پہنا ہے اس نے شوق سے جو پیرہن سفید

پہنا ہے اس نے شوق سے جو پیرہن سفید
دکھنے لگا ہے اور بھی اس کا بدن سفید
تعبیر تو ذرا مجھے اس کی بتائیے
دیکھا ہے میں نے نیند مِیں حیرت کا تن سفید
مرنے سے پہلے موت کی لذت کو جاننے
میں بھی خرید لایا ہوں اپنا کفن سفید
وہ جلوہ ہائے حسن دکھاتا رہا مجھے
کھلتا گیا لباس شکن در شکن سفید
مبشّر سعید

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے