پہلی ملاقات

پہلی ملاقات
سرِ طُور
کوئی نبوت کا دعویٰ نہیں تھا
کہ دھڑکن خُدا کی تجلی سے بھسما چکی ہو
شِکوہِ شہی کی یہ آمد نہیں تھی
کہ سرکش غلاموں کی سانسیں
بجھی زندگی میں حنوط اور یخ ہو رہی ہوں
حسیں ساعتِ دلبری میں فسوں کی گھڑی تھی
کہ وہ آرہی تھی
کسی پارسا نیم خوابی کی تعبیر تھی
یا وہ دستِ حنائی پہ مکتوب لِکھ کر
مری ساری گردش کو ٹھہرا چکی تھی
مری سوختہ آنکھ خواہش کے پردے کو سرکا چکی تھی
کہ وہ آ چکی تھی
کہیں قرمزی گُل کی سُرخی اذانوں کی صورت زُباں سے نکلتی
فضائوں میں روحانیت سے دریچے مہکتے
مقدس نگاہی میں اِتنی توجہ بھری تھی
مجھے وہ نہیں دیکھتی تھی
صفیں وصف کی زاویوں میں بچھی تھیں
بدن ٹھیکری تھا مرا
اور اُس کی مجسم بناوٹ سے لِپٹا ہوا تھا
کلائی کی شہ راہ پر جیسے شہرِ صبا تھا
فرَوکش رہی سامنے وہ مرے
انبساطِ تغیر
رواں پانیوں میں مرے جزو کا سائباں جھولتا تھا
تلاطم سے کُل کا مکاں ڈولتا تھا
حدیثِ محبت سے دِل کے صحیفوں پہ
سطریں اُترتی رہی تھیں
کسی کوہ پر
جیسے پہلی تجلی سے دھڑکن تھمی تھی
عرفان شہود

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے