پھر وہی کنجِ قفس

پھر وہی کنجِ قفس
چند لمحوں کے لیے شور اٹھا ڈوب گیا
کہنہ زنجیرِ غلامی کی گرہ کٹ نہ سکی
پھر وہی سیلِ بلا، وہی دامِ امواج
ناخداؤں میں سفینے کی جگہ بٹ نہ سکی
ٹوٹتے دیکھ کے دیرینہ تعطل کا فسوں
نبضِ امیدِ وطن ابھری، مگر ڈوب گئی
پیشواؤں کی نگاہوں میں تذبذب پاکر
ٹوٹتی رات کے سائے میں سحر ڈوب گئی
میرے محبوب وطن! تیرے مقدر کے خدا
دستِ اغیار میں قسمت کے عناں چھوڑ گئے
اپنی یک طرفہ سیاست کے تقاضوں کے طفیل
ایک بار اور تجھے نوحہ کناں چھوڑ گئے
پھر وہی گوشۂ زنداں ہے ، وہی تاریکی
پھر وہی کہنہ سلاسل، وہی خونیں جھنکار
پھر وہی بھوک سے انساں کی ستیزہ کاری
پھر وہی ماؤں کے نوحے، وہی بچوں کی پکار
تیرے رہبر تجھے مرنے کے لیے چھوڑ چلے
ارضِ بنگال! انھیں ڈوبتی سانسوں کی پکار
بول! چٹگاؤں کی مظلوم خموشی کچھ بول
بول اے پیپ سے رستے ہوئے سینوں کی بہار
بھوک اور قحط کے طوفان بڑھے آتے ہیں
بول اے عصمت و عفت کے جنازوں کی قطار
روک ان ٹوٹتے قدموں کو انھیں پوچھ ذرا
پوچھ اے بھوک سے دم توڑتے ڈھانچوں کی قطار
زندگی جبر کے سانچوں میں ڈھلے گی کب تک
ان فضاؤں میں ابھی موت پلے گی کب تک
ساحر لدھیانوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے