پرندوں کو مٹایا جا رہا ہے

پرندوں کو مٹایا جا رہا ہے
کہیں جنگل جلایا جا رہا ہے

بہار آئے گی میرے شہر میں پھر
یہی باور کرایا جا رہا ہے

سمندر روشنی دینے لگا ہے
مجھے ناؤ بنایا جا رہا ہے

یہاں ہر شہر ہی مقتل بنا ہے
لہو نا حق بہایا جا رہا ہے

ابھی رخت سفر باندھا نہیں میں
قدم ہے لڑکھڑایا جا رہا ہے

ساحل سلہری

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے