پھر وہی کنج قفس

پھر وہی کنج قفس
شِوپور جانے والے ساتھیوں کی طرف بیراگی بابا مڑ مڑ کر دیکھتا رہا۔ اُس نے سوچا آگے چل کر وشنو پور والے بھی بچھڑ جائیں گے، اور پھر کہیں رانگا ماٹی والے اس قافلے کو آخری سلام کریں گے۔ اپنی جنم بھومی کو کوئی کیسے بھول سکتا ہے؟ اور جب بچھڑنے والوں کے چہرے پونم کی چاندنی میں تحلیل ہوگئے تو وہ تیز تیز قدم بڑھا کر بیراگن ماتا کے قریب جا پہنچا۔ ہاں وہ بیراگی ہی تو تھے کیوں کہ بیٹے اور بہو کی موت کے بعد لے دے کر ان کے پاس ایک نواسہ ہی تو رہ گیا تھا۔
کچھ قافلے والے تو ہمت کھو بیٹھے تھے اور چاہتے تھے کہ قافلے کا ساتھ چھوڑ دیں لیکن کچھ ایسے سخت جان تھے کہ چلنے کی سکت نہ رکھتے ہوئے بھی دوسروں کو اپنے ساتھ گھسیٹنے کا جتن کیے جا رہے تھے۔ سب حیران تھے کہ وہ آگے کیسے بڑھ رہے ہیں جبکہ ہر قدم آگے کو اٹھنے کی بجائے پیچھے ہٹتا محسوس ہورہا تھا۔
بوڑھے سوچ رہے تھے کہ کلکتے کے راستے میں تو قافلہ خوب بھر گیا تھا کیوں کہ ہر دو راہے پر نئے لوگ آشامل ہوتے اور وہاں سے چلتے وقت بہت کم لوگ قافلے میں شامل ہوئے۔ ہم نے چلا چلا کر ہر ساتھی سے کہا کہ اب گاؤں چلنا چاہیے۔ جنم بھومی بلا رہی ہے اور نوجوان سوچ رہے تھے کہ کلکتے کی سڑکوں پر تو موت پہلے ہی سے ہمارا انتظار کر رہی تھی۔ بہت سوں کی تو لاشیں بھی دکھائی نہ دیں۔ ہمارے اچھے بھاگ ہیں کہ ہم بچ کر آگئے۔ اب ان بچی کھچی لڑکیوں ہی میں سے ہمارے لیے دلہنیں چنی جائیں گی۔ اُن کی نگاہیں بار بار یہ کہنا چاہتیں کہ حسن تو سارا کلکتے میں چھوٹ گیا اور لڑکیاں بھی دلوں میں سو سو بیاہ رچائی چلی جارہی تھیں۔ وہ سمجھتی تھیں کہ اب بھلا کون جہیز مانگے گا۔
وہ بس آہستہ آہستہ اپنی منزلیں طے کر رہے تھے۔ ہر قدم کے ساتھ ہر فرد کے چہرے پر ایک روشن مستقبل جھلک اٹھتا۔ اب گاؤں میں دھان ہی دھان ہوجائے گا۔ دودھ ہی دودھ اور اپنے اندر ہزاروں نعمتیں لیے اپنا گاؤں ہمارا سواگت کرے گا۔
کسی نے تھکی ہوئی آواز میں کہا۔ ’’اب رانگا ماٹی اور کتنی دور رہ گیا دادا؟‘‘
دادا (بڑے بھائی) نے چمک کر چھوٹے بھائی کی طرف دیکھا۔ اور بولا،
’’یہ کیوں نہیں پوچھتا گنیش کہ کلکتہ کتنا پیچھے رہ گیا؟ ہی ہی ہی۔ ارے کلکتہ بھی ہم نے دیکھ ہی لیا۔ واہ رے کلکتے۔‘‘
گنیش نے فیصلہ کرلیا تھا کہ اب وہ کبھی کلکتے نہیں جائے گا اور اس وقت دادا کی بجائے کسی اورنے کلکتے کا ذکر چھیڑ دیا ہوتا تو وہ اُسے ایسی ڈانٹ پلاتا کہ یاد ہی رکھتا۔
دادا اور گنیش نے اپنے نئے ساتھی کی طرف گھور کر دیکھا اور پھر ہنس کر کہا، ٹھاکر ماما؟ تم پیچھے کہاں رہ گئے تھے؟
ٹھاکر ماما نہ جانے کیا سوچ کر ہنس دیا اور پھر گنگنانے لگا۔
بندے ماترم!
سجلام سپھلام، شیا شیلاملام، ملیج شیتلام۔۔۔
شبھر جیوتسنا پلکت یامئیم
پھول کسمت ورم دل شو بھینم
سوہا سنیم سمدھر بھاشنیم
سکھ رام وردام ماترم
دادا اور گنیش آگے بڑھ گئے تھے۔ ٹھاکر ماما نے ذرا رک رک کر سارے قافلے پر نگاہ دوڑائی جیسے وہ ’’آنند مٹھ‘‘ کے پھوانند کی تلاش کرنا چاہتا ہو۔ اس نے کئی بار آنند مٹھ پڑھا تھا اور وہ ہمیشہ کسی بھوانند کی تلاش میں رہتا تھا۔ وہ خود بھوانند کے منھ سے سننا چاہتا تھا کہ ’’جننی جنم بھومی سور گاوپی گریسئی‘‘ یعنی ماں اور جنم بھومی سورگ سے بھی انمول ہیں اور وہ جو بھوانند نے مہندر سے کہا تھا۔۔۔ ہم کسی اور ماں کو نہیں مانتے۔ ہم کہتے ہیں جنم بھومی ہی ماں ہے ہماری نہ ماں ہے نہ باپ نہ گھر نہ دوار کوئی ہے تو یہی اچھے بل والی، اچھے پھلوں والی، دھان سے ہری بھری دھرتی، جسے پچھوا ٹھنڈی اور سرسبز رکھتی ہے۔ اس کی یہ روپہلی چاندنی سے بھر پور راتیں۔ اے ماں! یہ تیرے پھولوں اور کنجوں کی شوبھا۔ اے ہماری ہنس مکھ، میٹھے بول بولنے والی، سکھ دینے والی، پروان دینے والی ماں۔۔۔! ٹھاکر ماما کو حیرت ہوئی کہ اتنے دن ماں کا یہ روپ اُس کے ذہن سے کیسے اوجھل رہا۔ کلکتہ میں تو سب پر دیسی بستے ہیں۔ انھوں نے اونچے انچے مکان بنا رکھے ہیں۔ کلکتہ بھی کیسا شہر ہے۔ اونھ۔ کلکتہ ’’ماں‘‘ کو نہیں پہچانتا۔
اُدھر سے دو لڑکیاں ٹھاکر ماما کے قریب چلی آئیں۔ وہ آپس میں اُلجھ رہی تھیں۔
’’اب کبھی کال نہیں پڑے گا، آرسی۔‘‘
’’اونھ۔۔۔ بہت سیانی بن رہی ہو، پدما! ارے ابھی تو پہلا کال ہی ختم نہیں ہوا۔‘‘
تیز تیز قدم بڑھا کر آرسی اور پدما جھٹ دادا اور گنیش کے قریب جا پہنچیں۔ گنیش نے آرسی کو دیکھا۔ وہ اُس سے کچھ پوچھنا چاہتا تھا۔ مگر اصل سوال اس کے ذہن ہی میں کہیں کھوگیا تھا۔ اُس نے یوں ہی پوچھ لیا۔ ’’تھک تو نہیں گئی، آرسی؟‘‘
اُدھر سے دادا نے پدما سے کہا، ’’اب تو کبھی کلکتے نہیں جاؤگی نا، پدما۔‘‘
آرسی اور پدما نے مل کر قہقہہ لگایا جس میں گنیش اور دادا کے سوال ہمیشہ کے لیے گھر گئے۔ گنیش سوچ رہا تھا کہ آرسی کمسن ہے اور گوری بھی۔ اگر مجھے مل جائے تو بہت اچھا ہو اور دادا تو پدما سے بھی نبھا سکتے ہیں۔ وہ ایسی سانولی تو نہیں جیسی اس وقت چاندی میں نظر آرہی ہے۔
آرسی اور پدما آگے بڑھ گئیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ سب سے پہلے رانگا ماٹی جا پہنچیں۔ آرسی کہہ رہی تھی ’’بھگوان ہی نے مدد کی کہ میں اس نرک سے بچ نکلی۔ ہائے میں دس روپے میں بیچ دی گئی تھی۔‘‘
پدما بولی، ’’بکنے کی بجائے اگر تو اپنا گلا گھونٹ کر مرجاتی تو اچھا ہوتا۔‘‘
دادا اور گنیش نے بھی اپنی رفتار تیز کردی تھی اور وہ آرسی اور پدما کی باتیں سننے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ جب گنیش نے یہ سنا کہ آرسی کسی بیسوا کے ہاں سے بھاگ کر آرہی ہے تو قریب تھا کہ اس کا وہ قلعہ ڈھے پڑے جو اُس نے آرسی کی گھنگریلی لٹوں کو دیکھ کر تعمیر کیا تھا۔ لیکن یہ سوچ کر کہ نرک سے کسی طرح بھی بھاگ آنا بڑی بہادری کا کام ہے، اس نے اپنے من کو سمجھا لیا۔
اُدھر بیراگی بابا اور بیراگن ماتا کے آگے آگے ان کا جوان نواسہ تیز تیز قدم اٹھا رہا تھا۔ بیراگی بابا بولا۔ ’’رانگا ماٹی پہنچ کر میں مَل مَل کر نہاؤں گا۔‘‘
بیراگن ماتا کہنے لگی ’’کیا ہم بیٹے اور بہو کو گنوانے کے لیے ہی رانگا ماٹی سے کلکتے گئے تھے؟‘‘
’’اوہو۔۔۔ اچھا‘‘ پیراگی بابا نے بازو پھیلا کر کہا ’’اب گوپال سب کام سنبھال لے گا۔ اس کی بہو بھی آجائے گی۔‘‘
مگر گوپال کو بیاہ سے شاید کوئی سروکار نہ تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ کسی کہانی کے شہزادے کی طرح اڑن کھٹولے میں بیٹھ کر جھٹ رانگا ماٹی پہنچ جائے۔
پیچھے سے ایک عورت اپنی لڑکی کو لیے ہوئے آگے بڑھ جانا چاہتی تھی۔ بیراگن ماتا نے انھیں پہچانتے ہوئے کہا۔ تم تو ہم سے بھی پہلے رانگا ماٹی پہنچ جانا چاہتی ہو۔ اری منگل چنڈی، گوری کی دور مت بیاہنا‘‘
منگل چنڈی ہنس کر بولی ’’رانگا ماٹی پہنچ کر سب کام تمھاری رائے سے کیا جائے گا، بیراگن ماتا۔ کلکتے کی اور بات تھی۔‘‘
بیراگن ماتا نہ جانے کیا سوچ کر جھٹ کہہ اٹھی۔ ’’چاہو تو گھر جنوائی رکھ لینا، منگل چنڈی۔‘‘
سامنے سے گوپال نے پیچھے مڑ کر گوری کی طرف دیکھا۔ وہ کہنا چاہتا تھا کہ اس اکہرے بدن کی مریل سی چھو کری کے لیے میں تو کبھی گھر جمائی ہونا پسند نہ کروں۔
گوری تیز تیز قدم اٹھا کر پدما اور آرسی کے قریب چلی گئی اور گنگنانے لگی۔
مانشی ندیر پارے پارے
او ویدی!
شونار بندھو گان کورے جائے!
’’مانسی ندی کے اُس پار کنارے کنارے سنہری محبوب گاتے گاتے چلا جا رہا ہے۔‘‘
پدما نے اُسے ٹہو کا دیا۔ ’’مانسی ندی کا گیت مت گاؤ گوری۔‘‘
گوری بگڑ کر بولی۔ ’’کیوں تجھے کاٹتا ہے میرا گیت؟‘‘
پدما نے قہقہہ لگا کر چوٹ کی۔ ’’ارے واہ۔ بڑی سنتونتی بنی پھرتی ہے۔ نرک سے نکل کر جھٹ مانسی ندی کا گیت یاد آگیا‘‘۔ آرسی نے بیچ بچاؤ کرنا چاہا تو پدما اس پر بھی ڈائن کی طرح آنکھیں نکال کر جھپٹ پڑی ’’تم بھی گوری کی بہن ہو آرسی۔ مجھے تو تمھارے خیال ہی سے شرم آجاتی ہے۔ تمھارے جیسی لڑکیوں کے لیے تو مانسی ندی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سوکھ جانی چاہیے۔‘‘ گوری اور آرسی جھینپ کر اور بھی قریب آگئیں اور پدما پرے ہٹ گئی۔ گوری بولی ’’رانگا ماٹی پہنچ کر میں روز مانسی ندی کا گیت گایا کروں گی۔‘‘
آرسی نے اُس کے گلے میں بازو ڈالتے ہوئے کہا۔ ’’گھبراؤ نہیں دیدی۔ ہمیں سنہری محبوب ضرور پہنچان لے گا۔‘‘
ٹھاکر ماما اور بیراگی بابا باتیں کرتے کرتے سب سے آگے نکل جانا چاہتے تھے۔ ایک ہی جست میں وہ آرسی اور گوری کے پاس سے گزر گئے۔ بیراگی بابا کہہ رہا تھا۔ ’’کوئیں کی مٹی کوئیں ہی میں کھپتی ہے۔‘‘
’’ہاں ہا ہا‘‘ ٹھاکر ماما نے پونم کے چاند کی طرف بازو اٹھا کر کہا۔
’’کلکتے میں تو کبھی چاند اتنا خوبصورت نظر نہیں آیا تھا۔ رانگا ماٹی میں تو چاند بہت ہی سندر معلوم ہوتا ہے۔ کلکتے میں مرنے سے تو یہی بہتر ہے کہ ہم رانگا ماٹی کے راستے ہی میں مر جائیں۔‘‘
’’سچ ہے ٹھاکر‘‘
’’میں نے ایک گرنتھ میں پڑھا تھا، بابا کہ رانگا ماٹی تو ایک تیرتھ ہے جہاں چنڈی داس اور کوی ودیاپتی گلے ملے تھے۔ ایسی رانگا ماٹی میں ہمارا جنم ہوا۔ اب ہم رانگا ماٹی ہی میں مریں گے۔‘‘
’’کلکتے میں تو ہماری لاشیں سڑک کے کنارے پڑی سڑتی رہتیں، ٹھاکر۔‘‘
گوری اور آرسی بھی بیراگی بابا اور ٹھاکر ماما کی باتوں سے بندھی ہوئی آگے بڑھ رہی تھیں۔ وہ ذرا خاموش ہوگئے تو آر سی کا ذہن پدما کی طرف پلٹ گیا اور وہ گوری کے گلے میں بازو ڈال کر بولی۔ پدما تو شروع کی لڑاکا ہے، دیدی۔ اتنا بڑا کال بھی اُس کی طبیعت کو نرم نہ کرسکا۔
گوری کہہ اٹھی ’’بڑی ستونتی بنی پھرتی ہے۔ ست کیا گھمنڈ کو کہتے ہیں! میں نہیں مان سکتی کہ کلکتے نے اُسے ستونتی چھوڑا ہوگا۔‘‘
’’اگر وہ لوگ ہمیں پیچھے سے آکر کر پکڑلیں، دیدی تو کہو ہم کیا جواب دیں گی؟‘‘
’’پدما کا بس چلے تو ہمیں پھر وہیں پہنچواکر دم لے۔‘‘
’’اونھ۔۔۔ دیدی، پدما کی بات چھوڑو۔ وہ ان کے پنجے میں پھنس جاتی تو وہیں رہ جاتی۔ لیکن ہمیں تو رانگا ماٹی کی یاد ستا رہی تھی۔ اور ہم بھاگ آئیں۔‘‘
آرسی اور گوری تیز تیز چلنے لگیں۔ اُدھر سے گنیش نے انھیں دیکھا آرسی کی آواز اس کے کان میں یوں پہنچ رہی تھی جیسے بند مٹھی سے آزاد ہو کر کیوڑے کے پھول کی تیز خوشبو آرہی ہو اور وہ چاہتا تھا کہ دادا آگے نکل جائے اور وہ ذرا آرسی کے قریب ہوجائے لیکن دادا بھی اُس کی رگ رگ پہچانتا تھا۔
دادا بولا، ’’وہ لوگ ابھی تک رانگا ماٹی ہی میں ہوں گے۔ ساہو کار اور زمیندار۔‘‘
’’ہاں دادا‘‘، گنیش نے چور نگاہوں سے آرسی کی طرف دیکھ کر کہا۔
’’اب ہمیں واپس آتے دیکھ کر وہ کیا سوچیں گے؟‘‘
’’میں کیا جانوں؟‘‘
’’کیوں وہ خوش نہ ہوں گے۔‘‘
’’کیا کہہ سکتا ہوں؟‘‘
’’ساہو کار پھر قرض دے گا اور سود لے گا!‘‘
’’وہی جانے۔‘‘
گنیش جواب دیتے دیتے تنگ آچکا تھا لیکن دادا سوال پہ سوال کیے جارہا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ دادا سے کہے، اب چپ بھی کرو گے یا نہیں؟ لیکن باپ کی غیر حاضری میں بڑے بھائی کی عزت بھی تو ضروری تھی اور اب دادا بہت گہرائی میں چلا گیا تھا۔
’’ساہو کار اور زمیندار مرکیوں نہیں جاتے؟‘‘
’’ہم جو مرنے کے لیے ہیں۔‘‘
’’انصاف کا خون اسی طرح ہوتا رہے گا اور قانون کیا یوں ہی رہیں گے؟‘‘
’’یہ تو قانون بنانے اور انصاف کرنے والے ہی جانیں۔ میں کیا جانوں؟‘‘
اُدھر بیراگن ماتا منگل چنڈی سے کہہ رہی تھی۔ ’’گوپال کے بیاہ پر ساہو کار سے قرض لینا ہوگا۔ وہ انکار تو نہیں کردے گا؟‘‘
پاس سے بیراگی بابا نے بگڑ کر کہا۔ ’’انکار تو جب کرے کہ ہم بے ایمان ہوں، چورہوں، اٹھائی گیرے ہوں۔‘‘
منگل چنڈی نے سرد آہ بھر کر بیراگی بابا کی طرف دیکھا اور پھر بیراگن ماتاکا بازو چھو کر بولی۔ ’’ہم تو بھلے آدمی ہیں۔ کسان، بھگوان نہ روٹھ جائے، زمیندار اور ساہو کار کو تو منایا بھی جاسکتا ہے۔‘‘
ٹھاکر ماما خاموشی سے باتیں سن رہا تھا۔ جانے کیا سوچ کر وہ چاند کی جانب دیکھنے لگا اور پھر بیراگی بابا کی طرف دیکھ کر بولا۔ ’’اب تو چاندنی میں سلوٹیں پڑنے لگیں۔ بابا ہم رانگا ماٹی کے قریب پہنچ رہے ہیں۔‘‘
’’کل رات بھی تم نے یہی بات کہی تھی ٹھاکر!‘‘ بابا نے دور ناریل کے درختوں کی طرف ایک طویل نگاہ ڈال کر کہا۔ ’’یہ سب قدرت کا کھیل ہے۔ بہت دن اسی طرح بیت گئے۔ دن کو مقام رات کو سفر۔ یہ زندگی بھی کیا زندگی ہے۔‘‘
’’کلکتے میں تو بھیک مانگنے پر بھی نہیں ملتی تھی بابا۔ اب یہاں لوگ خود ہی کچھ نہ کچھ دے دیتے ہیں۔ کال کی بھٹی میں جیون سونے کی طرح کندن بن کر نکلے گا، یہ کون جانتا تھا؟‘‘
’’کندن! ہاہاہا۔ اب کیا رانگا ماٹی میں چاند اور سورج ہمارا کہا مانیں گے؟‘‘
ٹھاکر ماما نے ہنس کر بات ٹال دی۔ بیراگی بابا نے یہی سوچ لیا کہ ہاں اب رانگاماٹی میں چاند اور سورج ساہوکا ر اور زمیندار کی بجائے لوگوں کا حکم مانیں گے۔ اُس نے خوش ہو کر اِدھر اُدھر دیکھنا شروع کردیا۔
قافلہ ایک دوراہے پر پہنچ چکا تھا۔ کچھ لوگ اپنے گاؤں کی طرف مڑ گئے۔ بیراگی بابا کو اب اتنی فرصت نہیں تھی کہ رُک کر ان کی طرف دیکھتا رہے۔ ٹھاکر ماما نئی نئی باتیں سنائے جارہا تھا۔ پُرانے زمانے میں رانگا ماٹی کی زمین پر دو راجاؤں میں زبردست جنگ ہوئی تھی، اتنا خون گرا، اتنا خون گرا کہ رانگا ماٹی کی زمین اب تک لال ہے۔ وہاں ہمیشہ سچائی پھلی پھولی ہے، ہمیشہ سچائی ہی کی جیت ہوتی ہے۔ رانگا ماٹی کے ساہوکار اور زمیندار اب ہماری سچائی کے سامنے ہار ماننے پر مجبور ہوجائیں گے۔
ٹھاکر ماما نے بیراگی بابا کو تیز تیز قدم اٹھانے کی تلقین کرتے پھر کہا۔ ’’جیسے اچھے بھلے آ م میں کیڑے پڑ جائیں بس کچھ اسی طرح دیس میں کال پڑگیا۔‘‘
اب رانگا ماٹی میں تو ہم ہمیشہ کے لیے کال کا راستہ بند کردیں گے۔ بابا نے تھکی ہوئی آواز میں نیا زور لاتے ہوئے کہا ’’اب رانگا ماٹی پر زمیندار اور ساہوکار کا حکم نہیں چل سکتا۔ وہ راجہ جو یہاں دوسرے راجہ سے ہار گیا تھا۔ وہ تو بہت بڑا راجہ تھا نا۔ زمیندار اور ساہوکار کیا اُس سے بھی بڑے ہیں، ہماری اور ان کی لڑائی شروع ہونے والی ہے۔‘‘
کسی تھکی ہوئی گھوڑی کی طرح کنوتیاں تانے بیراگن ماتا ٹھاکر ماما اور بیراگی بابا کی باتیں سن رہی تھی۔ وہ کہنا چاہتی تھی کہ اس بک بک کو بند کرو۔ ایسی ہی طاقت تھی تو وقت پر زور دکھایا ہوتا۔ اُس وقت تو کہیں سے چاول کا ایک دانہ بھی نہ لاسکے۔ دبّو بن گئے۔ اب یوں ہی شیخیاں بگھار رہے ہو۔
ادھر گنیش اپنے بھائی سے بچھڑ کر آرسی اور گوری کے ساتھ مل گیا تھا۔ گوری کہہ رہی تھی ’’گنیش پہلے تو بہت شرمیلا تھا۔‘‘
آرسی نے قہقہہ لگاکر گنیش کا مذاق اڑایا۔ ’’میں نے تو گنیش کو کبھی شرمیلا نہیں سمجھا، گوری۔ اور اب تو کلکتے نے اُسے اور بھی ہوشیار بنادیا ہوگا!‘‘
گنیش کے جی میں تو آیا کہ صاف صاف کہہ دے، تمھیں بھی تو کلکتے نے بہت کچھ سکھا دیا ہوگا۔ لیکن رانگا ماٹی کی روایتیں اُسے ان کے اور اپنے بیچ میں دو ہاتھ کا فاصلہ رکھنے پر مجبور کر رہی تھیں۔ ہاں، اب روایتیں از سرِ نو زندہ ہونے لگی تھیں۔
اُدھر منگل چنڈی اور پدما اب ساتھ ساتھ چل رہی تھیں۔ اور منگل چنڈی کی کہانی نے پدما کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ سچ مچ وہ شہزادی، جسے آدم خور دیو نے قید کر رکھا تھا اور جو بہت مدت تک شہزادے کا انتظار کرنے کے بعد خود ہی ہمت کرکے سات جزیروں اور سات سمندروں کو پار کرتی اپنے دیس میں آگئی تھی، آرسی اور گوری سے بہادر کیسے ہوسکتی ہے۔ لیکن ابھی تک اس کا وقار اسے اجازت نہ دیتا تھا کہ وہ بڑھ کر اُن کے ساتھ جاملے۔ اس نے دور سے دیکھا کہ ان کے ساتھ ساتھ اب گنیش اور گوپال چلے جارہے ہیں۔ اُسے خیال آیا کہ گنیش اور گوپال ہی وہ شہزادے ہیں، جنھوں نے آرسی اور گوری کی کچھ مدد نہیں کی تھی اور اب وہ بارِ ندامت سے کچھ بول نہیں سکتے۔ جانے کیا سوچ کر وہ منگل چنڈی سے بچھڑ گئی اور ان کے قریب ہوکر چلنے لگی۔
گنیش گوری کی طرف تھا اور گوپال آرسی کی طرف۔ گوری اور آرسی قدم قدم پر قہقہے لگارہی تھیں، جیسے وہ یہ جتانا چاہتی ہوں کہ اب تو نیا زمانہ ہے۔ اب لڑکیاں لڑکوں کو چنا کریں گی۔ گنیش کے ذہن میں وہ گیت گونج رہا تھا جو اُس نے کلکتے میں سنا تھا۔ ایک ندی کے کنارے ملنے سے مجبور۔ اور گوپال سوچ رہا تھا کہ گوری کی ماں تو گھر جنوائی رکھنا چاہتی ہے۔ بھلا کوئی بتائے کہ میرے بغیر بیراگی بابا اور بیراگن ماتا کیسے جئیں گے جن کا بیٹا اور بہو دونوں چل بسے ان کا کیا رہ گیا؟ اب تو میرے ماں باپ یہی بیراگی بابا اور بیراگن ماتا ہیں۔ ہاں۔ ایک ندی کے دو کنارے ملنے سے مجبور۔ میں لاکھ سوچوں، گوری سے میرا بیاہ ہونا ناممکن ہے۔
قافلہ ناریل کے اونچے اونچے درختوں کے بیچ سے گزر رہا تھا۔ جیسے کوئی فوج کسی درے کو عبور کر رہی ہو۔ درختوں سے چھن کر چاندی کی سلوٹیں اور بھی گہری ہوگئی تھیں۔ اور ان سلوٹوں ہی کی طرح اجنبی اور مانوس آوازیں آپس میں تحلیل ہورہی تھیں۔ کچھ لوگ یوں زبان چلا رہے تھے جیسے آلو چھیلتے ہیں اورکچھ یوں جیسے قینچی سے کپڑا کاٹتے ہیں۔ مریل سی آوازوں میں بھی تازگی آگئی تھی۔
ٹھاکر ماما کہہ رہا تھا۔ ’’ہمارے بھاگ اچھے ہیں کہ بابا ہم لوٹ کر رانگا ماٹی جارہے ہیں۔‘‘
’’ہاں ٹھاکر، رانگا ماٹی ہمیں بلا رہی ہے۔‘‘
’’رانگا ماٹی کا نام تو بڑے بڑے شاستروں اور اتہاسوں میں آیا ہے، بابا!‘‘
’’ضرور آیا ہوگا ٹھاکر۔‘‘
’’کہتے ہیں یہاں بھگوان بدھ بھی آئے تھے بابا۔‘‘
’’کیوں کلکتے میں تو بھگوان بدھ کبھی نہیں آئے تھے نا ٹھاکر۔‘‘
’’کوئی جے دیو نے اپنے گیتوں میں رانگا ماتی کی سندرتا کا حال لکھا ہے بابا۔‘‘
’’واہ ری رانگا ماٹی۔‘‘
یہ بھی لکھا ہے بابا ململ پہلے پہل ڈھاکے میں نہیں رانگا ماٹی میں تیار ہونے لگی تھی اور در وپدی کی ساڑھی جسے دو شاشن اتارنا چاہتا تھا، اسی رانگا ماٹی کی ململ سے تیار کی گئی تھی۔ اور لکھا ہے کہ ’’یہاں اتنی باریک ململ تیار کی جاتی تھی کہ کوئی بیس بیس تہیں جوڑ کر بھی پہنے تو انگ انگ نظر آئے۔ اب وہ کاریگر جانے کہاں چلے گئے!‘‘
’’ہم انھیں پھر بلا لائیں گے ٹھاکر۔‘‘
اور بابا باسمتی چاول کی جنم بھومی بھی اصل میں رانگا ماٹی ہی ہے۔
’’اب لاکھ کال پڑ جائے باسمتی کی جنم بھومی رانگا ماٹی کو چھوڑ کر یہ کہیں نہیں جائیں گے ٹھاکر!‘‘
چاند ایک طرف لڑھک کر پھیکا پڑ گیا تھا لیکن ابھی کافی رات باقی تھی۔ اور بیراگی نے سوچا کہ آج سورج رانگا ماٹی کی دھرتی پر ہی نکلے گا۔ وہ کتنی شبھ گھڑی ہوگی۔ جب وہ وہاں کھڑے ہو کر کھیتوں کو پرنام کریں گے۔ اس وقت انھیں یاد بھی نہ رہے گا کہ وہ کلکتے میں بھیک مانگتے تھے اور دھتکارے جاتے تھے۔
کسی نے چلا کر کہا۔ ’’وہ رہا رانگا ماٹی کو جانے والا راستہ‘‘
ٹھاکر بابا چلایا۔ ’’اب ہم جلد پہنچ جائیں گے۔‘‘
بیراگی بابا کہہ رہا تھا۔ ’’قافلہ تو اور آگے جائے گا۔ ہم قافلے سے چھٹی لے لیں گے۔‘‘
اور دو راہے پر پہنچ کر بیراگی بابا بہت دیر تک قافلے کی جانب دیکھتا رہا، جیسے کہہ رہا ہو۔ تمھارے گاؤں بھی اب دور نہیں، قافلے والو۔ جلدی جلدی قدم اٹھاؤ۔ ٹھاکر ماما نے اس کا کندھا جھنجوڑا۔ ’’چلو بابا ورنہ ہم سب سے پیچھے گاؤں پہنچیں گے۔‘‘
ہر کوئی بھاگنے لگا تھا اور یہی چاہتا تھا کہ ایک ہی جست میں گھر کے سامنے جا پہنچے، اور سورج ابھی نکلا بھی نہ تھا کہ وہ رانگا ماٹی جا پہنچے۔ کھیتوں کو پرنام کرتے ہوئے وہ گاؤں کی طرف چلے جارہے تھے۔ جھونپڑیوں کی حالت زار انھیں پھر سے تڑپانے لگی۔ ہر کوئی اپنی خستہ حال جھونپڑی کے اندر جھانکتے ہوئے جھجکتا تھا اور جن جھونپڑیوں کے مالک کلکتے ہی میں رہ گئے تھے، ان کے بھوت شاید اِن زندہ بچ کر آنے والوں سے پہلے ہی آگئے تھے۔
پھر اُن کی نگاہیں ساہوکار کے گھر کی طرف اٹھ گئیں۔ لیکن سب نے مل کر فیصلہ کیا کہ پہلے زمیندار کے دوار پر جانا چاہیے۔ اور وہ پورب کی طرف چل پڑے جدھر اُفق پر سورج ایک سنہری روٹی کی طرح نموار ہورہا تھا۔ انھیں وہ دن یاد آگیا جب وہ رانگا ماٹی کو آخری سلام کر کے کلکتے کی طرف چل پڑے تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ مرتے جائیں گے لیکن اس دھرتی کا منھ نہیں دیکھیں گے۔ مگر جنم بھومی کی یاد انھیں پھر کھینچ لائی۔ وہ حیران تھے کہ انھوں نے اپنا فیصلہ کیسے رد کردیا۔ ساہوکار کا قانون اب بھی سود کا قانون ہوگا اور زمیندار لگان کے بغیر بات نہیں کرے گا لیکن جئیں یا مریں، کلکتے سے تو رانگا ماٹی ہی بہتر ہے۔ اپنی جنم بھومی تو ہے۔
اور زمیندار کے دوار پر پہنچ کر انھوں نے دیکھا کہ ساہوکار بھی وہاں موجود ہے۔ سب نے ایک زبان سے کہا۔ نمسکار مہاراج! اور چند لمحوں کے لیے ساہوکار ٹھٹھک کر رہ گیا۔ گویا اسے یقین نہیں آتا تھا کہ یہ آوازیں زندہ انسانوں کی ہیں اور جب اُسے ہوش آیا تو اُس نے منھ پھُلاکر کہا۔ ’’بیراگی بابا تم۔ اور ٹھاکر ماما، منگل چنڈی؟ کہاں رہے اتنے دن؟‘‘
بیراگی بابا نے آگے بڑھ کر کہا۔ ’’جہاں اَن جل پھر اتا ہے وہاں پھرتے رہے مہاراج! بھاگ میں آپ کے درشن لکھے تھے سو بچ کر آگئے۔‘‘
’’باقی کہاں ہیں؟‘‘ ساہوکار نے حیرت سے پوچھا۔
’’بہت تومر گئے۔ کچھ وہیں رہ گئے۔‘‘
’’کوئی بات نہیں۔ تم آگئے تو وہ بھی آجائیں گے۔‘‘
’’ہاں مہاراج‘‘ بیراگی بابا نے عاجزی سے کہا۔
’’زمیندار بابو تو تمھیں بہت مدت سے یاد کر رہے تھے۔‘‘
’’انہی کا آسرا ہے ہمیں بھی مہاراج۔‘‘
اس اثنا میں زمیندار باہر نکل آیا اور سب نے ’’دھرتی راجہ بابو‘‘ کی جے کا نعرہ لگایا۔
آرسی گوپال کی طرف کنکھیوں سے دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ ساہوکار مالدار آدمی ہے اور بیاہ کے لیے زیادہ قرض کی ضرورت بھی تو نہیں۔
گوری نے پدما کی طرف ایک طنز آمیز نگاہ پھینکی، جیسے کہہ رہی ہو کہ میں ستونتی نہیں تو نہ سہی لیکن گنیش اب تمھارا ہونے سے تو رہا۔
ساہوکار بولا۔
’’رانگا ماٹی میں کمی نہیں۔ تم لوگ ہل چلاؤ، فصلیں اگاؤ۔ روپیہ ہم لگائیں گے۔‘‘
بیراگی بابا، ٹھاکر ماما اور گوپال کے مردہ چہروں پر رونق سی آگئی۔ ’’ہمیں آپ ہی کا آسرا ہے مہاراج‘‘ وہ یک زبان ہو کر کہہ اٹھے۔
اُس وقت موقع دیکھ کر زمیندار نے ہاتھ کے اشارے سے سب کو چپ کرایا اور ٹوٹی پھوٹی غربت کی ماری جھونپڑیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’دیکھو وہ لوگ بھی تو کام کر رہے ہیں۔ پگلو! میں نے تو جب بھی تم سے کہا تھا کہ رانگا ماٹی چھوڑ کر مت جاؤ۔‘‘
دیوندر ستیارتھی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے