پیکاسو کی بیوہ

پیکاسو کی بیوہ
پاکستان بننے سے قبل سکھوں کے شہر ننکانہ میں ایک لڑکا ہاتھ میں ڈانگ لئے گزرتا تو ہر طرف سے آوازیں آنے لگتیں، بابا ڈانگ بابا ڈانگ یہ بچہ ہر وقت ہاتھ میں ڈانگ اس لئے رکھتا کہ اس کے ددھیال والے اس کی ماں سے اچھا سلوک نہیں کرتے ، اسے اپنی امی سے اتنا پیار تھا کہ جب وہ بڑا ہو کر مصور بنا تو تصویر پر اس نے اپنا جو نام لکھا اس میں بھی امی آتا تھا، وہ تھا رامی یہ الگ بات ہے کہ تصویر دیکھ کر لوگوں نے نام کو یوں ادا کرنا شروع کر دیا کہ احتیاط رامی کے بجائے رامے لکھنے لگے ، وہ اداکار جتندر کے ہم عمر اور بچپن کے ساتھی ہیں، یہ الگ بات ہے کہ آج کل رامے پچاس سے اوپر ہیں، جب کہ جتندر پچیس سے اوپر کے ، ویسے بھی اداکار بیوی، اور کار جب پرانی ہو جائے تو چالیس سے اوپر نہیں جاتی، بہر حال ان دونوں نے اداکاری کیلئے مختلف فیلڈ چنے اور کامیاب رہے ۔
والدہ انہیں بچپن میں جھوٹ بولنے سے منع کرتیں، انہیں کیا پتہ تھا کہ بیٹا بڑا ہو کر سیاست دان بنے گا، رامے صاحب جس کسی واقعہ پر حیران ہوں تو نہیں چپ لگ جاتی ہے ، اپنی پیدائش کے تین سال بعد تک نہ بولے ، چھوٹے تھے تو کئی سال بعد بولنا آیا، بڑے ہوئے تو کئی سال چپ ہونا نہ آیا، فلسفے میں داخلہ لیا، ہر گتھی سلجھائی، جو گتھی سلجھنے کی بجائے الجھنے لگی اس سے شادی کر لی،ماں اور بیوی نے ان کی شخصیت پر ایسا اثر ڈالا کہ آج بھی وہ 50 فیصد ماں اور 50فیصد بیوی ہیں، ڈاکٹر مبشر حسن کی زنانہ آواز، عابدہ حسین پنجاب کی مردانہ آواز اور رامے صاحب پنجاب کی درمیانہ آواز ہیں، جو ان کی آواز ایک بار سن لے پھر وہ انھیں محترم نہیں محترمی کہہ کر ہی بلاتا ہے ۔
سیاست اور محبت میں جو کرتے ہیں وہ جائز ہوتا ہے ، صرف وہ ناجائز ہوتا ہے جو دوسرے کرتے ہیں، پہلے سیاستدان کرپٹ ہوتے تھے ، آج کل کرپٹ سیاستدان ہو گئے ہیں، رامے خود کو اس سیاست کا باغی کہتے ہیں، انہیں مل کر باغی سے مراد باغ میں آنے جانے والا ہی لیا جا سکتا ہے ، کہتے ہیں میں مڈل کلاس سے ہوں، ہم نے سنا ہے ، مڈل کلاس سے تو غلام حیدر وائیں صاحب تھے ، رامے تو ایم اے ہیں، اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ میں مڈل کلاس کی نمائندگی کی ہے تو یہ کوئی بڑی بات نہیں، ہم خود مڈل کلاس کی نمائندگی کر چکے ہیں، مڈل کلاس میں ہم مانیٹر تھے ۔
1957 میں نصرت نکالا، بعد میں نصرت پیپلز پارٹی کا ترجمان بنا، اب تو نصرت پیپلز پارٹی کی ترجمان ہے ، بھٹو دور میں رسالے نصرت پر اپنے نام سے پہلے طابع لکھتے مگر اسے تابع پڑھتے ، سولہ ماہ وزیر اعلیٰ ہاؤس میں سولہ ماہ شاہی قلعے میں قید رہے ، لون ان سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ جب وہ وزیر اعلیٰ تھے تو لوگ وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے جا کر کہتے وزیر اعلیٰ کو رہا کرو، لیکن یہ آج تک یہی سمجھتے ہیں کہ عوام کہتے تھے ، وزیر اعلیٰ رہا کرو، آج بھی نام کے ساتھ وزیر اعلیٰ یوں لکھتے ہیں جیسے ڈاکٹر اپنے نام کے ساتھ ایم بی بی ایس لکھتے ہیں۔
روزنامہ مساوات سے نکل کر مساوات پارٹی بنائی، دونوں میں یہ فرق تھا کہ روزنامہ مساوات میں کارکن زیادہ تھے ، پارٹی کا اس قدر خیال رکھتے کہ جب کہیں باہر جاتے تو ہمسائیوں کو کہہ کر جاتے کہ اس کا خیال رکھنا آ کر لے لوں گا، ریٹرن ٹکٹ پر سفر کرتے ہیں، وہ تو الیکشن میں بھی ریٹرن ٹکٹ پر ہی Suffer کرتے ہیں۔
مصوری فطرت کی عکاسی ہوتی ہے ، جی ہاں مصور کی فطرت کی، پینٹنگ دیکھنے کا اصول یہ ہے کہ خود نہ بولو پینٹنگ بولنے دو، رامے صاحب نے تجریدی مصوری کو بہت توجہ دی، ویسے بھی تجریدی مصوری اتنی تو توجہ مانگتی ہے کہ مصور کا ذرا دھیان ادھر ادھر ہو جائے تو بھول جاتا ہے ، کہ کیا بنا رہا تھا، سکھوں کے شہر میں پیدا ہوئے مگر اپنی گفتگو سے اس کا پتہ نہیں چلنے دیا، ان کی تصویروں سے پتہ چلتا ہے کہ بدصورتی کو بڑی خوبصورتی سے پینٹ کرتے ہیں، مصوری میں وہ پکاسو کی بیوہ ہیں، کسی تصویر کو کپڑے پہنا دیں تو اس کا طرف یوں دیکھیں گے جیسے کوئی سخی کسی ننگے کو لباس پہنانے کے بعد دیکھتا ہے ، بچپن میں ٹریس کر کے تصویریں بناتے اور مار کھاتے ، ہمارے تو ایک جاننے والے مصور نے ٹریس کر کے تصویر بناتے ہوئے بیوی سے مار کھائی کیونکہ وہ ایک ماڈل سے تصویر ٹریس کر رہے تھے ۔
جہاں بلند بولنا ہو، وہاں سرگوشی کرتے ہیں، جہاں سرگوشی کرنا ہوں وہاں خاموشی کریں گے ، انہیں تو ایک آدمی سے بات کرنے کیلئے بھی مائیک کی ضرورت ہے ، اس قدر آہستہ بولتے ہیں، کہ زور لگا کر سننا پڑتا ہے ، ان کا چہرہ ایک بار دیکھ لو تو ایک بار ہی یاد رہتا ہے بار بار دیکھو تو بار بار بھولے گا، انہیں ہر مشکل پسند آتی ہے ، وہ تو مشکل کو مہ شکل سمجھتے ہیں۔
انہوں نے اپنی آواز کبھی بیوی کے قد سے بلند نہیں کی، ان کی پسندیدہ شخصیت ان کی بیوی کا شوہر ہے ، ہر بیوی کے جذبات کا اس قدر خیال رکھتے ہیں کہ اگر انہیں پتہ ہو کہ مجھے آج مرنا ہے ، تو وہ سب سے پہلے جو کام کریں گے ، وہ یہ ہو گا سب سے پہلے اپنی بیوی کو تعزیتی کارڈ ارسال کریں گے ، اسکول میں ان کی نرم طبعیت، قوت برداشت اور صبر کی وجہ سے ایک بار اسکول ٹیچر نے کہا تھا، یہ مستقبل کا مستقل شوہر ہے ، آج کل دینا کی سپر پاور امریکہ ہے ، رامے صاحب کی دنیا کی سپر پاور بھی آج کل ایک امریکن ہی ہے ۔
کہتے ہیں کہ اقتدار کا بھولا شام کو پارٹی میں آ جائے تو بھولا نہیں کہلاتا، البتہ اگر وہ رات کو پارٹی میں آئے تو بات کچھ اور ہے ، انہیں ڈاکٹر کہے کہ آپ کی صحت کیلئے تبدیلی ضروری ہے ، تو صبح پارٹی بدل لیں گے ، کہتے ہیں کہ میں نے زندگی میں جو چیز سب سے زیادہ دیکھی ہے ، وہ سورج ہے ، واقعی چڑھتے ہوئے سورج کو ان سے زیادہ کس نے دیکھا ہو گا، استاد تھے تو طبعیت میں شاگردی تھی، طبعیت میں استادی آئی تو سیاست میں آ گئے ، انہیں ہر وقت ایک بندہ چاہئے جس کی تعریفیں کر سکیں، اگر کوئی نہ ملے تو شادی کا سوچنے لگتے ہیں، کافی اس قدر پسند ہے کہ وہ چیز لیتے ہیں جو کافی ہو، ہم تو کہتے ہیں کہ مشروبات ہیں ہی دو طرح کے ایک کافی اور دوسرے نہ کافی۔
صاحب جس نے کبھی عورت سے محبت نہیں کی، وہ قابل اعتبار نہیں ہو سکتا اور جس نے عورت ہی سے محبت کی، وہ بھی قابل اعتبار نہ رہا، ادب نے ان کا قدر بحیثیت سیاستدان کم کیا اور سیاست نے ان کا قد بحیثیت ادیب کم کیا، کہتے ہیں میری تحریروں میں علم و فضل کی کمی نظر آئے تو ادیب سمجھ کر معاف کر دیں۔
محمد حنیف رامے وہ تصویر ہیں جو انہوں نے خود بنائی ہے ، کبھی انہوں نے اسے ایک سیاستدان وزیر اعلیٰ کی شکل دی، کبھی ترقی پسند صحافی کی، کبھی پنجاب کا مقدمہ لڑنے والے ادیب کی، کبھی مقرر اور کبھی دانشور کا روپ دیا اور کبھی ان سب پر خط تنسیخ پھر کر ہاتھ میں برش پکڑ کر خود تصویر کی جگہ آ کھڑے ہوئے ، یہ وہی بابا ڈانگ ہے جو خود تو وہی کا وہی رہا مگر اس کی ڈانگ گھستے گھستے قلم اور برش ہو گئی۔
ڈاکٹر محمد یونس بٹ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے