چکوترا ۔ بیماریوں کے خلاف موثر غذا

تھکن اور اضمحلال کا علاج کرنے کے لیے چکو ترے کا استعمال بہت اچھے نتائج دیتا ہے۔ ایک گلا س چکو ترے اور لیموں کا رس برا بر مقدار میں ملا کر لینا اضمحلال اور دن بھر کام کے بعد محسوس ہونے والی تھکن کا فور کر تا ہے
چکوترا، ترش پھلوں میں بہت اعلیٰ مقام رکھتا ہے۔ اس کا ذائقہ اشتہا انگیز اجزا اور فرحت بخش تاثیر اسے یہ اعلیٰ مقام دیتے ہیں۔ اس پھل کی جسامت بعض اوقات بہت بڑی ہوتی ہے ، اس جسامت میں یہ انسانی سر سے بھی بڑا ہوتا ہے۔ چکوترا کی بہت سی قسمیں ہوتی ہیں۔ اس کا گودا ہلکا زرد یا گلابی رنگ کا ہوسکتا ہے ، ا س کا چھلکا پون انچ تک موٹا ہوتا ہے۔

غذائی اہمیت

چکوترا کا پھل غذائیت بخش، مفرح اور ان تمام اجزاء کا مالک ہوتا ہے جو سنگترے یا مالٹے اور لیموں میں پائے جاتے ہیں۔ اس کی ایک قسم میں بیج نہیں پائے جاتے۔ وہ سب سے بہتر ہے کیونکہ اس میں شکر، کیلشیم اور فا سفورس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ چکوترے کو عموماً سلاد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور اس صورت میں اسے دوسرے پھلوں یا سبزیوں میں شامل کرتے ہیں۔ ان کو بعض اوقات آدھا کاٹ کر درمیان سے بیج اور سخت حصہ نکال دیا جاتا ہے۔ خالی جگہ کو چینی سے بھر لیتے ہیں۔ پھر اس کو کسی برتن میں ڈھانپ کر ایک گھنٹہ تک پڑا رہنے دیا جا تا ہے۔ چکوترے کے ایک سوگرام میں 92.0 فی صد رطوبت 0.7 فی صد پروٹین، 0.1 فی صد چکنائی، 0.2 فی صد معدنی اجزاء اور 7.0 فی صد کاربوہائیڈریٹس ہوتے ہیں۔ اس کے معدنی اور حیاتینی اجزاء میں 20 ملی گرام کیلشیم، 20 ملی گرام فاسفورس، 0.2 ملی گرام آئرن، 31 گرام وٹامن سی اور کچھ مقدار میں وٹامن بی کمپلیکس، وٹامن اے اور بی پائے جاتے ہیں اس کی غذائی صلاحیت 32 کیلوریز ہے۔

شفا بخش قوت اور طبی استعمال

چکوترا عمدہ قسم کا اشتہا انگیز (بھوک بڑھانے والا) پھل ہے۔ لعاب دہن اور معدے کے انزائمز کو بڑھا کر نظام ہضم کو تقویت دیتا ہے۔

تیزابیت

اس کے تیز اور نیم ترش ذائقے کے با وجود، تازہ چکوترا میں ہضم ہونے کے بعد تیزابیت دور کرنے کی تاثیر پائی جاتی ہے۔ اس میں پایا جانے والا سڑک ایسڈ انسانی بدن میں عمل تکسید سے گزرتا ہے چنانچہ بدن میں کھاری رطوبتیں بڑھ جاتی ہیں اور تیزابیت کم ہو جا تی ہے۔ چکوترا کا جوس تیزابیت کی وجہ سے جنم لینے والی دیگر متعدد بیماریوں کے علاج میں کارآمد ہے۔

پیٹ کی بیماریاں

چکو ترا، قبض دور کرنے میں بہت نافع ہے۔ اس کا گودا پوری طرح استعمال ہونے پر اجابت کو یقینی بناتا ہے۔ یہ انتڑیوں کو صحت مند رکھنے میں بھی اعلیٰ کردار ادا کرتا ہے۔ پیچش، اسہال، آنتوں کی سوزش اور اعضائے ہضم کی چھوت کی بیماریوں کے خلاف چکوترا موثر غذا ہے۔

ذیابیطس

ماہرین کے مطابق ذیابیطس کے مریضوں کے لیے چکوترا ایک شاندار غذا ہے۔ اگر اسے وافر مقدار میں استعمال کیا جائے تو ذیابیطس کا مرض کم ہوسکتا ہے۔ اگر آپ شوگر کے مریض ہیں تو روزانہ چکوترے کے تین پھل تین وقت استعمال کریں۔ اگر آپ شوگر کے مریض نہیں لیکن موروثی طور پر یا دیگر اسباب کی بناء پر اس کا امکان رکھتے ہیں تو اس سے بچنے کے لیے روزانہ تین چکوترے ضرور کھائیں۔ پھل، سبزیاں اور جوس زیادہ استعمال کریں۔ اگر آپ انسولین نہیں لیتے تو یہ معمول دو ہفتوں میں شوگر ختم کر دے گا۔ اگر انسولین لیتے ہیں تو یہ معمول زیادہ عرصہ تک جاری رکھنا پڑے گا۔

انفلوئنزا

چکوترا کا جوس، انفلوئنزا میں ایک عمدہ علاج ہے کیونکہ یہ تیزابیت کو کم کرتا ہے اور اس کے تلخ اجزاء میں پائی جانے والی وٹامن سی قوت مدافعت میں اضافہ کرتی ہے۔

بخار

چکوترا کا جوس ہر قسم کے بخار میں بہترین دوا ہے۔ یہ پیاس کی شدت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور بخار کی وجہ سے پیدا ہونے والا حدت کا احساس دور کرتا ہے۔ اس کا جوس پانی میں ملا کر استعمال کیا جاتا ہے۔

ملیریا

چکوترا میں ایک قدرتی کونین پائی جاتی ہے۔ اس لیے یہ ملیریا کے علاج میں سود مند ہے۔ کونین بخار کے ساتھ ہونے والے زکام کا بھی اچھا علاج ہے۔ چکوترا کے پھل کا ایک چوتھائی حصہ لے کر اسے پانی میں ابالتے ہیں اور پھر گودے کو چھان کر کونین کے اثرات حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اضمحلال

تھکن اور اضمحلال کا علاج کرنے کے لیے چکوترے کا استعمال بہت اچھے نتائج دیتا ہے۔ ایک گلاس چکوترے اور لیموں کا رس برابر مقدار میں ملا کر لینا اضمحلال اور دن بھر کام کے بعد محسوس ہونے والی تھکن کافور کرتا ہے۔

پیشاب میں کمی

چونکہ چکوترا کے پھل میں وٹامن سی اور پوٹاشیم خوب پائی جاتی ہے ، اس لیے یہ پیشاب کی مقدار اور اخراج میں اضافہ کرتا ہے۔ جگر، گردوں اور امراض قلب کے سبب پیشاب میں کمی کی شکایت چکوترا کا جوس پینے سے رفع ہو جاتی ہے۔

حرا فاطمہ، سکھر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے