پھسپھسی کہانی

پھسپھسی کہانی

سخت سردی تھی۔ رات کے دس بجے تھے۔ شالامار باغ سے وہ سڑک جو ادھر لاہور کو آتی ہے، سنسان اور تاریک تھی۔ بادل گھرے ہوئے تھے اور ہوا تیز چل رہی تھی۔ گردوپیش کی ہر چیز ٹھٹھری ہوئی تھی۔ سڑک کے دو رویہ پست قد مکان اور درخت دھندلی دھندلی روشنی میں سکڑے سکڑے دکھائی دے رہے تھے۔ بجلی کے کھمبے ایک دوسرے سے دور دور ہٹے، روٹھے اور اکتائے ہوئے سے معلوم ہوتے تھے۔ ساری فضا میں بدمزگی کی کیفیت تھی۔ ایک صرف تیز ہوا تھی جو اپنی موجودگی منوانے کی بیکار کوشش میں مصروف تھی۔ جب دو سائیکل سوار نمودار ہوئے اور ہوا کے تیز و تند جھونکے ان کے کانوں سے ٹکرائے تو انھوں نے اپنے اپنے اوورکوٹ کا کالر اونچا کرلیا۔ دونوں خاموش تھے۔ مخالف ہوا کے باعث انھیں پیڈل چلانے میں کافی زور صرف کرنا پڑرہا تھا۔ مگر وہ اس کے احساس سے غافل ایک دوسرے کا سایہ بنے شالامار باغ کی طرف بڑھ رہے تھے۔ اگر کوئی انھیں دور سے دیکھتا تو اسے ایسا معلوم ہوا کہ سڑک جو لوہے کی زنگ آلود چادر کی طرح پھیلی ہوئی تھی، ان کی سائیکلوں کے ساکت پہیوں کے نیچے ہولے ہوئے کھسک رہی ہے۔ بہت دیر تک وہ دونوں سنسان فاصلہ خاموشی میں طے کرتے رہے۔ آخر ان میں سے سائیکل سے اتر کر اپنے سرد ہاتھ منہ کی بھاپ سے گرم کرنے لگا۔

’’سخت سردی ہے۔ ‘‘

اس کے ساتھی نے بریک لگائی اور ہنسنے لگا۔

’’بھائی جان!وہ۔ وہ وہسکی کہاں گئی؟‘‘

’’جہنم میں۔ جہاں ساری شام غارت ہوئی، وہاں وہ بھی نہ ہوئی۔ ‘‘

دونوں بھائی تھے، مگر ایسے بھائی جو چاروں عیب شرعی اکٹھے مل جل کے کرتے تھے۔ دونوں نے صبح یہ پروگرام بنایا تھا کہ دفتر سے فارغ ہو کررشوت کے اس روپے کا جو انہیں دو بجے کے قریب ملنا تھا، جائز استعمال سوچیں گے۔ روپیہ انھیں دو بجے سے پہلے ہی مل گیا تھا، اس لیے کہ رشوت دینے والا بہت بے قرار تھا۔ بڑے بھائی نے روپیہ جیب میں رکھنے سے پہلے تمام نوٹ اچھی طرح دیکھ کر اطمینان کرلیا کہ وہ نشان زدہ نہیں تھے۔ رقم زیادہ نہیں تھی۔ دو سو ایک روپے تھے۔ انھوں نے دو سو طلب کیے تھے مگر ایک کا اضافہ رشوت دینے والے نے شگن کے لیے تھا جو بڑے بھائی نے اپنے چھوٹے بھائی سے مشورہ کرکے ایک اندھے بھکاری کو دے دیا تھا۔ اب وہ دونوں ہیرا منڈی کی طرف جارہے تھے۔ چھوٹے بھائی کی جیب میں اسکاچ کی بوتل تھی۔ بڑے کی جیب میں تھری فائیو کے دو ڈبے عام طور پر دونوں گولڈ فلیک پیتے تھے، مگر جب رشوت ملتی تو ایسا برانڈ پیتے تھے جس کے د ام زیادہ ہوں۔ ہیرا منڈی میں داخل ہوا ہی چاہتے تھے کہ بادشاہی مسجد سے اذان کی آواز آئی۔ بڑے نے چھوٹے سے کہا۔

’’چلو یار، نماز پڑھ لیں!‘‘

چھوٹے نے اپنی پھولی ہوئی جیب کی طرف دیکھا۔

’’اس کا کیا کریں بھائی جان؟‘‘

بڑے نے تھوڑی دیر سوچا اور کہا۔

’’اس کا انتظام کرلیتے ہیں۔ اپنا یار بٹ جو ہے!‘‘

بٹ پان فروش کی دکان قریب ہی تھی۔ چھوٹے نے مہین کاغذ میں لپٹی ہوئی بوتل اس کے حوالے کی۔ بڑے نے اپنی اور اپنے بھائی کی سائیکل دکان کے تھڑے کے ساتھ ٹکائی اور بٹ سے کہا۔

’’ہم ابھی آئے نماز پڑھ کے!‘‘

بٹ نے قہقہہ لگایا۔

’’دو نفل شکرانے کے بھی!‘‘

دونوں بھائیوں نے بادشاہی مسجد میں نماز ادا کی اور دو نفل شکرانے کے بھی پڑھے۔ واپس آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ بٹ کی دکان بند ہے۔ ساتھ والے دکاندار سے پوچھا تو اس نے کہا۔ ‘‘

نماز پڑھنے گیا ہے۔ ‘‘

دونوں بھائیوں کو سخت تعجب ہوا۔

’’نماز!‘‘

دکاندار نے مسکراتے ہوئے کہا۔

’’سال چھ ماہ ہی میں کبھی کبھی پڑھ لیا کرتا ہے۔ ‘‘

دونوں بہت دیر تک بٹ کی واپسی کا انتظار کرتے رہے۔ جب وہ نہ آیا تو بڑے نے چھوٹے سے کہا۔

’’جاؤ یار۔ ایک بوتل اور لے آؤ۔ میں نے خواہ مخواہ اس حرامزادے بٹ پر اعتبار کیا۔ ‘‘

چھوٹے نے روپے لیے اور بڑے سے کہا۔

’’جیب ہی میں پڑی رہتی تو کیا حر ج تھی؟‘‘

’’چھوڑو یار۔ ہٹاؤ اس قصے کو۔ مجھے بوتل جانے کا اتنا افسوس نہیں۔ کہیں گر کر بھی ٹوٹ سکتی تھی۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ بڑی بے دردی سے پی رہا ہو گا کم بخت۔ ‘‘

چھوٹے نے پیڈل پر پاؤں رکھا اور پوچھا۔

’’آپ یہیں ہوں گے؟‘‘

بڑے نے بڑے اکتائے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔

’’ہاں بھئی، یہیں کھڑا رہوں گا۔ شاید بہک کر ادھر آنکلے۔ لیکن تم جلدی آجانا!‘‘

چھوٹا جلدی واپس آگیا مگر اس کا چہرہ لٹکا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ایک اور آدمی تھا جو کیریئر پر بیٹھا ہوا تھا۔ بڑا تاڑ گیا کہ ضرور کوئی گڑبڑ ہے۔ لیکن اسے زیادہ دیر تک ذہنی کشمکش میں مبتلا نہ رہنا پڑا کیوں کہ چھوٹے نے سائیکل سے اترتے ہی اس کو سارا قصہ سنا دیا۔ شراب کی دکان سے دوسری بوتل لے کر جونہی وہ باہر نکلا تو بارش ہو چکی تھی۔ اسے جلد واپس پہنچنا تھا۔ افراتفری میں اس نے سائیکل پر سوار ہونے کی کوشش کی مگر وہ ایسی پھسلی کہ سنبھالے نہ سنبھلی۔ سڑک پر اوندھے منہ گرا اور دوسری بوتل بھی جہنم میں چلی گئی۔ چھوٹے نے ساری داستان تفصیل کے ساتھ سنا کر اللہ کا شکر ادا کیا۔

’’میں بچ گیا بھائی جان۔ بوتل کا کوئی ٹکڑا اگر کپڑے چیر کر گوشت تک پہنچ جاتا تو اس وقت کسی ہسپتال میں پڑا ہوتا۔ ‘‘

بڑے نے اللہ کا شکر ادا کرنا مناسب نہ سمجھا۔ شراب کی دکان سے جو آدمی اس کے بھائی کے ساتھ آیا تھا، اس کو تیسری بوتل کے پیسے دے کر اس نے بٹ پان فروش کی بند دکان کی طرف دیکھا اور دل ہی دل میں ایک بہت ہولناک قسم کی گالی دے کر اس کی دکان کو بھسم کر ڈ الا۔ دونوں کو معلوم تھا کہ انھیں کہاں جانا ہے۔ چوک کے اس طرف نان کباب والے کے اوپر جو بالا خانہ تھا، اسی میں ان دونوں بھائیوں کی بالائی آمدنی کا جائز نکاس تھا، لونڈیا کم گو تھی۔ کھانے پینے والی تھی۔ عادات و اطوار کے لحاظ سے طوائف کم اور کلرک زیادہ تھی۔ اسی لیے ان کو پسند تھی کہ وہ خود بھی کلرک تھے۔ جب دونوں خوب پی جاتے تو دفتری گفتگو شروع کردیتے۔ ہیڈ کلرک کیسا ہے، صاحب کیسا ہے، اس کی گھر والی کی طبیعت کیسی ہے۔ گھنٹوں اپنے اپنے ماتحتوں اور اپنے افسروں کے ماضی اور حال پر تبصرہ کرتے رہتے۔ اور وہ بڑے انہماک سے سنتی رہتی۔ بہت کن سری تھی، مگر دونوں بھائی اس کا گانا سن کر یوں جھومتے تھے جیسے وہ ان کے کانوں میں شہد ٹپکا رہی ہے۔ لیکن آج جب وہ گانے لگی تو ان کو پہلی مرتبہ محسوس ہوا کہ وہ سر میں ہے نہ تال میں۔ چنانچہ اس کا گانا بند کراکے انھوں نے باقی بچی ہوئی شراب پینا شروع کردی۔ طوائف کا نام شیداں تھا، بہت کم پینے والی، مگر جانے اسے کیا ہوا کہ جب دونوں بھائیوں نے اس کا گانا بند کراکے پینا شروع کیا تو وہ بہک گئی اور ایسی بہکی کہ بوتل اٹھا کر ساری کی ساری سوکھی پی گئی۔ بڑے کو بہت غصہ آیا، مگر وہ اسے پی گیا کیوں کہ چھوٹا مزے میں تھا۔ لیکن زیادہ دیر تک اس پر یہ کیف طاری نہ رہا کیوں کہ جب اس نے اور پینے کے لیے بوتل اٹھائی تو وہ خالی تھی۔ اب دونوں یکساں طور پر بے مزا تھے۔ بڑے نے چھوٹے سے مشورہ کرنا ضروری نہ سمجھا۔ شیداں کے استاد مانڈو کو روپے دے کر اس نے کہا۔

’’جاؤ، بھاگ کر جاؤاور ایک بوتل جمخانہ وسکی لے آؤ!‘‘

استاد نے روپے گن کر جیب میں رکھے اور کہا۔

’’سرکار! بلیک میں ملے گی۔ ‘‘

بڑا جو پہلے ہی بھنایا ہوا تھا، چلا کر بولا۔

’’ہاں، ہاں۔ جانتا ہوں۔ اسی لیے تو میں نے پانچ زیادہ دیے ہیں۔ ‘‘

جمخانہ آئی۔ دو دور چلے تو بڑے نے محسوس کیا کہ پانی ملی ہے۔ امتحان لینے کی خاطر اس نے تھوڑی سی رکابی میں ڈالی اور اس کو دیا سلائی دکھائی۔ ایک لحظہ کے لیے نیم جان نیلگوں سا دھواں اٹھا اور دیا سلائی شوں کرکے رکابی میں بجھ گئی۔ دونوں بھائیوں کو اس قدر کوفت ہوئی کہ غصے میں بھرے ہوئے اٹھے۔ بڑے نے پانی ملی بوتل ہاتھ میں لی۔ اس کا ارادہ تھا کہ یہ وہ اس شراب فروش کے سر پر دے مارے گا جس نے بے ایمانی کی تھی۔ مگر فوراً اسے خیال آیا کہ ان کے پاس پرمٹ نہیں تھا، اس لیے مجبوراً گالیاں دے کر خاموش ہو گئے۔ چھوٹے کی کوششوں سے بدمزگی کسی حد تک دور ہو گئی تھی کہ شیداں نے جو اس کی مدد کررہی تھی، سب کھایا پیا اگلنا شروع کردیا۔ اب دونوں بھائیوں نے مناسب خیال کیا کہ چلا جائے۔ چنانچہ استاد کی تحویل سے سائیکلیں لے کر وہ ہیرا منڈی کی گلیوں میں دیر تک بے مقصد گھومتے رہے۔ مگر اس آوارہ گردی کے باعث ان کی کوفت دور نہ ہوئی۔ واپس گھر جانے کا ارادہ ہی کررہے تھے کہ انھیں بٹ دکھائی دیا۔ نشے میں دھت تھا اور کوٹھوں کی طرف گردن اٹھا اٹھا کر واہی تباہی بک رہا تھا۔ دونوں بھائیوں کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ آگے بڑھ کر اس کا ٹینٹوا دبا دیں۔ مگر ان سے پہلے ایک سپاہی نے اس کو پکڑ لیا اور تھانے لے لیا۔ چھوٹے نے بڑے سے کہا۔

’’چلیے بھائی جان۔ ذرا تماشہ دیکھیں۔ ‘‘

بڑے نے پوچھا۔

’’کس کا؟‘‘

’’بٹ اور کس کا!‘‘

بڑے کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ نمودار ہوئی۔

’’پاگل ہوئے ہو۔ تھانے میں اگر اس نے ہمیں پہچان لیا یا کسی نے ہمارے منہ کی بو سونگھ لی تو ہمیں اپنا تماشہ بھی ساتھ ساتھ دیکھنا پڑے گا۔ ‘‘

چھوٹے نے دل ہی دل میں بڑے کی دور اندیشی کی د اد دی اور کہا۔

’’تو چلیے۔ گھر چلیں۔ ‘‘

دونوں اپنی اپنی سائیکل پر سوار ہوئے۔ بارش تھم چکی تھی۔ لیکن سرد ہوا بہت تیز چل رہی تھی۔ ابھی وہ ہیرا منڈی سے باہر نکلے تھے کہ انھیں اس تانگے میں جوان کے آگے آگے چل رہا تھا، اپنے دفتر کا بڑا افسر نظر آیا۔ دونوں نے ایک دم اس کی نگاہوں سے بچنے کی کوشش کی، مگر ناکام رہے۔ کیوں کہ وہ انھیں دیکھ چکا تھا۔

’’ہلو!‘‘

انھوں نے اس ہلو کا جواب نہ دیا۔

’’ہلو!‘‘

اس ہلو کے جواب میں انھوں نے اپنی اپنی سائیکل روک لی۔ افسر نے تانگہ ٹھہرا لیا اور ان سے بڑے مربیّانہ انداز میں کہا۔

’’کہو مسٹر! عیش ہورہے ہیں؟‘‘

چھوٹے نے

’’جی ہاں!‘‘

اور بڑے نے

’’جی نہیں !‘‘

میں جواب دیا۔ اس پر افسر نے قہقہہ لگایا۔

’’میرا عیش تو ادھورا رہا۔ ‘‘

پھر اس نے افسرانہ انداز میں پوچھا۔

’’تمہارے پاس کچھ روپے ہیں؟‘‘

اس مرتبہ بڑے نے

’’جی ہاں!‘‘

اور چھوٹے نے

’’جی نہیں!‘‘

میں جواب دیا جس پر افسر نے دوسرا قہقہہ بلند کیا جو ٹھیٹ افسرانہ تھا۔

’’ایک سو روپے کافی ہوں گے اس وقت!‘‘

بڑے نے بڑے میکانکی انداز میں اپنی جیب سے سو روپے کا نوٹ نکالا اور اپنے چھوٹے بھائی کی طرف بڑھا دیا۔ چھوٹے نے پکڑ کر افسر کے حوالے کردیا جس نے

’’تھینک یو!‘‘

کہا اور تانگے سے اتر کر لڑکھڑاتا ہوا ایک طرف چلا گیا۔ دونوں بھائی تھوڑی دیر تک خاموش رہے۔ بڑے نے تمام حالات پیش نظر رکھ کر اپنے سر کو زور سے جنبش دی۔

’’معلوم نہیں آج صبح صبح کس کا منہ دیکھا تھا۔ ‘‘

چھوٹے کے منہ سے یہ بڑی گالی نکلی۔

’’اسی۔ کا، جس نے دو سو ایک روپے دیے۔ ‘‘

بڑے نے بھی اس کومناسب و موزوں گالی سے یاد کیا۔

’’ٹھیک کہتے ہو۔ لیکن میں سمجھتا ہوں سارا قصور اس فالتو روپے کا ہے جو اس نے اپنی ماں کی رواں سے شگن کے طور پر دیا تھا۔ ‘‘

’’اس نماز کا بھی جو ہم نے پڑھی!‘‘

’’اور اس حرامی بٹ کا بھی!‘‘

’’میں تو شکر کرتا ہوں کہ پولیس نے اس کو پکڑ لیا، ورنہ میں نے آج ضرور اس کا خون کردیا ہوتا۔ ‘‘

’’اور لینے کے دینے پڑ جاتے۔ ‘‘

’’لینے کے دینے تو پڑ ہی گئے۔ خدا معلوم یہ ہمارا افسر کہاں سے آن ٹپکا۔ ‘‘

’’لیکن میں سمجھتا ہوں اچھا ہی ہوا۔ سو روپے میں سالا کانا تو ہو گیا۔ ‘‘

’’یہ تو ٹھیک ہے۔ لیکن آج کی شام بہت بری طرح غارت ہوئی۔ ‘‘

’’چلو چلیں۔ ایسا نہ ہو کوئی اور آفت آجائے۔ ‘‘

دونوں پھر اپنی اپنی سائیکل پر سوار ہوئے اور ہیرا منڈی سے نکل آئے۔ بڑے نے دفتر سے نکلتے ہی یہ منصوبہ بنایا تھا کہ اسکاچ کے دو تین دور ہونے کے بعد وہ شیداں سے کہے گا کہ وہ اپنی چھوٹی بہن کو بلائے۔ اس کی وہ بہت تعریفیں کیا کرتی تھی۔ کم عمر اور الہڑ تھی۔ اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اس نے گاؤں کی صحت مند فضا میں گزارا تھا اور دھندا شروع کیے اسے بمشکل چند مہینے ہوئے تھے۔ اسکاچ وسکی اور شیداں کی چھوٹی اور طبیعت اس سے بڑھ کر اور کیا عیاشی ہو سکتی تھی۔ مگر اس کا یہ سارا منصوبہ خاک میں مل گیا اور صرف کوفت باقی رہ گئی۔ چھوٹے نے بھی کُھل کھیلنے کی سوچی تھی۔ موسم خوشگوار تھا۔ وسکی اور شیداں یقینی طور پر اسے اور بھی خوشگوار بنا دیتے اور وہ اس قدر محظوظ ہوتا کہ پندرہ بیس روز تک اسے اور کسی عیش کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔ مگر سارا معاملہ چوپٹ ہو گیا۔ دونوں کے سر بھاری اور دل کڑوے کسیلے تھے۔ دونوں کی ہر بات الٹی ثابت ہوئی تھی۔ اسکاچ کی پہلی بوتل بٹ پان فروش لے اڑا۔ دوسری سڑک کے پتھروں پر ٹوٹ کر بہہ گئی۔ تیسری عین اس وقت داغ مفارقت دے گئی جب کہ سرورگٹھ رہے تھے۔ چوتھی کفایت کی خاطر دیسی منگوائی تو اس میں آدھا پانی نکلا اور سوکا آخری نوٹ افسر نے ہتھیا لیا۔ بڑے کی کوفت زیادہ تھی، یہی وجہ تھی کہ اس کے دماغ میں عجیب عجیب سے خیال آرہے تھے۔ وہ چاہتا تھا کہ اور بھی کچھ ہو۔ کوئی ایسی بات ہو کہ وہ کتوں کی طرح زور زور سے بھونکنا شروع کردے۔ یا ایسا زچ بچ ہو کہ اپنی سائیکل کے پرزے اڑا دے، اپنے تمام کپڑے اتار کر پھینک دے اور ننگ دھڑنگ کسی کنویں میں چھلانگ لگا دے۔ جس طرح حالات نے اس کا مضحکہ اڑایا تھا، اسی طرح وہ ان کا مضحکہ اڑانا چاہتا تھا۔ مگر مصیبت یہ تھی کہ وہ حالات پیدا ہو کر وہیں ہیرا منڈی میں وفات پاگئے تھے۔ اب نئے حالات اور وہ بھی ایسے حالات پیدا ہوں جن کا وہ حسب منشا مضحکہ اڑا سکے۔ اس کے متعلق سوچنے سے وہ خود کو عاری پاتا تھا۔ ایک صرف گھر تھا جہاں لحاف اوڑھ کر سو سکتے تھے۔ مگر خالی خولی لحاف اوڑھ کر سو جانے میں کیا رکھا تھا۔ اس سے تو بہتر تھا کہ وہ سو سو کے دو نوٹوں میں چرس ملا تمباکو کو بھرتے اور پی کر انٹاغفیل ہو جاتے اور صبح اٹھ کر شگن کے ایک روپے کا کسی پیر فقیر کے مزار پر چڑھاوا چڑھا دیتے۔ سوچتے سوچتے بڑے نے زور کا نعرہ بلند کیا۔

’’ہٹ تیری ایسی کی تیسی!‘‘

چھوٹے نے گھبرا کر پوچھا۔

’’پنکچر ہو گیا؟‘‘

بڑنے نے جھنجھلا کر جواب دیا۔

’’نہیں یار۔ میں نے اپنا دماغ پنکچر کرنے کی کوشش کی تھی۔ ‘‘

چھوٹا سمجھ گیا۔

’’اب جلدی گھر پہنچ جائیں۔ ‘‘

بڑے کی جھنجھلاہٹ میں اضافہ ہو گیا۔

’’وہاں کیا کریں گے۔ بطخوں کے بال مونڈیں گے؟‘‘

چھوٹا بے اختیار ہنسنے لگا۔ بڑے کو یہ ہنسی بہت ناگوار گزری۔

’’خاموش رہو جی!‘‘

دیر تک دونوں خاموشی سے گھر کا فاصلے طے کرتے رہے۔ اب وہ اس سڑک پر تھے جو لوہے کی زنگ آلود چادر کی طرح پھیلی ہوئی تھی، اور ایسا لگتا تھا کہ ان کی سائیکلوں کے پہیوں کے نیچے ہولے ہولے کھسک رہی ہے۔ بڑے نے جب اپنے سرد ہاتھ منہ کی بھاپ سے گرم کیے اور کہا۔

’’سخت سردی ہے۔ ‘‘

تو چھوٹے نے ازارہ مذاق پوچھا۔

’’بھائی جان!وہ۔ وہ وسکی کہاں گئی؟‘‘

بڑے کے جی میں آئی کہ چھوٹے کو سائیکل سمیت اٹھا کر سڑک پر پٹک دے، مگر اس قدر کہہ سکا۔

’’جہنم میں۔ جہاں ساری شام غارت ہوئی، وہاں وہ بھی ہوئی۔ ‘‘

یہ کہہ وہ بجلی کے کھمبے کے ساتھ کھڑا ہو کر پیشاب کرنے لگا۔ اتنے میں چھوٹے نے آواز دی

’’بھائی جان!وہ دیکھیے کون آرہا ہے۔ ‘‘

بڑے نے مڑ کر دیکھا۔ ایک لڑکی تھی جو سردی میں ٹھٹھرتی، کانپتی، قدموں سے راستہ ٹٹولتے ان کی جانب آرہی تھی۔ جب پاس پہنچی تو اس نے دیکھا کہ اندھی ہے، آنکھیں کھلی تھیں مگر اس کو سجھائی نہیں دیتا تھا کیوں کہ کھمبے کے ساتھ وہ ٹکراتے ٹکراتے بچی تھی۔ بڑے نے غور سے اس کی طرف دیکھا۔ جوان تھی۔ عمر یہی سولہ سترہ بس کے قریب ہو گی۔ پھٹے پرانے کپڑوں میں بھی اس کا سڈول بدن جاذب توجہ تھا۔ چھوٹے نے اس سے پوچھا۔

’’کہاں جارہی ہے تو؟‘‘

اندھی نے ٹھٹھرے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔

’’راستہ بھول گئی ہوں۔ گھرسے آگ لینے کے لیے نکلی تھی۔ ‘‘

بڑے نے پوچھا۔

’’تیرا گھر کہاں ہے؟‘‘

اندھی بولی۔

’’پتہ نہیں۔ کہیں پیچھے رہ گیاہے۔ ‘‘

بڑے نے اس کا ہاتھ پکڑا۔

’’چل میرے ساتھ!‘‘

اور وہ اسے سڑک کے اس پار لے گیا جہاں اینٹوں کا پرانا بھٹہ تھا جو ویرانے کی شکل میں بکھرا ہوا تھا۔ اندھی سمجھ گئی کہ اس کو راستہ بتانے والااسے کس راستے پر لے جارہا ہے، مگر اس نے کوئی مزاحمت نہ کی۔ شاید وہ ایسے راستوں پر کئی مرتبہ چل چکی تھی۔ بڑا خوش تھا کہ چلو کوفت دور کرنے کا سامان مل گیا۔ کسی مداخلت کا کھٹکا بھی نہیں تھا۔ اوورکوٹ اتار کر اس نے زمین پر بچھایا وہ اور اندھی دونوں بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ اندھی جنم کی اندھی نہیں تھی۔ فسادات سے پہلے وہ اچھی بھلی تھی۔ لیکن جب سکھوں نے اس کے گاؤں پر حملہ کیا تو بھگدڑ میں اس کے سر پر گہری چوٹ لگی جس کے باعث اس کی بصارت چلی گئی۔ بڑے نے اوپرے دل سے اس سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس کو اس کے ماضی سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ دو روپے جیب سے نکال کر اس نے اس کی ہتھیلی پر رکھے اور کہا۔

’’کبھی کبھی ملتی رہا کرنا۔ میں تمہیں کپڑے بھی بنوا دوں گا۔ ‘‘

اندھی بہت خوش ہوئی۔ بڑے نے جب اس کو روشن آنکھوں اور پھرتیلے ہاتھوں سے اچھی طرح ٹٹولا تو وہ بھی بہت خوش ہوا۔ اس کی کوفت کافی حد تک دور ہو گئی، لیکن ایک دم اسے اپنے چھوٹے بھائی کی بھنچی ہوئی آواز سنائی دی۔

’’بھائی جان۔ بھائی جان!‘‘

بڑے نے پوچھا۔

’’کیا ہے؟‘‘

چھوٹا سامنے آیا۔ بڑے خوف زدہ لہجے میں اس نے کہا۔

’’دو سپاہی آرہے ہیں!‘‘

بڑے نے ہوش و حواس قائم رکھتے ہوئے اپنا اوورکوٹ کھینچا جس پر اندھی بیٹھی ہوئی تھی۔ جھٹکے سے وہ اس خندق میں گر پڑی جس میں سے پکی ہوئی اینٹیں نکال لی گئی تھیں۔ گرتے وقت اس کے منہ سے بلند چیخ نکلی۔ مگر دونوں بھائی وہاں سے غائب ہو چکے تھے۔ چیخ سن کرسپاہی آئے تو انھوں نے بے ہوش اندھی کو خندق سے باہر نکالا۔ اس کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد اسے ہوش آیا تو اس نے سپاہیوں کو یوں دیکھنا شروع کیا جیسے وہ بھوت ہیں۔ پھر ایک دم دیوانہ وار چِلانے لگی۔

’’میں دیکھ سکتی ہوں۔ میں دیکھ سکتی ہوں۔ میری نظر واپس آگئی ہے۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ بھاگ گئی۔ اس کے ہاتھ سے جو دو روپے گرے، وہ سپاہیوں نے اٹھا لیے۔

سعادت حسن منٹو

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے