پاوں بھاجی

پاوں بھاجی
ایک دفعہ کا ذکر ہے
اور ہمیں آپکی بڑی فکر ہے!!!
Please stay at home
قصہ کچھ یوں ہے کہ ، دو دن پہلے ہماری ایک سہیلی اور آپ سب بوجھیں پہیلی!!!!
نے پاو بھاجی بنائی ۔ ہم نے پاو بھاجی اچھے وقتوں میں ریسٹورنٹ سے کھائی ہوئی ہے اس لئیے ذائقے کا اندازہ تھا ۔ فوٹو دیکھی تو منہ میں کا پانی ڈیم ٹوٹ گیا ۔
سوچا بنا لیتے ہیں۔ پاو کا مطلب تو ڈبل روٹی ہوتا ہے میٹھے میٹھے نرم نرم bun ، اب ترکیب کا دوسرا حصہ بھاجی تھا ۔ بھاجی لفظ ہمیں بھول گیا ، ہم نے وڈا پاو کہنا شروع کر دیا ۔ یاد رہے اصل لفظ "وڑا” ہے ۔ کچن میں ایک عجیب سی کنفیوژن پھیل گئی ۔
بچوں کی آن لائن کلاس 9 بجے شروع ہوتی ہے ۔ بھوکے درندے صبح کچھ ہلکا پھلکا کھا کر ، 12 بجے کے بعد اپنے اپنے بلوں سے نکلتے ہیں ۔ پہلے بڑی بیٹی آئی
اماں مینیو کیا ہے !!!
ہم نے بڑے دلار سے کہا وڈا پاو ( یاد رہے کہ ہم خود کنفیوژن کا شکار تھے ) اس نے زور سے کہا
What !!!!!!
اتنے میں اسکے والد صاحب بھی تشریف لے آئے ، بیٹی نے اپنے ابا سے کہا
Daddy , your wife is still mad at us .
Now she is making ” وڈا پاوں”
کہنے لگی آپ نے میرا دل خراب کر دیا ہے ، پاوں کے ساتھ کیا بنانے لگی ہو ؟
ہم نے ٹھنڈی آہ بھری اور کہا بیٹا پولی مج والی
Assumptions
نا make کرو ۔
صاحب تھوڑی پر ہاتھ رکھے پتہ نہیں کن سوچوں میں گم تھے کہنے لگے ۔ سچ بتاو بی بی کیا پکا رہی ہو ۔ ہم نے مروتا کہہ دیا جناب آپ بتائیے کہ کیا کھانا پسند کریں گے ۔ کینز وہی بنا دیتی ہے ۔ آخری جملہ طنزیہ تھا لیکن انہوں نے طنز کو دل پر لگائے بغیر فرمایا باربی کیو کر لو ، یا پھر شامی کباب بنا لو ۔ صاحب کو دنیا کی ہر پہیلی ، ہر مشکل کا حل شامی کبابوں میں نظر آتا ہے ۔
ہم نے کہا میاں !!! ہن تسی باپ بیٹی بوتے فری نا ہوو،
This family is going to be vegetarian today !!!!
ہمارا یہ کہنا تھا کہ اک قیامت ہی آگئی ۔ پھر دوبارہ ڈش describe کی سبزی کی pasty veggie sauce ، ساتھ ہلکے میٹھے بن ، مکھن کا دریا اور کرنچی پیاز ۔ ( چٹنی کے لئیے مونگ پھلی نہیں تھی )
چھوٹی اولاد بھی تشریف لے آئی ، اسے کھانا بنانے سے لوڑ مطابق ہی دلچسپی ہے ۔ کہنے لگی اماں
Why don’t you make daal chawal or stir fry ?
اگر ویجیٹیرین ہی جانا ہے آج ہم نے ۔
ہم نے کہا کہ بچو یہ تمہاری ماں کی خواہش ہے ، موت کا کیا پتہ کب آئے جائے، ہم یہ ڈش کھا کر سینے میں جلتی cravings کی آگ بجھانا چاہتے ہیں ۔ صاحب نے کہا سو بسم اللہ بی بی تمہارا حق بنتا ہے بنا لو ۔ جنت میں اس قسم کے کھانے کم ہی ملیں گے ۔ گوشت کے خورں کے مشکوک خیالات !!!!
پھر ہم نے اپنی سہیلی سے بھاجی کی ترکیب پوچھی ۔ کام شروع کیا ہی تھا کہ بڑی بیٹی آگئی ۔ کہنے لگی اماں
No matter How mad you are , please don’t use your پاوں
جو بھی بنانا ہے ہاتھ سے بنانا ۔
ہم نے بچی کو اگنور کیا ۔ گھوٹا لگا لگا کر بھاجی بنائی ، پاو کو پھلنے پھولنے ( proofing ) کے لئیے رکھا ہی تھا ۔ اتنے میں پھر بیٹی تشریف لے آئی اور پوچھنے لگی کہ کھانے میں کتنے carbohydrate ہوں گے اور پروٹین کتنا ؟
جب اسکو تفصیل بتائی تو پھر سیاپا پے گیا ، بیٹی کی آواز آئی
Daddy your wife is try to get rid of us by feeding us so many Carbs , This lady will kill us soon !!!!
بیٹے نے عادتا ہی انشا ءاللہ کہہ دیا تو ہمارا دل دہل سا گیا ۔
صاحب تشریف لے آئے اور کہنے لگے ، بی بی سبزی اور ڈبل روٹی تو آپ نوش فرمائیں گی ۔ بچوں کے لئیے کیا بنایا ہے ؟
دل تو کیا کہ کہوں ادھر ہوٹل ڈی بے بے کھلا ہے ۔ پھر دانت پیس کر جواب دیا ۔ چکن گرل کر رہے ہیں ۔ عوام سے کہییے سلاد بنا لے ۔
لنچ میز پر لگایا تو بیٹا کہنے لگا میں کیلا کھا کر دودھ پی لو گا ۔
Waina was saying today Amma is cooking with her feet !!!!
ہم ہکا بکا رہ گئے ، بس یہی سننا باقی رہ گیا تھا ۔ شام کو گرم گرم پاو کو چٹپٹی بھاجی ، اور سجیلے مکھن کے دریا میں ڈبویا ، اس پر پیاز بادشاہ سے مینا کاری کی ، اور لقمے کو منہ میں رکھا تو ایسا لگا جیسے ہمارے میں ذائقے کے بم پھٹ رہے ہوں ۔ پیاز دانت کے نیچے آیا تو پراپر آتش بازی شروع ہو گئی۔
خوشی کے مارے آنکھوں میں آنسو آگئے ۔
صاحب کی نظر ہم پر پڑی تو کہنے لگے اٹس اوکے بی بی ، ہو جاتا ہے کبھی کبھار ۔ ہم نے پوچھا کیا ؟؟؟؟ کہنے لگے سبزی پر جتنی بھی محنت کر لو رہنی تو سبزی ہی ہے !!!!
ہم نے ایک لقمہ بنایا اور میسنا سا منہ بنا کر کہا عالی جاہ!!! ذرا نمک تو چکھ دیجیئے ۔صاحب کے منہ میں لقمہ جانے کی دیر تھی کہ ایک شور سا مچ گیا بچو کچن میں آو ۔ اور اگلے پندرہ منٹ میں ہمارے لئیے سوائے آدھے پاو کے جو یہ واردات شروع ہونے سے پہلے ہمارے ہاتھ میں رہ گیا تھا ، کچھ نا بچا!!!!!
😔😔😔😔
لیکن اب عوام کی پرزور فرمائش ہے پاوں بھاجی بنائی جائے اور فرزانہ رانی کہہ رہی ہیں
What!!!!!!
Me no cook with my پاوں
ف ع

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے