پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا حادثہ

پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور کا حادثہ اور اس کے کارفرما عوامل کا تجزیہ کیا جائے تو ایک خیال یہ جنم لیتا ہے کہ یہ واقعہ ہمارے معاشرے کی ایک مجموعی ذہنی خلفشار اور بے یقینی کی کیفیت کا غماز ہے۔ شاید یہ کیفیت یوں پیدا ہوئی کہ ہم خود پسندی اور خود غرضی کی آخری حد پر پہنچ چکے ہیں۔
کیونکہ ہم تکبر، غرور اور علمی بالادستی میں مبتلا ہو چکے ہیں۔
کیونکہ ہم ابلیسی نظریہ کے حامل ہو چکے ہیں کہ میں "اس سے بہتر ہوں”۔
کیونکہ ہم ذاتی احتساب اور جماعتی نظم و ضبط سے نکل کر مادر پدر آزادی کے قائل ہو گئے ہیں۔
کیونکہ ہم جواب دہی اور جواب طلبی کے اخلاقی وصف سے نکل کر جنگل کے قانون کا نفاذ کر چکے ہیں یعنی جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔
کیونکہ ہماری حیوانی جبلت ہماری انسانی جبلت پر غالب آ چکی ہے۔ روحانی ترقی پر مادی ترقی حقوی ہے۔ احسان اور ایثار کے جذبات پر انتقام اور بربریت حاوی ہے۔
ضرورت ہے کہ ہمارے معاشرے کے معتبر اور جید حلقے اپنے احباب میں اس نفسیاتی کشمکش کو ختم کرنے کی تحریک شروع کریں۔ ایک روحانی، اخلاقی اور درویشی تحریک شروع کریں اور ایسی تحریک ہمیشہ اپنی ذات سے شروع ہوتی ہے۔ ذاتی احتساب ، ذاتی ایثار اور احسان کا عملی اور مدنی مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک جدید صوفی تحریک شروع کرنے کی ضرورت ہے جو اندر سے شروع ہو اور باہر تک اثر انداز ہو۔
آئیے! اپنے آپ سے یہ اندرونی تحریک شروع کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے دست و بازو بنتے بن جاتے ہیں۔

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے