہنچ جائے اور کہے؛” لو میں آگیا ہوں کرو میری انکوئری۔۔”اور پھر اس میں سے سچا ثابت ہو کر نکل بھی آئے یعنی جلتا کوئلہ منہ میں رکھ لے اور تالو بھی نہ جلے۔ اپنے دامن پر لگے سارے داغ دھوئے (ہم یہاں،کئی ایسے مفروروں کو جانتے ہیں جو آج بھی پاکستان سے پینشین لے رہے ہیں، پاکستان کے خلاف دل میں نفرت رکھے،پاکستان کا کھا رہے ہیں مگر واپس جانے اور اپنے آپ کو سچا ثابت کر نے کی ہمت نہیں رکھتے)۔۔ اس رزق سے موت اچھی۔۔۔ کہنا آسان کرنا مشکل۔۔مگر عاشر عظیم یہ پل صراط طے کر کے آج ہمارے ساتھ کینڈا میں موجود ہے۔ اپنے آپ کو سچا ثابت کر کے وہ پاکستان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھوڑ آئے۔
ان کی کہانی سن کر مجھے لگا پنجاب بنک کو چھوڑنے، لاہور کو چھوڑنے اور پاکستان کو چھوڑنے کا غم جیسے ہلکا ہو گیا ہو۔۔ جیسے دو دکھ ایک جیسے ہوں، تو ایک جیسا ماتم کر کے دل کو سکون مل جاتا ہو۔ہر دوسرا انسان یہ طعنہ مارتا نظر آتا تھا کہ پاکستان کی اب جان چھوڑ دو۔۔ پاکستان کے لئے لکھنا ہی کیوں، اس کے لئے کچھ سوچنا ہی کیوں۔۔ ہم پاکستان سے پاکستان کے نظام سے تنگ آکر نکلنے والوں میں سے ہیں۔۔ میں محض 23 سال کی عمر میں بنک میں گریڈ ۲ آفیسر بھی بن چکی تھی (اپنی محنت، پڑھائی اور ایمانداری سے میں یہاں تک ہی جا سکتی تھی) بنک کی کر سی کا، اسکی عزت کا، عام لوگوں کے سلام کا، ان کے کام کرنے کا، ان کے کام آنے کا اپنا ایک نشہ تھا، جو باہر کے کسی ملک میں نہیں مل سکتا تھا، مگر جب دیکھا کہ اب ترقی کا راستہ میری عزت ِ نفس، عزت اور ٹیلنٹ کی بنیاد پر طے نہیں ہو نے ولاتو تھک ہار کر اپنے شوہر کو کہا چلو اب یہاں سے کوچ کر ہی جاتے ہیں، جو خود بھی انتہائی ذہین ہو نے کے باوجود اپنے سے کم پڑھے لکھوں کو آگے جا تا دیکھ کر مجھ سے کہیں پہلے اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ وہ اس سسٹم کا ایک ناکارہ پرزہ بن کر ایک ہی جگہ سالوں تک فریز رہیں گے۔مگر میں جو سسٹم میں ابھی ابھی داخل ہو ئی تھی،اپنی قابلیت پر نازاں تھی مگر فیصلے کی گھڑی مجھ پر جلد ہی آکھڑی ہو ئی جب سفارش سے آئے لوگوں کو اپنے ساتھ کھڑے دیکھا، اپنے سے آگے نکلتے دیکھا، اور خود کو بار بار ٹرانسفر کی سولی پر چڑھتے دیکھا کہ نہ خوشامد کرنا آتی تھی اور نہ جھوٹ پر پردہ ڈالنا یا جھوٹ کو مینجر کے کہنے پر سچ کہنا آتا تھا۔ توتقدیر میں اپنے پیارے ملک سے ہجرت لکھ دی ۔۔
کسی اور کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتی لیکن اگرمیں نا انصافی اور فریب کے نظام میں رک جاتی تو خود کشی یا پاگل خانہ میرا مقدر ہو تا، اس کا مجھے کامل یقین ہے۔
عاشر عظیم، میرے سے بھی بڑی پوسٹ کو لات مار کے آئے ہیں اور یہاں کینڈا میں مجھ سے ذیادہ مشکل زندگی گزار رہے ہیں کہ ہم یہاں ذرا اس عمر میں آگئے کہ ہم میں سے ایک بھی اپنی ڈگریاں اپ ڈیٹ کر لیتا تو مشقت کم ہو سکتی تھی، جو کہ ہو گئی ہے۔۔عاشر نے پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ شائد پاکستان کو بہت ذیادہ آزمانے کے بعد کیا اور اب وہ اور ان کی بیگم صاحبہ یہاں ٹرک ڈرائیوری کر کے اپنے بچوں کو وہ رزق ِ حلال کھلا کر رہے ہیں جو پاکستان میں کھلانا نہ صرف مشکل ہوگیا ہے بلکہ حلال کمانے میں اس حلال دیس میں دشواریاں اتنی ہیں کہ حساس اور انصاف پسند انسانوں کو نچوڑ دیں۔
پاکستان میں اب عاشر عظیم جیسے لوگ(آفیسرز) گنے چُنے رہ گئے ہیں۔صدیق سالک کا ناول پریشر ککر جس میں برائی کو برائی کہنے والا،اس کے خلاف لڑنے اور بولنے والا ہیرو، عاشر عظیم ہی تو ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ عاشر پاگل ہو کر جنگل کی طرف نہیں بلکہ کینڈا کی طرف نکل آئے ہیں،یہ اور بات ہے کہ ملک سے محبت کر نے والوں کے لئے ملک سے دور ہو کر کسی بھی جگہ رہنا ایسا ہی ہے جیسے وہ کسی جنگل بیابان میں آبسے ہوں۔۔ جہاں کے رہنے والے چرند پرند ان سے نا آشنا ہیں۔
“دھواں ” کے ہیرو بھی عاشرعظیم ہی ہیں، ڈرامہ میں بھی اور حقیقت میں بھی کہ ان کے اندر آج بھی پاکستان سے برائی ختم کرنے کا جذبہ موجود ہے۔ وہ اب کہتے سنائی دیتے ہیں کہ وہ پاکستان میں تبدیلی کے نام سے مایوس ہو چکے ہیں،مگر ایسا کہتے ہو ئے بھی ان کی آنکھیں ان کا ساتھ نہیں دیتیں۔۔ آنکھوں میں آج بھی وہی چمک ہے وہی، “دھواں ” والی, دوستوں کے ساتھ مل کر برائی کو ختم کر نے والی چمک۔۔فرق یہ ہے کہ اب نفسا نفسی، بے حسی اور خود غر ضی کے اس دور میں ملک سے محبت کر نے والے بھی برائے نام ہی رہ گئے ہیں۔ ملک سے یا انسانیت سے محبت کی آڑ میں خود کی پو جا کروانے والوں کی بھیڑ ہے۔ اپنے نام کی بلے بلے کروانے والوں کے ہجوم میں آپ کو سچے دوست جوواقعی پاکستان کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں،آٹے میں نمک کے برابر ۔ یہاں اداروں کو ٹھیک کرنے کا کسی کو شوق نہیں کہ درختوں کا پھل آنے والی نسلیں کھائیں بلکہ سب اپنا اپنا پھل اٹھا کرکھانے اور ڈکارنے میں مصروف ہیں۔ سرکاری کرسیوں کو استعمال کر کے اپنے ذاتی تعلقات بنانے اور ذاتی پرستش کروانے والوں کی کثرت ہے اور اپنی مٹی سے خلوص ناپید ہے۔
عاشر عظیم کی فلم مالک سے مجھے ایک یہی اعتراض ہے کہ اس میں برائی کے بارے میں تو حقیقت بتا دی مگر اچھائی کے بارے میں وہی خواب دکھایا جس کی تعبیر پاکستانی نظام میں ہے ہی نہیں۔ مالک فلم میں ہیرو،(عاشر عظیم کے تحت الشعور میں چھپی ازلی خواہش کے مطابق دوستوں کے ساتھ مل کر ایسا گینگ بنا لیناجو برائی کوملکی قانون یا اداروں سے بالاتر ہو کرختم کر دے) نے یہی کام کیا۔۔ حقیقت میں عاشر عظیم کو، اس جیسو ں کو مجھ جیسوں کو ملک سے بے بسی سے بھاگنا پڑتا ہے مگر فلم میں وہ ملک میں رہ کر ایک گروپ بناتے ہیں اور اپنے طور پر بے بسوں کی مدد کرتے ہیں۔۔۔۔۔مالک فلم پر بس مجھے یہی اعتراض ہے کہ یہ” حل” حقیقت سے دور ہے۔۔
حقیقی انجام یہ تھا جو عاشر کا ہوا۔۔ جو عاشر جیسے ایماندار افسروں کا ہوتا ہے۔۔ جو اس سسٹم میں رہ گیا وہ یا تو خود بھی ویسا ہے, یا خود ویسا نہیں بھی ہے مگر ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے یا کم از کم چپ کر کے سہنے کے ہنر سے واقف ہے یا چپ رہتے رہتے بالکل ویسا ہی ہو گیا ہے، اور اسے خود بھی خبر نہیں۔
صدیق سالک کی باورچی خانے کی چھت سے لگی منہ اوپر کو اٹھائے وہ چمنی جو دھواں باہر پھینکتی ہے اور خود کو ہلکا کر لیتی ہے،وہ پاکستان میں کسی حساس،نصاف پسند اور ایماندار بندے کو دستیاب نہیں۔۔ اس لئے کوچ کرنا پڑتا ہے۔ محنت سے بنائے اپنے کئیریز کو اپنے ہاتھوں گنوا کر نئے سرے سے اپنے آپ کو محنت کی بھٹی میں جھونکنا پڑتا ہے۔ مایہ ناز ادیبہ قرۃ العین حیدر کے بھتیجے جلال الدین بھی یہیں ہو تے ہیں کینڈا میں پاکستان کی سول سروس یعنی عیش اور پرستش کی زندگی کو لات مارکر یہاں مزدورں کی طرح تعمیراتی کاموں میں مصروف ہیں۔ وہ بھی کہتے ہیں یہ جسمانی محنت اس کرب کے سامنے کچھ بھی نہیں جو وہاں، اس نظام میں ہمیں اپنی روحوں کو بیچ کر جھیلنا پڑتا تھا۔۔۔
ملک کے گلے سڑے نظام سے تنگ آکر ملک چھوڑنے کا انجام حقیقی ہے، مالک میں دکھایا جانے والا انجام غیر حقیقی ہے۔ عاشر عظیم کو حقیقت سے قریب فلم بنانی چاہیئے تھی اپنے خواب کی تعبیر فلم کی صورت دکھانا ایک اور خواب کو بہت سی کچی آنکھوں میں راستہ دکھانا ہے۔

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے