پھر سے دل کے آسماں پر حیرتوں کا در کھلا

پھر سے دل کے آسماں پر حیرتوں کا در کھلا
تیرے سنگِ آستاں پر حسرتوں کا در کھلا
ایک مدت سے سبھی منظر بڑے خاموش تھے
پھر اچانک شوخیوں کا مستیوں کا در کھلا
اک تیری نظرِ عنایت سے بھری ہے روشنی
گویا میرے واسطے پھر رحمتوں کا در کھلا
اس نے رازِ دل عیاں کرکے فضا رنگین کی
یعنی ہرجا تتلیوں کا خوشبوؤں کا در کھلا
اک تیری تصویر ہے بس سینہ ءصد چاک میں
دستِ سوزاں سے رفو گر چاہتوں کا در کھلا
اک دیا روشن ہوا ہے سوچ کا پھر سوچ میں
وقت کے سیل رواں میں جگنوؤں کا در کھلا
رفتہ رفتہ سارے منظر مندمل ہونے لگے
یوں تیرے دستِ شفا سے راحتوں کا در کھلا
تیری آنکھوں کے فروزاں طاقچوں میں پیار سے
پھر سے اک امید کا اور خواہشوں کا در کھلا
اس نے لفظوں کی ہتھیلی پر لیا چہرہ میرا
میرے جسم وجان میں پھر نکہتوں کا در کھلا
میں کنول کس کو سناؤں داستانِ بزم دل
ہجر کی دیوار میں پھر قربتوں کا در کھلا
آسناتھ کنول

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے