پُورا خوابوں کا فٙسانہ نہیں ہوتا مُجھ سے

پُورا خوابوں کا فٙسانہ نہیں ہوتا مُجھ سے
کام کوئی بھی شٙہانہ نہیں ہوتا مُجھ سے

یاد رکھنے کا طریقہ نہیں آتا مُجھ کو
بُھول جانے کا بٙہانہ نہیں ہوتا مُجھ سے

بوجھ خُوشیوں کا نہیں مُجھ سے اُٹھایا جاتا
قافِلہ غٙم کا روانہ نہیں ہوتا مُجھ سے

خالی رٙکّھا ہے جو بٙرسُوں سے سُکُوں کی خاطِر
پُر وہ دِل کا مِرے خانہ نہیں ہوتا مُجھ سے

لُوٹتا ہوں تٙو یہ کُچھ اور بھی بٙڑھ جاتا ہے
خٙتم سوچُوں کا خٙزانہ نہیں ہوتا مُجھ سے

کیسا صٙیّاد ہوں ، غٙیروں پہ ہی رٙکھتا ہوں نٙظٙر
اپنے عٙیبُوں کا نٙشانہ نہیں ہوتا مُجھ سے

سٙچ سے مٙیں نے تٙو کئی بار کی تٙوبٙہ کٙیفی !
مُطمٙئِن پِھر بھی زٙمانہ نہیں ہوتا مُجھ سے

محمود کیفی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے