پیار میں ڈر کہاں سے لےآئے

پیار میں ڈر کہاں سے لےآئے
خیر میں شرکہاں سے لے آئے
آنے والے یه قتل گاهوں سے
دوش په سر کہاں سےلےآئے
رهگزاروں کی بات هے جانے
بیج میں گھرکہاں سےلےآئے
چھوڑآئے هیں گیت هم کس جا
دیدهء ترکہاں سے لےآئے
جاچُکاهےجووقت پھراُس کو
کوئی جاکر کہاں سے لےآئے
فرانسس سائل

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے