پھر بھی ہے تم کو مسیحائی کا دعویٰ دیکھو

پھر بھی ہے تم کو مسیحائی کا دعویٰ دیکھو

مجھ کو دیکھو مرے مرنے کی تمنّا دیکھو

جرمِ نظارہ پہ کون اتنی خوشامد کرتا

اب وہ روٹھے ہیں لو اور تماشا دیکھو

دو ہی دن میں وہ بات ہے نہ وہ چاہ نہ پیار

ہم نے پہلے ہی یہ تم سے نہ کہا تھا دیکھو؟

ہم نا کہتے تھے بناوٹ سے ہے سارا غصّہ

ہنس کے لو پھر انھوں نے ہمیں دیکھا دیکھو

مستیِ حسن سے اپنی بھی نہیں تم کو خبر

کیا سنو عرض میری،حال میرا کیا دیکھو

گھر سے ہر وقت نکل آتے ہو کھولے ہوئے بال

شام دیکھو نہ میری جان سویرا دیکھو

خانۂ جان میں نمودار ہے اک پیکرِ نور

حسرتو آؤ رخِ یار کا جلوہ دیکھو

سامنے سب کے مناسب نہیں ہم پر یہ عتاب

سر سے ڈھل جائے نہ غصّے میں‌ ڈوپٹہ دیکھو

مر مٹے ہم تو کبھی یاد بھی تم نے نہ کیا

اب محبّت کا نہ کرنا کبھی دعویٰ دیکھو

دوستو ترکِ محبّت کی نصیحت ہے فضول

اور نہ مانو تو دلِ زار کو سمجھا دیکھو

سر کہیں،بال کہیں،ہاتھ کہیں‌،پاؤں کہیں

اس کا سونا بھی ہے کس شان کا سونا دیکھو

اب وہ شوخی سے یہ کہتے ہیں ستمگر جو ہیں‌ہم

دل کسی اور سے کچھ روز بہلا دیکھو

ہوَسِ دل مٹی ہے نہ مٹے گی حسرت

دیکھنے کے لیئے چاہو انہیں جتنا دیکھو

حسرت موہانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے