Pathar Ky Peer Hun Sy

رعنائیِٔ نگاہ کو قالب میں ڈھالیے
پتھر کے پیرہن سے سراپا نکالیے
گزرا ہے دل سے جو رمِ آہو سا اک خیال
لازم ہے اس کے پاؤں میں زنجیر ڈالیے
دل میں پرائے درد کی اک ٹیس بھی نہیں
تخلیق کی لگن ہے تو زخموں کو پالیے
یہ کہر کا ہجوم درِ دل پہ تابہ کے
بامِ یقیں سے ایک نظر اس پہ ڈالیے
احساس میں رچائیے قوسِ قزح کے رنگ
ادراک کی کمند ستاروں پہ ڈالیے
ہاں کوزہ ہائے گل پہ ہے تنقید کیا ضرور
گرہو سکے تو خاک سے خورشید ڈھالیے
امید کی کرن ہو کہیں حسرتوں کے داغ
ہر دم نگار خانۂِ دل کو اجالئے
شاید کہ ان کی سمت بڑھے کوئی دستِ شوق
روندے ہوئے گلاب فضا میں اچھالیے
ہاں کوہِ شب کو کاٹ کے لانا ہے جوئے نور
ہاں بڑھ کے آفتاب کا تیشہ سنبھالیے
وجدان کی ترنگ کا مصرف بھی ہو شکیبؔ
شاعر کی عظمتوں کو ہنسی میں نہ ٹالیے
شکیب جلالی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے