پرچھائیاں

پرچھائیاں
جوان رات کے سینے پہ دودھیا آنچل
مچل رہا ہے کسی خوابِ مرمریں کی طرح
حسین پھول، حسیں پتیاں، حسیں شاخیں
لچک رہی ہیں کسی جسمِ نازنیں کی طرح
فضا میں گھل سے گئے ہیں افق کے نرم خطوط
زمیں حسیں ہے خوابوں کی سر زمیں کی طرح
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
کبھی گمان کی صورت کبھی یقیں کی طرح
وہ پیڑ جن کے تلے ہم پناہ لیتے تھے
کھڑے ہیں آج بھی ساکت کسی امیں کی طرح
انہی کے سائے میں پھر آج دو دھڑکتے دل
خموش ہونٹوں سے کچھ کہنے سننے آئے ہیں
نہ جانے کتنی کشاکش سے کتنی کاوش سے
یہ سوتے جاگتے لمحے چرا کے لائے ہیں
یہی فضا تھی، یہی رت، یہی زمانہ تھا
یہیں سے ہم نے محبت کی ابتدا کی تھی
دھڑکتے دل سے، لرزتی ہوئی نگاہوں سے
حضورِ غیب میں ننھی سی التجا کی تھی
کہ آرزو کے کنول کھل کے پھول ہو جائیں
دل و نظر کی دعائیں قبول ہو جائیں
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
تم آ رہی ہو زمانے کی آنکھ سے بچ کر
نظر جھکائے ہوئے اور بدن چرائے ہوئے
خود اپنے قدموں کی آہٹ سے جھینپتی ڈرتی
خود اپنے سائے کی جنبش سے خوف کھائے ہوئے
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
رواں ہے چھوٹی سی کشتی ہواؤں کے رخ پر
ندی کے ساز پہ ملاح گیت گاتا ہے
تمہارا جسم ہر اک لہر کے جھکولے سے
مری کھلی ہوئی باہوں میں جھول جاتا ہے
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
میں پھول ٹانک رہا ہوں تمہارے جوڑے میں
تمہاری آنکھ مسرت سے جھکتی جاتی ہے
نہ جانے آج میں کیا بات کہنے والا ہوں
زبان خشک ہے آواز رکتی جاتی ہے
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
مرے گلے میں تمہاری گداز باہیں ہیں
تمہارے ہونٹوں پہ میرے لبوں کے سائے ہیں
مجھے یقیں ہے کہ ہم اب کبھی نہ بچھڑیں گے
تمہیں گمان کہ ہم مل کے بھی پرائے ہیں
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
مرے پلنگ پہ بکھری ہوئی کتابوں کو
ادائے عجز و کرم سے اٹھا رہی ہو تم
سہاگ رات جو ڈھولک پہ گائے جاتے ہیں
دبے سروں میں وہی گیت گا رہی ہو تم
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
وہ لمحے کتنے دلکش تھے وہ گھڑیاں کتنی پیاری تھیں
وہ سہرے کتنے نازک تھے وہ لڑیاں کتنی پیاری تھیں
بستی کی ہر اک شاداب گلی خوابوں کا جزیرہ تھی گویا
ہر موجِ نفس، ہر موجِ صبا، نغموں کا ذخیرہ تھی گویا
ناگاہ مہکتے کھیتوں سے ٹاپوں کی صدائیں آنے لگیں
بارود کی بوجھل بو لے کر پچھم سے ہوائیں آنے لگیں
تعمیر کے روشن چہرے پر تخریب کا بادل پھیل گیا
ہر گاؤں میں وحشت ناچ اٹھی، ہر شہر میں جنگل پھیل گیا
مغرب کے مہذب ملکوں سے کچھ خاکی وردی پوش آئے
اٹھلائے ہوئے مغرور آئے، لہرائے ہوئے مدہوش آئے
خاموش زمیں کے سینے میں خیموں کی طنابیں گڑنے لگیں
مکھن سی ملائم راہوں پر، بوٹوں کی خراشیں پڑنے لگیں
فوجوں کے بھیانک بینڈ تلے، چرخوں کی صدائیں ڈوب گئیں
جیپوں کی سلگتی دھول تلے، پھولوں کی قبائیں ڈوب گئیں
انسان کی قیمت گرنے لگی اجناس کے بھاؤ چڑھنے لگے
چوپال کی رونق گھٹنے لگی، بھرتی کے دفاتر بڑھنے لگے
بستی کے سجیلے شوخ جواں بن بن کے سپاہی جانے لگے
جس راہ سے کم ہی لوٹ سکے، اس راہ پہ راہی جانے لگے
اُن جانے والے دستوں میں ، غیرت بھی گئی، برنائی بھی
ماؤں کے جواں بیٹے بھی گئے، بہنوں کے چہیتے بھائی بھی
بستی پہ اداسی چھانے لگی، میلوں کی بہاریں ختم ہوئیں
آموں کی لچکتی شاخوں سے جھولوں کی قطاریں ختم ہوئیں
دھول اڑنے لگی بازاروں میں، بھوک اگنے لگی کھلیانوں میں
ہر چیز دکانوں سے اُٹھ کر، روپوش ہوئی تہہ خانوں میں
بدحال گھروں کی بدحالی، بڑھتے بڑھتے جنجال بنی
مہنگائی بڑھ کر کال بنی، ساری بستی کنگال بنی
چرواہیاں رستہ بھول گئیں، پنہاریاں پنگھٹ چھوڑ گئیں
کتنی ہی کنواری ابلائیں، ماں باپ کی چوکھٹ چھوڑ گئیں
افلاس زدہ دہقانوں کے، ہل بیل بکے کھلیان بکے
جینے کی تمنا کے ہاتھوں ،جینے کے سب سامان بکے
کچھ بھی نہ رہا جب بکنے کو، جسموں کی تجارت ہونے لگی
خلوت میں بھی ممنوع تھی وہ جلوت میں جسارت ہونے لگی
تصورات کی پرچھائیں اُبھرتی ہیں
تم آ رہی ہو سرِ شام بال بکھرائے
ہزار گونہ ملامت کا بار اٹھائے ہوئے
ہوس پرست نگاہوں کی چیرہ دستی سے
بدن کی جھینپتی عریانیاں چھپائے ہوئے
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
میں شہر جا کے ہر اک در پہ جھانک آیا ہوں
کسی جگہ میری محنت کا مول مل نہ سکا
ستمگروں کے سیاسی قمار خانے میں
الم نصیب فراست کا مول مل نہ سکا
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
تمہارے گھر میں قیامت کا شور برپا ہے
محاذِ جنگ سے ہرکارہ تار لایا ہے
کہ جس کا ذکر تمہیں زندگی سے پیارا تھا
وہ بھائی نرغۂ دشمن میں کام آیا ہے
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
ہر ایک گام پہ بدنامیوں کا جمگھٹ ہے
ہر ایک موڑ پر رسوائیوں کے میلے ہیں
نہ دوستی، نہ تکلف، نہ دلبری، نہ خلوص
کسی کا کوئی نہیں آج سب اکیلے ہیں
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
وہ رہگزر جو مرے دل کی طرح سونی ہے
نہ جانے تم کو کہاں لے کے جانے والی ہے
تمہیں خرید رہے ہیں ضمیر کے قاتل
اُفق پہ خونِ تمنائے دل کی لالی ہے
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
سورج کے لہو میں لتھڑی ہوئی وہ شام ہے اب تک یاد مجھے
چاہت کے سنہرے خوابوں کا انجام ہے اب تک یاد مجھے
اس شام مجھے معلوم ہوا کھیتوں کی طرح اس دنیا میں
سہمی ہوئی دوشیزاؤں کی مسکان بھی بیچی جاتی ہے
اس شام مجھے معلوم ہوا اس کارگہِ زر داری میں
دو بھولی بھالی روحوں کی پہچان بھی بیچی جاتی ہے
اُس شام مجھے معلوم ہوا جب باپ کی کھیتی چھن جائے
ممتا کے سنہرے خوابوں کی انمول نشانی بکتی ہے
اُس شام مجھے معلوم ہوا، جب بھائی جنگ میں کام آئیں
سرمائے کے قحبہ خانے میں بہنوں کی جوانی بکتی ہے
سورج کے لہو میں لتھڑی ہوئی وہ شام ہے اب تک یاد مجھے
چاہت کے سنہرے خوابوں کا انجام ہے اب تک یاد مجھے
تم آج ہزاروں میل یہاں سے دور کہیں تنہائی میں
یا بزمِ طرب آرائی میں
میرے سپنے بنتی ہو گی بیٹھی آغوش پرائی میں
اور سینے میں غم لے کر دن رات مشقت کرتا ہوں
جینے کی خاطر مرتا ہوں
اپنے فن کو رسوا کر کے اغیار کا دامن بھرتا ہوں
مجبور ہوں میں، مجبور ہو تم، مجبور یہ دنیا ساری ہے
تن کا دکھ من پر بھاری ہے
اس دور میں جینے کی قیمت یا دار و رسن یا خواری ہے
میں دار و رسن تک جا نہ سکا تم جہد کی حد تک آ نہ سکیں
چاہا تو مگر اپنا نہ سکیں
ہم تو دو ایسی روحیں ہیں جو منزلِ تسکیں پا نہ سکیں
جینے کو جیے جاتے ہیں مگر سانسوں میں چتائیں جلتی ہیں
خاموش وفائیں جلتی ہیں
سنگین حقائق زاروں میں، خوابوں کی ردائیں جلتی ہیں
اور آج جب ان پیڑوں کے تلے پھر دو سائے لہراتے ہیں
پھر دو دل ملنے آئے ہیں
پھر موت کی آندھی اٹھی ہے پھر جنگ کے بادل چھائے ہیں
میں سوچ رہا ہوں ان کا بھی اپنی ہی طرح انجام نہ ہو
ان کا بھی جنون ناکام نہ ہو
ان کے بھی مقدر میں لکھی، اک خون سے لتھڑی شام نہ ہو
سورج کے لہو میں لتھڑی ہوئی وہ شام ہے اب تک یاد مجھے
چاہت کے سنہرے خوابوں کا انجام ہے اب تک یاد مجھے
ہمارا پیار حوادث کی تاب لا نہ سکا
مگر انہیں تو مرادوں کی رات مل جائے
ہمیں تو کشمکشِ مرگِ بے اماں ہی ملی
انہیں تو جھومتی گاتی حیات مل جائے
بہت دنوں سے ہے یہ مشغلہ سیاست کا
کہ جب جوان ہوں بچے تو قتل ہو جائیں
بہت دنوں سے یہ ہے خبط حکمرانوں کا
کہ دور دور کے ملکوں میں قحط بو جائیں
بہت دنوں سے جوانی کے خواب ویراں ہیں
بہت دنوں سے محبت پناہ ڈھونڈتی ہے
بہت دنوں سے ستم دیدہ شاہراہوں میں
نگارِ زیست کی عصمت پناہ ڈھونڈتی ہے
چلو کہ آج سبھی پائمال روحوں سے
کہیں کہ اپنے ہر اک زخم کو زباں کر لیں
ہمارا راز ہمارا نہیں، سبھی کا ہے
چلو کہ سارے زمانے کو راز داں کر لیں
چلو کہ چل کے سیاسی مقامروں سے کہیں
کہ ہم کو جنگ و جدل کے چلن سے نفرت ہے
جسے لہو کے سوا کوئی رنگ راس نہ آئے
ہمیں حیات کے اُس پیرہن سے نفرت ہے
کہو کہ اب کوئی قاتل اگر ادھر آیا
تو ہر قدم پہ زمیں تنگ ہوتی جائے گی
ہر ایک موج ِ ہوا رخ بدل کے جھپٹے گی
ہر ایک شاخ رگِ سنگ ہوتی جائے گی
اٹھو کہ آج ہر اک جنگ جو سے یہ کہیں دیں
کہ ہم کو کام کی خاطر کلوں کی حاجت ہے
ہمیں کسی کی زمیں چھیننے کا شوق نہیں
ہمیں تو اپنی زمیں پر ہلوں کی حاجت ہے
کہو کہ اب کوئی تاجر ادھر کا رخ نہ کرے
اب اس جگہ کوئی کنواری نہ بیچی جائے گی
یہ کھیت جاگ پڑے، اُٹھ کھڑی ہوئیں فصلیں
اب اس جگہ کوئی کیاری نہ بیچی جائے گی
یہ سرزمین ہے گوتم کی اور نانک کی
اس ارض پاک پہ وحشی نہ چل سکیں گے کبھی
ہمارا خون امانت ہے نسلِ نو کے لیے
ہمارے خون پہ لشکر نہ پل سکیں گے کبھی
کہو کہ آج بھی ہم سب اگر خموش رہے
تو اس دمکتے ہوئے خاکداں کی خیر نہیں
جنوں کی ڈھالی ہوئی ایٹمی بلاؤں سے
زمیں کی خیر نہیں، آسماں کی خیر نہیں
گذشتہ جنگ میں گھر ہی جلے مگر اس بار
عجب نہیں کہ یہ تنہائیاں بھی جل جائیں
گزشتہ جنگ میں پیکر جلے مگر اس بار
عجب نہیں کہ یہ پرچھائیاں بھی جل جائیں
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
ساحر لدھیانوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے