پچھتاوا

وہ آدمی مرتے وقت بہت پر سکون تھا۔ ہلکے پھلکے لہجے میں بات کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ میں نے ایسی کامیاب زندگی گزاری ہے جس میں کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔

اس شام وہ کچن میں بیٹھی اپنی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں سوچنے لگی۔ لطف اندوز ہوتے ہوئے ان کو ترتیب دینا شروع کیا۔ دو کالموں کی فہرست بنائی۔

پچھتاوا / اطمینان۔

پہلے کالم میں شادی، بچے اور پڑھانا جبکہ دوسرے کالم میں شراب نوشی، ریٹائرمنٹ کے بعد کی آزاد زندگی اور ٹیلی ویژن لکھا۔ کئی گھنٹے اس کھیل سے محظوظ ہونے کے بعد سونے کے لیے چلی گئی۔ ساری رات پرسکون نیند سوئی۔ صبح صحیح وقت پر اٹھی، ہائی کلاس کے طلبہ کی کلاس لی، فنڈز کی فراہمی کے بارے میں ایک میٹنگ کی صدارت کی، پھر ایک دوست کے ساتھ مے خانے کا رخ کیا۔ خوبصورت دن کا اختتام ہوا تو گھر لوٹ آئی۔ کچن میں پہنچی تو اسی کاغذ پر نظر پڑی جو اس نے ایک چینی کے برتن کے ساتھ رکھ دیا تھا۔

رات وہ چینی کے مرتبان پر ڈھکن رکھنا بھول گئی تھی۔ مرتبان چیونٹیوں سے بھر چکا تھا۔ اندر باہر ہر طرف چیونٹیاں رینگ رہی تھیں۔ بہت سی مرتبان کے گول کنارے پر بھی موجود تھیں۔ یہ دیکھ کر وہ پریشان ہو گئی۔ چینی کے پیالے کو سنبھالنے کے بعد ، اس نے ایک گلاس میں تھوڑی سی شراب انڈیلی اور اپنی فہرست سامنے رکھ کر سوچنے لگی۔ کل کی ترتیب کچھ بے مزہ سی لگی تو اس کاغذ کو پھاڑ دیا۔ بھوک لگ رہی تھی۔ سوچ رہی تھی کہ اسے رات کا کھانا پکانا شروع کرنا چاہیے۔ فریج سے گوشت نکال کر پلیٹ میں رکھا اور کاغذ قلم لے کر نئی فہرست بنانا شروع کر دی۔ دونوں کالم دوبارہ بنائے اور اس بار زیادہ خوبصورتی اور صفائی کے ساتھ عنوانات لکھنے کے بعد واقعات کو نئی ترتیب دینا شروع کی۔

شادی؟
شادی کو پچھتاوا ہی کہا جا سکتا تھا۔

گرچہ یہ ایک ٹھوس حقیقت تھی کہ اس کی شادی شدہ زندگی میں ناخوشگواری کا عنصر بالکل شامل نہیں تھا۔ چند سال پہلے جب اس کے شوہر کی غیر متوقع وفات ہوئی، تو وہ بہت دکھی ہو گئی تھی۔ اب بھی دن کا آغاز اکثر اسی کی یاد سے ہی ہوتا تھا۔ ان حقائق کے باوجود اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا تھا کہ یہ شادی بذات خود ایک پچھتاوا ہی تھی۔

بچوں کو بھی پچھتاوے کے کالم میں شامل نہیں کیا جاسکتا تھا لیکن بہت سوچنے کے بعد بھی وہ ان کا نام اطمینان والے کالم میں لکھنے پر خود کو راضی نہ کر سکی۔ حقیقت یہ تھی کہ وہ ان کی پرورش میں کیے گئے بہت سے فیصلوں پر پشیمان تھی۔ گرچہ وہ ابھی لڑکپن کی عمر میں تھے اس لیے دونوں باتوں کے امکانات موجود تھے۔ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔

پھر وہ اس آدمی کے بارے میں سوچنے لگی جس کا کہنا تھا کہ اس نے ایک ایسی زندگی گزاری تھی جس میں کوئی پچھتاوا موجود نہیں تھا۔ وہ اس کی کامیابیوں اور اس کے اپنی بیوی کے ساتھ تعلقات کے بارے میں سوچنے لگی۔ فوراً ذہن میں اس آدمی کی خوبصورت جسامت، کرشماتی شخصیت اور روحانیت کی طرف حالیہ رغبت کا خیال آیا۔

ایسی خوبیوں کے حامل شخص کو کسی چیز کا پچھتاوا کیوں ہو گا؟

سوچتے سوچتے اس کا خیال بیس سال پہلے ملنے والے اس شخص کی طرف چلا گیا جو اس کا محرم بھی نہیں تھا اور جس کے ساتھ وہ اپنے گھر کی بالکونی میں کافی دیر کھڑی رہی تھی۔ وہ ایک بڑھئی تھا اور اس کے گھر کے اوپر والے خالی اپارٹمنٹ میں کام کر رہا تھا۔ اس گھر میں وہ اپنے خاوند اور پہلوٹھی کے بچے کے ساتھ رہتی تھی۔ اس دن صبح سویرے اس کا شوہر کام پر چلا گیا اور وہ نومولود کے ساتھ گھر میں اکیلی تھی۔ اسے ایک ہی بات کی فکر رہتی تھی کہ بچہ کسی وقت بھی جاگ کر رونا شروع کر دیتا تھا۔ لیکن یہی بچہ بڑھئی کو اس کی زندگی میں لایا۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس بچے کی وجہ سے ہی وہ بڑھئی اس کے انتہائی قریب آ گیا تھا۔

اس صبح خاوند کی روانگی کے بعد اس کا سارا وقت بچے کو گود میں اٹھا کر برآمدے میں اوپر نیچے جاتے گزرا تھا۔ بچہ بہت رو رہا تھا۔ بڑی مشکل سے دودھ پلانے کے بعد اسے سلانے میں کامیاب ہوئی۔ جیسے ہی بچے کو جھولے میں لٹا کر وہ کافی بنانے کے لیے اٹھی۔ اوپر والے کمرے میں بڑھئی نے ٹھک ٹھک شروع کر دی۔ شور سن کر بچہ پھر جاگ گیا اور رونا شروع کر دیا۔ اس کے دل میں ایک غصے کی لہر دوڑ گئی۔ وہ بچے کو اٹھا کر دوبارہ دالان میں آ گئی۔

تھوڑی دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی۔ بڑھئی نے بچے کو روتے دیکھ لیا تھا اور معذرت خواہ تھا۔ اس نے اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے معذرت قبول کی لیکن بڑھئی اس کے غصے کو جان گیا تھا۔ چہرے پر موجود تھکاوٹ کے آثار دیکھ کر وہ مزید شرمندہ ہو گیا اور اس سے باتیں کرتے کرتے اندر آ گیا۔ پھر بچہ اپنی گود میں لے کر اسے چپ کرانے لگا۔

آج وہ یہ لسٹ ترتیب دیتے ہوئے اسی وقت کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ وہ ان دنوں اپنے شوہر سے بہت محبت کرتی تھی۔ شاید بعد میں زندگی بھر اس نے وہ شدت پھر کبھی محسوس نہ کی۔ خاوند کی اس شدید چاہت کے باوجود بڑھئی کی خوبصورت جسامت دیکھ کر اس کی طرف کشش محسوس کر رہی تھی۔

وہ سوچ رہی تھی کہ اب اسے وہ سب کچھ بھول جانا چاہیے تھا۔ وہ سب جو صرف کشش نہیں تھا۔ بات بہت آگے کی تھی۔ وہ سوچ سوچ کر گھبراہٹ محسوس کر رہی تھی۔ بڑھئی کی گود میں اپنا بچہ دیکھ کر اس کا دل چاہا تھا کہ وہ ایک اور بچہ پیدا کرے۔ اب کی بار اس بڑھئی کا ۔ مستقبل میں نہیں، ابھی اور اسی وقت۔ اسی وقت جب دن پورے شباب پر تھا، نیچے سڑک پر کاریں دوڑ رہی تھیں، ہر طرف رونق ہی رونق تھی۔ وہ رات کا بھی انتظار نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اس کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکل رہا تھا۔ وہ بولنے کی صلاحیت کھو چکی تھی۔ صرف ٰایک ہی احساس تھا کہ بڑھئی اس کے گھر کے اندر ہی داخل نہیں ہوا، اس کے وجود میں بھی سرایت کر چکا تھا۔

اس نے سر کو جھٹکا اور سب بھولنے کی کوشش کرتے ہوئے واپس لوٹ آئی لیکن آج اس کے تن بدن میں پھر وہی جلن تھی۔ وہ اب بھی اس بڑھئی کی کشش محسوس کر رہی تھی۔ وہ بچہ پیدا کرنے کی عمر سے گزر چکی تھی، لیکن اب بھی اس کی دلی خواہش تھی کہ اس کا ایک بچہ پیدا کرے۔ درحقیقت وہ یہ چاہتی تھی جس بچے کو بڑھئی نے اپنی گود میں اٹھا رکھا تھا کہ کاش وہ اسی کا بچہ ہوتا۔ اس نے اپنے اس پہلوٹھی کے بچے کے بارے میں سوچا جو اب بیرون ملک مقیم تھا اور شاذ و نادر ہی اس سے رابطہ کرتا تھا۔ آج وہ سوچ رہی تھی کہ یہ اس کی چاہت کی پامالی ہے، حق تلفی ہے، اس کی خواہش کی بے حرمتی ہے کہ وہ بچہ بڑھئی کا نہیں تھا۔

لسٹ اس کے سامنے پڑی تھی۔ پچھتاوے کے خانے میں اس نے موٹا سا لکھ دیا۔
”بڑھئی کے ساتھ ہمبستری نہ کرنا۔“
پھر اسی کالم کی اگلی سطر میں لکھا۔
”میرا بیٹا بدیس چلا گیا۔“
ان دونوں باتوں میں اسے کوئی نہ کوئی ربط محسوس ہو رہا تھا۔

شاید وہ بڑھئی کا ساتھ ہم بستری کر لیتی تو آج وہ بچے سے زیادہ محبت کرتی اور وہ اسے چھوڑ کر غیر ملک میں رہائش پذیر نہ ہوتا۔

اس نے سر کو جھٹک کر بڑھئی کا خیال دل سے نکالنے کی کوشش کرتے ہوئے شوہر کے بارے میں سوچا۔ گرچہ وہ اس کے ساتھ بے وفائی اور دھوکا دہی کی مرتکب ہوتی۔ وہ ایک ایسا مستقل مزاج انسان تھا جس میں انسانیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ اگر اس نے بڑھئی کے ساتھ ہمبستری کر لی ہوتی تو شاید شوہر کے ساتھ گزرنے والی زندگی میں پچھتاوے کا عنصر کم ہوتا۔

وہ مثبت خیالات کا حامل ہمیشہ پر امید رہنے والا شخص تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس کے بچے بھی بہت پر ہمت اور آزاد خیال تھے۔ اسی نے ان کے دلوں میں امید کی جوت جگائی تھی۔ یہی امید اس کے بیٹے کو اس سے دور، جنم بھومی سے دور، دیار غیر میں لے گئی تھی۔ دور بہت دور جہاں ایسا لگتا تھا کہ اس کے لیے حالات مشکل ہیں۔

زندگی کے آخری دنوں میں، اس کے شوہر نے بہت کوشش کی کہ حالات میں تلخی کم ہو۔ زیادہ تر لوگ کہتے کہ وہ اب بھی بہت پر امید تھا۔ لیکن سچ یہ تھا کہ وہ اس قدر مایوسی کا شکار ہو گیا تھا کہ وہ بچوں کو اس دنیا میں لانے پر شرمندگی محسوس کرنے لگا تھا۔ وہ بچے جو اس کے خیال میں دن بہ دن زیادہ مضر ہوتے جا رہے تھے۔ اس کا بھی یہی خیال تھا۔

اس نے محسوس کیا کہ وہ اپنے شوہر کی اس رائے سے غیر متفق نہیں تھی۔ پھر اس نے چینی کے مرتبان کے بارے میں سوچا۔ اس نے واقعی ”اس کا خیال نہیں رکھا تھا“ بلکہ اسے صرف پچھلے دروازے کے باہر پتھر کی سیڑھیوں پر رکھ دیا تھا۔ اس نے اس کا خیال نہیں رکھا تھا کیوں کہ چیونٹیوں کو مارنا، گندی چینی کو ضائع کرنا حتیٰ کہ چینی کے پیالے کو صاف کرنے کا خیال بھی اس کی برداشت سے باہر تھا۔

وہ سوچ رہی تھی گرچہ پچھتاوے کے بغیر زندگی گزارنا ہی مقصد حیات ہے، لیکن اب ایسی زندگی جینے کا کوئی حقیقی امکان نہیں۔ لگتا تھا کہ پچھتاوے کی ایک خاص حد ہے۔ اب اس حد کے پار اترنے کے بعد اطمینان بھری زندگی کا خواب دیکھنا بھی ناممکن ہے۔

مصنف: Thom Conroy

ترجمہ: سید محمد زاہد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے