پھر میں نظر آیا، نہ تماشا نظر آیا

پھر میں نظر آیا، نہ تماشا نظر آیا
جب تُو نظر آیا مجھے تنہا نظر آیا

اللہ رے دیوانگئ شوق کا عالم
اک رقص میں ہر ذرّہ صحرا نظر آیا

اُٹھّے عجب انداز سے وہ جوشِ غضب میں
چڑھتا ہوا اک حُسن کا دریا نظر آیا

کس درجہ ترا حسن بھی آشوبِ جہاں ہے
جس ذرّے کو دیکھا وہ تڑپتا نظر آیا

اب خود ترا جلوہ جو دکھا دے، وہ دکھا دے
یہ دیدۂ بینا تو تماشا نظر آیا

تھا لطفِ جنوں دیدۂ خوں نابہ فشاں سے
پھولوں سے بھرا دامنِ صحرا نظر آیا
٭٭٭

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے