پیاری ڈکار

پیاری ڈکار

کونسل کی ممبری نہیں چاہتا۔ قوم کی لیڈری نہیں مانگتا۔ ارل کا خطاب درکار نہیں۔ موٹر اور شملہ کی کسی کوٹھی کی تمنا نہیں۔ میں تو خدا سے اور اگر کسی دوسرے میں دینے کی قدرت ہو تو اس سے بھی صرف ایک ’ڈکار‘ طلب کرتا ہوں۔

چاہتا یہ ہوں کہ اپنے طوفانی پیٹ کے بادلوں کو حلق میں بلاؤں اور پوری گرج کے ساتھ باہر برساؤں۔ یعنی کڑاکے دار ڈکار لوں۔ پر کیا کروں یہ نئے فیشن والے مجھ کو زور سے ڈکار لینے نہیں دیتے۔ کہتے ہیں ڈکار آنے لگے تو ہونٹوں کو بھیچ لو اور ناک کے نتھنوں سے اسے چپ چاپ اڑا دو۔ آواز سے ڈکار لینی بڑی بے تہذیبی ہے۔

مجھے یاد ہے سرجیمس لا ٹوش یوپی کے لفٹنٹ گورنر علی گڑھ کالج میں مہمان تھے۔ رات کے کھانے میں مجھ جیسے ایک گنوار نے میز پر زور سے ڈکار لے لی۔ سب جنٹلمین اس بے چاری دہقانی کو نفرت سے دیکھنے لگے، برابر ایک شوخ و طرار فیشن ایبل تشریف فرما تھے۔ انہوں نے نظر حقارت سے ایک قدم اور آگے بڑھا دیا۔ جیب سے گھڑی نکالی اور اس کو بغور دیکھنے لگے۔ غریب ڈکاری پہلے ہی گھبرا گیا تھا۔ مجمع کی حالت سے متاثر ہو رہا تھا۔ برابرمیں گھڑی دیکھی گئی تو اس نے بے اختیار ہو کر سوال کیا۔ جناب کیا وقت ہے۔

شریرفیشن پرست بولا، گھڑی شاید غلط ہے۔ اس میں نو بجے ہیں مگروقت بارہ بجے کا ہے کیونکہ ابھی تو آپ کی آواز آئی تھی۔

بے چارہ ڈکار لینے والا سن کر پانی پانی ہو گیا کہ اس کی ڈکار کو توپ سے تشبیہ دی گئی۔

اس زمانہ میں لوگوں کو سیلف گورنمنٹ کی خواہش ہے۔ ہندوستانیوں کو عام مفلسی کی شکایت ہے۔ میں تو نہ وہ چاہتا ہوں نہ اس کا شکوہ کرتا ہوں۔ مجھ کو تو انگریزی سرکار سے صرف آزاد ڈکار کی آرزو ہے۔ میں اس سے ادب سے مانگوں گا۔ خوشامد سے مانگوں گا۔ کوئی نہ مانگے گا تو کہہ دیتا ہوں زور سے مانگوں گا ۔ جد و جہد کروں گا۔ ایجی ٹیشن مچاؤں گا۔ پرزور تقریریں کروں گا۔کونسل میں جاکر سوالوں کی بوچھار سے انریبل ممبروں کا دم ناک میں کردوں گا۔

لوگو! میں نے تو بہت کوشش کی کہ چپکے سے ڈکار لینے کی عادت ہو جائے۔ ایک دن سوڈا واٹر پی کر اس بھونچال ڈکار کو ناک سے نکالنا بھی چاہتا تھا مگر کمبخت دماغ میں الجھ کر رہ گئی۔ آنکھوں سے پانی نکلنے لگا اور بڑی دیر تک کچھ سانس رکا رکا سا رہا۔

ذرا تو انصاف کرو۔ میرے ابّا ڈکار زور سے لیتے تھے۔ میری اماں کو بھی یہی عادت تھی۔ میں نے نئی دنیا کی ہم نشینی سے پہلے ہمیشہ زور ہی سے ڈکار لی۔ اب اس عادت کو کیونکر بدلوں ڈکار آتی ہے۔ تو پیٹ پکڑ لیتا ہوں۔ آنکھیں مچکا مچکا کے زور لگاتا ہوں کہ موذی ناک میں آجائے اور گونگی بن کرنکل جائے۔ مگرایسی بدذات ہے، نہیں مانتی، حلق کو کھرچتی ہوئی منہ میں گھس آتی ہے اور ڈنکا بجا کر باہر نکلتی ہے۔

کیوں بھائیو تم میں سےکون کون میری حمایت کرے گا اور نئی روشنی کی فیشن ایبل سوسائٹی سے مجھ کو اس اکسٹریمسٹ حرکت کی اجازت دلوائےگا۔ خلقت تو مجھ کو حزب الاحرار یعنی گرم پارٹی میں تصور کرتی ہے اور میرا یہ حال ہے کہ اپنی گرم ڈکار تک کو گرما گرمی اور آزادی سے کام میں نہیں لاسکتا۔ ٹھنڈی کرکےنکالنے پرمجبورہوں۔

ہائے میں پچھلے زمانہ میں کیوں نہ پیدا ہوا۔ خوب بےفکری سے ڈکاریں لیتا۔ ایسےوقت میں جنم ہوا ہے کہ بات بات پر فیشن کی مہر لگی ہوئی ہے۔

تم نے میرا ساتھ نہ دیا تو میں ماش کی دال کھانے والے یتیموں میں شامل ہو جاؤں گا کیسے خوش قسمت لوگ ہیں۔ دکانوں پر بیٹھے ڈکاریں لیا کرتے ہیں۔ اپنا اپنا نصیبا ہے۔ ہم ترستے ہیں اور وہ نہایت مصرفانہ انداز میں ڈکاروں کو برابر خرچ کرتے رہتے ہیں۔ پیاری ڈکار میں کہاں تک لکھے جاؤں۔ لکھنے سے کچھ حاصل نہیں، صبر بڑی چیز ہے۔

حسن نظامی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے