پانچویں نسل کی جنگ اور پاکستان!

پانچویں نسل کی جنگ اور پاکستان!

دُنیا گلوبل ویلج بن چکی‘ جہاں ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال نے انسان کو چاند تک پہنچا دِیا‘ تو وہاں ہی ہر شے کے لیے نت نئے طریقے رائج کر دیئے گئے ہیں پرانی تراکیب منظرِ عام سے بالکل ہی غائب ہوتی جا رہی ہیں۔ اگر اس طرح متبادل تراکیب کاتذکرہ کریں تو پہلی مثال جھوٹ کی جگہ ”آلٹر نیٹو ٹرتھ“کی اصطلاح عام ہوچکی ہے۔ اور پھر ہر طرف ففتھ جنریشن کا ذکر ہو رہا ہے‘ لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ ہے کیا؟ففتھ جنریشن وار سے پہلے پچھلی جنریشن وارز کا علم ہونا ضروری ہے۔جو چیز تقریبا دس بیس سال بعد آئے اسے جنریشن کہتے ہیں۔جنریشن آف ماڈرن وارفئیر کی تھیوری 80 کی دہائی میں امریکی تجزیہ کاروں نے ایجاد کی جس میں سے ولیم ایس لینڈر کا نام سرفہرست ہے۔ اُنہوں نے جنگوں کو دیکھ کر اس تبدیلی کو مختلف جنریشن میں تقسیم کیا۔
جب جنگوں میں دونوں طرف کے انسان آمنے سامنے رہ کر تلواروں سے لڑا کرتے تھے تو اس کو فرسٹ جنریشن وار کا نام دیا گیا۔ انگلش سول وار (1642–1651) اور امریکہ کی جنگ آزادی (1775–1783) اس کی نمایاں امثال ہیں۔ پھر جب بندوق اور توپیں کی ایجاد ہوئی اور اس کے ذریعے جنگیں لڑی جانے لگیں تو ان جنگوں کو سیکنڈ جنریشن وار کہا جاتا ہے۔ سیکنڈ جنریشن وار کی سب سے بڑی مثال پہلی جنگ عظیم (1914 – 1918) ہے۔ سیکنڈ جنریشن وار کو فرینچ آرمی نے ڈیولپ کیا تھا۔ جب انسان نے ترقی کی راہیں ہموار کی‘ جنگی محاذ پر بھی ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوششوں میں مگن رہے۔جب جنگوں میں فضائیہ اور نیوی وغیرہ کو بنیادی حیثیت حاصل ہوئی یا میزائلوں کے ذریعے دور سے دشمن پر وار کرنے کا راستہ نکلا اور ٹیکنالوجی کا استعمال فیصلہ کن کردار ادا کرنے لگا اس طرح کی جنگوں کو تھرڈ جنریشن وار کا نام دیا گیا۔ تھرڈ جنریشن وار کی سب سے بڑی مثالیں دوسری جنگ عظیم (1939 – 1945) اور کوریا وار(1950 – 1953) ہیں۔تھرڈ جنریشن تک جنگیں صرف افواج کے درمیان لڑی جاتی تھیں۔ایک ملک کی فوج کو دوسرے ملک کی افواج کا معلوم ہوتا تھا۔لیکن جوں جوں وقت گزرا جنگی محاذ پر بھی نت نئے تجربات کیے گئے جو کامیاب رہے۔جنگ لڑنے کے لیے ملکی افواج کے ساتھ ساتھ نان اسٹیٹ ایکٹرز کا کردار بھی اہم ہو گیا۔مقامی شرپسند عنصراور پراکسیز کا کردار بھی اہم بن گیا۔ نان اسٹیٹ ایکٹرز کے ساتھ ساتھ سفارت کاری، معیشت اور پروپیگنڈے کے ہتھیار بھی شامل ہوگئے۔اس طرح کی جنگ کو فورتھ جنریشن وار کا نام دیا گیا۔ فورتھ جنریشن وار کی مثال سرد جنگ کی ہے۔
ففتھ جنریشن وار کی اصطلاح ڈیوڈ ایکس نے 2009 میں امریکی میگزین وائرڈ پر اپنے ایک کالم میں دی تھی۔ففتھ جنریشن وار کی تعریف یہ ہے کہ اس میں پوری قوم شریک ہوتی ہے۔اس میں بیٹل یعنی ایک دوسرے کے سامنے لڑنے کی نوبت نہیں آتی۔ ففتھ جنریشن وار میں دشمن اپنے ہارڈ پاور کی بجائے سافٹ پاورز کو استعمال کرتا ہے۔ففتھ جنریشن وار کے بنیادی ہتھیار جہاز‘ٹینک اور میزائل نہیں بلکہ سفارت کاری‘ پراکسیز‘ ٹی وی‘ ریڈیو‘ اخبار‘سوشل میڈیا‘ فلم اور معیشت ہیں۔ہتھیاروں کے بجائے موبائل‘ ٹیب‘ انٹرنیٹ‘ کمپیوٹر‘ لیپ ٹاپ کو اہم ترین ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے‘ یعنی دنیا کی بڑی طاقتیں اپنی جدید جنگیں کمیونیکیشن کے آلات پر لڑرہی ہیں۔ یہ زمین پر نہیں بلکہ ذہنوں میں لڑی جاتی ہے۔ انسانوں کو نہیں بلکہ ان کے ذہنوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ فوجیں بھیجنے کی بجائے زیرنشانہ ملک کے شہریوں کو اپنی ریاست اور فوج کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ ففتھ جنریشن وار ”یہ وہ جنگ ہے جسے جیتنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے لڑا ہی نہ جائے“. ترقی پذیر معاشرے اس لیے کامیاب ہیں کہ وہ برائی جتنی تیزی سے پھلتی ہے، اتنی ہی تیزی سے اس کے خلاف برسر پیکار ہو جاتے ہیں۔
2019ء میں ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع ہوئی جس میں کچھ نیوز ایجنسیز‘ میڈیا گروپس‘ شخصیات اور دیگر کے حوالے سے شکوک کا اظہار کیا جاتا ہے۔دسمبر 2020ء میں ایک ایسا بھونچال آیا کہ جس نے عالمی اداروں کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ بھارت کا سری واستو گرو‘ پندرہ سال سے جعلی خبروں کا بازار گرم‘مشہور شخصیات کی شناخت کی چوری‘غیر سرکاری تنظیموں کا ناموں کا دھوکا دہی سے استعمال، عالمی اداروں کے ساتھ دھوکا دہی کرنا، بیرونِ ملک مخصوص مفادات کا تحفظ وغیرہ۔”Commission to Study the Organization of Peace“ سی ایس اُو پی“ نامی تنظیم کے نام کا استعمال اس پورے مافیا کو چہرہ بے نقاب کرنے کا باعث بن گیا۔ جو کھیل پندرہ سال سے کھیلا جاتا رہا‘وہ شائد کبھی بھی سامنے نہ آتا، لیکن مکروہ چہرہ رکھنے والے فیصلہ سازوں نے غلطی یہ کر دی کہ ”سی ایس اُو پی“ کے آنجہانی بانی پروفیسر لوئیس کو بھی نہ بخشا۔
پروفیسر لوئیس بھی سوہن 2006ء میں وفات پا چکے ہیں، لیکن ان جعلی خبروں اور میڈیا کا مکروہ کھیل کھیلنے والوں نے انہیں 2007ء کی کانفرنس میں شریک مقرر کے شرکت کروا دی۔ بھانڈا پھوٹ گیا۔ 2005ء سے جاری اس پوری مہم کا مخاطب مکمل طور پر پاکستان تھا۔ پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین تک کو استعمال کیا گیا۔ یورپین پارلیمنٹ کے ممبرز تک استعمال ہوگئے۔ جعلی میڈیا گروپس ترتیب دیے گئے‘جعلی میگزین‘جعلی اخبارات‘جعلی ویب سائیٹس کا استعمال کیا گیا۔اس نیٹ ورک کا روحِ رواں بھارت کا مشہور و معروف ڈیجیٹل میڈیا صحافتی گروپ اے این آئی (ANI) نکلا۔ اخلاقی اقدار کے پست ترین درجے پہ موجود اس نیٹ ورک نے انسانی حقوق کی اہم شخصیت پروفیسر لوئیس بھی سوہن کی جس طرح تذلیل کی، متعلقہ ممالک کو کاروائی یقینی طور پر کرنی چاہیے۔
اس نیٹ ورک نے پندرہ سال سے پوری دُنیا میں بھارت کے مفادات کے تحفظ کے ساتھ ٹیکنالوجی کی دُنیا میں پاکستان مخالف سرگرمیوں کو ہوا دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ دس ایسی غیر سرکاری تنظیمیں جو اپنے آپریشن عرصہ ہوا بند کر چکی تھیں اور وہ اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ تھیں‘ان کا نام دوبارہ استعمال کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ تک رسائی حاصل کرلی گئی۔فیک میڈیا کا ایک جال برسلز اور جنیوا میں پاکستان کے خلاف ترتیب دیا گیا۔ 750 سے زائد جعلی میڈیا آؤٹ لیٹس بنائے گئے۔ یہی نہیں بلکہ سری واستو گروپ‘ اے این آئی اور اس عالمی نیٹ ورک کی جانب سے 550 سے زائد ویب ڈومین رجسٹرڈ کروائے گئے‘ جن میں سے اکثریت پاکستان کے مفادات کو ذِک پہنچانے کے لیے تھے۔ 1970ء میں بند ہو جانے والی تنظیموں کو اچانک 2005ء میں دوبارہ سے کھڑا کر دیا گیا۔ وہ بھی دھوکا دہی اور جعل سازی سے۔اس سائبر وارفیئر کا مقابلہ پاکستان کر رہا ہے اور بخوبی کر رہا ہے‘ لیکن عالمی اداروں کی صلاحیت اور کردار پہ بھی اُٹھنا شروع ہوچکا ہے۔ کیسے ایک جعلی میڈیا گروپ اتنا بڑا نیٹ ورک بنا کے اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین جیسے اہم اداروں تک پہنچ گیا اور پاکستان کے خلاف محاذ بھی کامیابی سے قائم کیااور چلایا؟
جب یہ محسوس کیا گیا کہ تھرڈ اور فورتھ جنریشن وار کے امتزاج کے باوجود پاکستان کو زیر کرنے کے اہداف میں کامیابی کا تناسب تو مایوس کن ہے کیونکہ پاکستان قوم کا اتحاد ویکجہتی ہی روکاٹ ہے‘تو ففتھ جنریشن وار متعارف کروا دی گئی جو کہ میڈیا اور سائبر ورلڈ کی جنگ ہے۔ وہ جنگ جس میں میدانِ جنگ واضح نہیں اور نہ ہی دشمن دوبدو ہوتا ہے بلکہ اسکا مورچہ سوشل میڈیا اور ہتھیار افواہیں‘ پروپیگنڈا‘ مین سٹریم میڈیا‘ پرنٹ میڈیا میوزک‘ فلمز‘ڈاکومینٹریز‘ یوٹیوب ویڈیوز، ٹوئیٹر وغیرہ ہیں۔ ففتھ جنریشن وار کا ٹارگٹ یہ ٹھہرا کہ ملک کی عمارت جن عقائد ونظریات پر استوار ہے اس کو شکوک و شبہات سے کھوکھلا کر دیا جائے‘بانیانِ پاکستان کے خلاف طعن و تشنیع کا اِک محاذ کھول دیا جائے‘ پاکستانی فوج سے عوام کو متنفر کر دیا جائے کہ ہمارے ایٹمی اثاثے غیر محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ فوج اور عوام میں اتنی خلیج بڑھا دی جائے کہ ذہنی ہم آہنگی کا سوال ہی پیدا نہ ہو۔ عوام میں بیزاری‘ مایوسی‘ ڈپریشن پھیلائی جائے۔ہمیں ایسے میں وقت کے ساتھ خود کو بدلنا ہو گا‘اس خطرناک جنگ کے لئے شہریوں میں ہائبرڈ جنگ سے متعلق آگہی پھیلانی ضروری ہے تاکہ قومی سلامتی سے متعلق امور میں شہری ریاست کے لئے مددگار ثابت ہوں اور اس سے ملک کے اندرونی دفاع کو مضبوط کیا جاسکے۔ دشمن کی لاکھ کوشش کے باوجود ناکامی ہو گی اور پاکستان تاقیامت قائم رہے گا‘ ان شاء اللہ۔

 

عابد ہاشمی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے