پھول صحرا کی ہتھیلی پہ جو دھر جاتے ہو

پھول صحرا کی ہتھیلی پہ جو دھر جاتے ہو
جانتا ہوں میں, محبت سے مکر جاتے ہو
ماں دعا دیتی تھی پیشانی کا بوسہ لیکر
اب نہیں پوچھتا کوئی بھی, کدھر جاتے ہو
شام ڈھلتی ہے تو دیوار کے سینے لگ کر
اپنی وحشت کی اذیت سے بھی ڈر جاتے ہو
خواب آنکھوں سے الجھتے ہیں گلہ کرتے ہیں
اشک بن کر مری پلکوں پہ ٹھہر جاتے ہو
خامشی ہجر کی جب پھیلتی ہے کمرے میں
میری تنہائی کسی شور سے بھر جاتے ہو
سانس لینے کی سہولت سے گریزاں ہو کر
ہچکیاں لیتے ہوئے جیتے ہو, مر جاتے ہو
اب وہ پہلی سی محبت نہ تعلق, ارشاد
پھر بھی تم دیر سے کس واسطے گھر جاتے ہو
ارشاد نیازی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

One comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے