پہاڑی ایسے سڑک سے لپٹ چکی ہو گی

پہاڑی ایسے سڑک سے لپٹ چکی ہو گی
کہ ہم زمیں سے مری تک پہنچ گئے ہوں گے
ہمارے خواب میں دریا کے ساتھ باغ بھی ہے
یہ پھول ہیں تو ابھی تک پہنچ گئے ہوں گے
تو جتنی دیر میں یہ داستاں سمیٹے گا
جو سن رہے تھے پری تک پہنچ گئے ہوں گے
ہماری آنکھ اگرچہ کہیں نہیں پہنچی
ہمارے خواب کسی تک پہنچ گئے ہوں گے
ہماری لاش کنارے پہ آئے گی جب تک
ہم ایک بارہ دری تک پہنچ گئے ہوں گے
ٖفیضان ہاشمی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے