پگلی

پگلی
سپنے بنتے نیناں پر
ہونٹ جب اپنے رکھ دو گے
دھیرے دھیرے سرگوشی میں، کانوں سے ،کچھ کہدو گے
اور میں۔۔۔آنکھیں موندے موندے
کروٹ اپنی بدلوں گی
گہری نیند کی شوخ ادا کو، چپکے چپکے ، کھولوں گی
آنچل میں چہرے کو چھپا کر، کَن اَکھیوں سے دیکھوں گی
چاند کی چوڑی سے کرنیں،چھن چھن،چھن چھن ،ٹوٹیں گی
جھیل سی ٹھہری دھڑکن اُس دَم
دھک دھک ،دھک دھک بولے گی
اور تم بھی، دھیرے سے ہنس کر
مجھ کو کہہ دو گے
پگلی۔۔۔!!!
فرزانہ نیناں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے