پاؤں میں ہجر کی زنجیر نظر آتی ہے

پاؤں میں ہجر کی زنجیر نظر آتی ہے
جابجا عشق کی تاثیر نظرآتی ہے

رنگ خاموش ہیں،بادل بھی نہیں برسا ہے
پھول کھلنے میں بھی تاخیر نظر آتی ہے

ابر برسے گا کہاں دشت کی ویرانی پر
اب کسے خواب کی تعبیر نظر آتی ہے

تُو مرے جسم میں شامل ہے لہو کی صورت
چار سُو تیری ہی تصویر نظر آتی ہے

وہ جو نازاں تھے کبھی حرف تری حرمت پر
اُن کے ہاتھوں میں بھی شمشیر نظر آتی ہے

عشق کُھلتا ہی نہیں مجھ پہ کسی بھی صورت
چاندنی زخم کی تفسیر نظر آتی ہے

سر جو کٹتا ہے تو کٹ جاے عدو کے ہاتھوں
مجھ کو جھکنے میں بھی تحقیر نظر آتی ہے

دل مجھےچین سے جینے نہیں دیتا عاصم
زندگی درد کی جاگیر نظر آتی ہے

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے