پتّھروں میں گُلاب دیکھتا ہوں

پتّھروں میں گُلاب دیکھتا ہوں
اپنی مرضی کے خواب دیکھتا ہوں

آنکھ سے وہ دِکھائی دیتا نہیں
دل سے میں بے حساب دیکھتا ہوں

یہ بھی ممکن ہے ڈوب جاؤں میں
اُس کی آنکھوں میں آب دیکھتا ہوں

دید کا اک سوال ہیں آنکھیں
اُس کا چہرہ جواب دیکھتا ہوں

کب حقیقت میں دیکھتا ہوں اُسے
میں تو بس اُس کے خواب دیکھتا ہوں

راہِ حق میں جو جان ہارتا ہے
میں اُسے کامیاب دیکھتا ہوں

تُو نے دُنیا کہا جِسے کیفی
میں اُسے اک سراب دیکھتا ہوں

( محمود کیفی )

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے