پورا ہو چاند صبح کا تارا تمام ہو

پورا ہو چاند صبح کا تارا تمام ہو
گزریں جو سات دن تو یہ دنیا تمام ہو
پھر ہم بھی ڈھونڈ لائیں گے اپنی طرح کا پھول
پہلے ہمارے باغ کا نقشہ تمام ہو
کب تک میں پھینکتی رہوں شکلیں الاؤ میں
ٹوٹے یہ خواب اور یہ قصہ تمام ہو
میں آگہی میں دور نکل آئی اب کی بار
یہ سوچ کر چلی تھی کہ رستہ تمام ہو
کردار اور کہانی تو رکتے نہیں کہیں
پردہ گرائیے کہ تماشہ تمام ہو
ماتھے کو چوم اور یہ طبیعت بہال کر
آنکھوں میں آ کے بیٹھ یہ گریہ تمام ہو
تجدید قیصر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے