پھر مجھ کو خامشی میں کسی نے پکارا کیا

پھر مجھ کو خامشی میں کسی نے پکارا کیا

مہتاب آگیا ہے پلٹ کر دوبارہ کیا

ہر روز صبح دم کوئی آئینہ ٹوٹنا

اس خواب میں بچے گا ہمارا تمہارا کیا

دیکھو یہ کارِ عشق نہیں ،کارِ خیر ہے

تم اس میں کر رہے ہو میاں استخارہ کیا

یہ تم جو آئنے کی طرح چُور چُور ہو

تم نے بھی اپنی عمر کو دل پر گزارا کیا

سعود عثمانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے