فروری 5, 2023
ilyas aajiz
ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل

پیوست اپنے دل میں تب خار دیکھتا ہوں
دشمن کی صف میں اپنےجب یار دیکھتا ہوں

نیلام ہو چکے ہیں تیر و کمان اپنے
دستِ عُدُو میں اپنی تلوار دیکھتا ہوں

دن رات اُگ رہی ہیں فصلیں سَروں کی لیکن
انسان سے میں خالی سنسار دیکھتا ہوں

بے چینیاں ہیں پھیلیں لشکر کی خیر مولا
اپنی صفوں میں گُھستے غدار دیکھتا ہوں

بنیاد ہل چکی ہے انصاف کی وطن میں
منصف کے سر سے گرتی دستار دیکھتا ہوں

کپڑا مکان روٹی سب کو نہیں میسر
اپنے وطن سے دیگر اُس پار دیکھتا ہوں

ہر سال چہرے بدلے ہیں قسمت نہیں ہے بدلی
عاجز تماش بینی ہر بار دیکھتا ہوں

ڈاکٹرمحمدالیاس عاجز

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے