پچھلی رُت کے شوخ زمانے یاد آئے

پچھلی رُت کے شوخ زمانے یاد آئے
دل میں چبھتے خار سہانے یاد آئے
آج پھر ہم کو ترا ملنا یاد آیا
آج پھر کیا کیا نہ فسانے یاد آئے
شوخ ہواؤں کے آنچل میں تھم تھم کر
شام سے ہی درد پرانے یاد آئے
بات چھڑی جب مے خانے کی محفل میں
اُن کی آنکھوں کے پیمانے یاد آئے
ایک تیرے نہ ہونے سے اس وقت ہم کو
نجانے کتنے زخم پُرانے یاد آئے
برکھا رُت میں پچھلے پہر ناہید تجھے
کس کے بھولے لہجے سہانے یاد آئے
ناہید ورک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے