پاک برٹش اینڈ سٹی میگ مشاعرہ

تاریخ: 28 دسمبر 2019
بمقام: محبوب پبلک اسکول سیالکوٹ

پاک برٹش آرٹس اور پندرہ روزسٹی میگ کے باہمی اشتراک سے ایک پُرشکوہ ، باوقار اور کامیاب ترین پہلے مشاعرہ کا انعقاد محبوب پبلک سکول ( پی بی اے سینٹر) کشمیر روڈ سیالکوٹ میں کیا گیا- تقریب کی صدارت مُلک کے نامور شاعر جناب ثناء اللہ ظہیر نے فرمائی جبکہ مہمانانِ خصوصی کی نشستوں پر محترمہ پروین سجل، آسناتھ کنول، محترم رشید آفرین، جنابِ اعجاز عزائی اور جناب سرفراز آرش جلوہ افروز تھے

مہمانانِ اعزاز کی حثیت سے جڑانوالہ سے تشریف لاۓ عمدہ ترین شعراء جناب فاروق بھٹی اور رائے سہیل نے اپنی موجودگی سے تقریب کے وقار اور تمکنت کو اور بھی دلکش بنا دیا- پاک برٹش آرٹس کے ضلعی صدر جناب خالد لطیف (مدیرِ اعلی سٹی میگ سیالکوٹ) جو کہ اس پروگرام کے روحِ رواں ہیں، اچانک ناسازئی طبع کی بنا پر خود تشریف نہ لا سکے تاہم اُن کا بیٹا سعد خالد پروگرام کے اختتام تک اُن کی جگہ موجود رہا- مشاعرہ کا آغاز تلاوتِ کلامِ مجید فرقانِ حمید سے ہوا۔ تلاوت کی سعادت جناب طارق ملک کو نصیب ہوئی۔ محبوب پبلک سکول کا سُرخ قالین، دبیز مخملی سُرخ و سنہری پردوں سے آراستہ برقی قمقموں کی روشنی میں نہایا آڈیٹوریم کسی طلسماتی دُنیا کا منظر پیش کر رہا تھا-

شدید ترین ٹھٹھرتے موسم کی شدت کو کم کرنے کیلئے سُرخ مٹی سے بنے منقش آتشدان مہمانانِ گرامی کے سامنے مختلف جگہوں پر ایستادہ تھے جن کی حدت نے ماحول کو خوشگوار بناۓ رکھا- تقریب کے آغاز میں پاک برٹش آرٹس کے کوارڈینیٹر پاکستان، معروف شاعر، دانشور، نثر نگار اور علم دوست شخصیت جناب محبوب صابر نے پاک برٹس آرٹس کے قیام، اغراض و مقاصد اور مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے اپنے مخصوص انداز اور اعلی لفظیات کیساتھ مرصع اور جامع گفتگو کرتے ہوئے حاضرین کو بتایا کہ پاک برٹس آرٹس کا بنیادی مقصد خالص ادبی روایات، تہذیب و ثقافت اور فنونِ لطیفہ کی سبھی شاخوں کی حقیقی اور بلا تفریق گروہی تعصبات اور ذاتی پسند نا پسند سے بالا تر ہو کر آبیاری کرنا ہے- اس تنظیم کا بنیادی مقصد فلاحِ انسانیت اور فکروفن ہے- انہوں نے مذید کہا کہ پاک برٹش آرٹس کے زیرِ اہتمام مصوری، موسیقی، شاعری، نثر اور صحت مند فکری مناظروں کا انعقاد مستقل بنیادوں پر کیا جائے گا- اُس کے بعد مشاعرہ کا آغاز ہوا جس میں شعراء کرام نے اپنے خوبصورت اور دل لبھا دینے والے اشعار سے حاضرین کو محظوظ کیا اور سامعین نے بھی دل کھول کر شعراء کرام کیلئے داد و ستائش کے ڈونگرے برسائے- یہ سیالکوٹ کی ادبی تاریخ میں واحد مشاعرہ تھا جس میں سامعین کی صُورت میں ہر مکتبئہ فکر کے لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی جن میں پروفیسرز، اساتذہ، ڈاکٹرز، وکلاء، فمکار، سماجی اور کاروباری شخصیات نمایاں تھیں-

جن شعراء کرام نے اس مشاعرے کو اپنی موجودگی سے مہکایا اُن کے اسمائے گرامی- جناب افتخار شاہد، جناب سعد ضیغم، جناب فرانسس سائل،جناب دلشاد احمد، جناب منظور کاسف، جناب ارشد مرزا (چئرمین چوپال پاکستان) جناب رحمن امجد مراد، محترمہ سائرہ ناز، جناب محمود کیفی، جناب مرزا یونس طالب، جناب بلال اسد، جناب عتیق ملک، جناب ارشد جمیل، جناب محمد الیاس عاجز، جناب سمیر شمس ، جناب عامر غفاری، جناب عاطف پروانہ، جناب وسیم رامش، جناب عبدالزاق خاکی، جناب جاوید ساغر ہیں- نظامت کے فرائض نوجوان شاعر جناب اجمل فاروقی نے ادا کیئے- یہ خوبصورت پروگرام مہمانانِ ذی وقار کی تواضع کےساتھ ساتھ سامعین کے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ آدھی رات تک جاری رہا- آخر میں پاک برٹش آرٹس کے کوارڈینیٹر پاکستان جناب محبوب صابر نے مہمان شعراء کو یاد گاری شیلڈز پیش کیں اور یوں یہ خوبصورت تقریب قہقہوں اور چہروں پر انبساط کی قبا اوڑھے اپنے اختتام کو پہنچی

تصاویر وتحریرمحمد ارشد مرزا۔ چئرمین چوپال پاکستان

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے