پاسپورٹ

پاسپورٹ
میونخ کے ایک معمولی سے کیفے میں کم سے کم ساٹھ ستّر آدمی بیٹھے تھے۔ سگریٹ کے دھوئیں اور بیّر کی بُو سے دماغ پریشان ہوا جا رہا تھا۔ دروازے پر لگا ہوا صاف کرنے کا پنکھا مسلسل چل رہا تھا۔ پھر بھی دھواں کم نہ ہوتا تھا۔ میونخ کے قد آور اور لحیم شحیم باشندے بیّر کے بھاری بھاری گلاس سامنے رکھے اندھا دھند سگریٹ کے دھوئیں اُڑا رہے تھے اور گپّیں ہانگ رہے تھے اور جو لوگ سُن رہے تھے وہ کبھی کبھی گلاس اُٹھا کر ایک گھونٹ پی لیتے پھر اُسے زور سے میز پر رکھتے ہوئے کہتے "اِس میں کیا شک ہے ؟”، ” ہاں تو پھر کیا ہوا؟ "”ہاں یہ تو ہے ہی۔ "ایسا معلوم ہوتا تھا یہ لوگ بیّر اور سگریٹ پینے اور تمام دنیا کی بے پرکی اُڑانے کے لیے وقف ہو کر بیٹھے ہیں۔ لیکن میں اور میرے لندنی دوست مسٹر جوشی دو مہینے کی چھٹّیوں میں جرمنی کی سیر کے لیے آئے تھے اور اتفاقاً اِس کیفے میں آ گھُسے تھے یہاں کے ماحول سے دب سے گئے تھے۔
ہم بل ادا کرنے کے لیے ملازم کو بلانے کا ارادہ ہی کر رہے تھے کہ دروازے کا پردہ ہٹا اور سفید چمڑے کے دستانے اُتارتی ہوئی دو دوشیزائیں اندر داخل ہوئیں لیکن یہاں کا رنگ ڈھنگ دیکھ کر واپس جانے لگیں۔ یہاں جو لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ اُن میں عورتیں دوہی چار تھیں وہ بھی شباب باختہ اور ادھیڑ عمر کی۔ مردوں میں سے کئی آنے والی دوشیزاؤں کو گھُورنے لگے شاید اُنہیں خبر نہ تھی کہ اِس طرح اجنبی دوشیزاؤں کو نگاہوں کے ناوکوں پر رکھ لینا کس قدر خلافِ تہذیب ہے۔ یہ لوگ زیادہ تر معمولی طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔
ہم دونوں کے کیفے میں داخل ہوتے وقت بھی اُنہوں نے ہمیں اسی طرح گھُور گھُور کر دیکھا تھا۔ اِس لیے نہیں کہ اِن دوشیزاؤں کی طرح ہم بھی حسین و جمیل تھے اور ہم میں بھی کوئی کشش و جاذبیّت تھی بلکہ اِس لیے کہ ہم رنگین چمڑے والے بدیشی اِن سفید فاموں کے لیے ایک طرح کا تماشا معلوم ہو رہے تھے۔ چنانچہ بعض نے ہم پر ریمارک بھی کَسے تھے۔ میں نے میونخ والوں کی بد تہذیبی کی شکایت کی ہے۔ لیکن اِس سے یہ نہ سمجھئے گا کہ ہم دونوں اُس وقت بہت نیک نظر اور مہذّب تھے بلکہ ہم بھی اُنہِیں دوشیزاؤں کی طرف دیکھ رہے تھے۔ بات یہ ہے کہ دیر سے کیفے میں بیٹھے بیٹھے طبیعت بے کیف ہو رہی تھی کہ دو حسین دوشیزاؤں کا اِس طرح ایک معمولی سے کیفے میں آ جانا ہمارے لیے لازمی طور پر توجّہ اور دلچسپی کا ذریعہ بن گیا۔ یوں تو سڑک پر، ٹرام میں اور دوکانوں پر سینکڑوں کی تعداد میں دوشیزائیں نظر آتی رہتی تھیں۔ لیکن ہمیں شاید ہی کسی کی طرف نہ دیکھنے کی رغبت ہوتی ہو۔
بہرحال وہ دونوں دوشیزائیں اِدھر اُدھر دیکھ کر لوٹنا ہی چاہتی تھیں کہ اُن کی نظر ہم دونوں پر پڑ گئی۔ ایک آن ہماری طرف دیکھنے کے بعد اُن میں سے ایک نے دوسری سے کچھ کہا۔ پھر وہ متعدّد میزوں اور کرسیوں سے گُزرتی ہوئی ہماری میز پر آ کر پوچھنے لگیں۔ "کیا یہ دو سیٹیں خالی ہیں؟ ” بالکل خالی تو کوئی میز نہ تھی اور تھوڑی سی تلاش کے بعد کم از کم چار پانچ میزیں ایسی نکل سکتی تھیں جہاں دو نشستیں بآسانی مل جاتیں۔ لیکن شاید اُن دوشیزاؤں نے اپنے پست حیثیت ہموطنوں کی بجائے اپنی معیّت کے لیے ہم بدیشیوں کو زیادہ موزوں سمجھا۔
میں نے انگریزی میں جواب دیا۔ "جی ہاں خالی ہیں۔ ”
وہ کچھ جھجکتی ہوئی بیٹھ گئیں اور نوکرانی سے کافی منگا کر پینے لگیں۔
اُن دوشیزاؤں کے آ جانے کے بعد ہم نے اپنے جانے کا ارادہ ملتوی کر دیا۔ کچھ دیر کے سکوت کے بعد ایک دوشیزہ نے دوسری سے جرمن میں کہا۔ "عجیب کیفے "میں اُس دوشیزہ کے انگریزی لب و لہجے ہی سے سمجھ گیا تھا کہ وہ جرمن ہیں اِس خیال سے کہ ہم جرمن زبان نہ سمجھتے ہوں۔ اُس نے مجھ سے انگریزی میں سوال کیا تھا۔ اُن دونوں کی وضع و قطع اور طرزِ گفتگو سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ کسی تعلیم یافتہ اور مہذّب خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ اُن کا انگریزی جاننا بھی اِسی قرینے پر دلالت کرتا تھا۔ کیونکہ معمولی درجے کے جرمن علی العموم انگریزی نہیں جانتے۔ شکل و شباہت سے دونوں بہنیں معلوم ہوتی تھیں۔ چھوٹی کی عمر اٹھّارہ سال کے قریب تھی اور بڑی کی بیس بائیس سال کے قریب، دونوں ایک حد تک حسین اور جاذبِ توجّہ تھیں۔ خصوصاً اُن کی آنکھیں۔
اختر شیرانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے