نیا سفر ہے پرانے چراغ گل کر دو

نیا سفر ہے پرانے چراغ گل کر دو
فریبِ جنتِ فردا کے جال ٹوٹ گئے
حیات اپنی امیدوں پہ شرمسار سی ہے
چمن میں جشن و درودِ بہار ہو بھی چکا
مگر نگاہِ گل و لالہ سوگوار سی ہے
فضا میں گرم بگولوں کا رقص جاری ہے
افق پہ خون کی مینا چھک رہی ہے ابھی
کہاں کا مہرِ منور کہاں کی تنویریں
کہ بام و در پہ سیاہی جھلک رہی ہے ابھی
فضائیں سوچ رہی ہیں کہ ابنِ آدم نے
خرد گنوا کے جنوں آزما کے کیا پایا
وہی شکستِ تمنا وہی غمِ ایام!
نگارِ زیست نے سب کچھ لٹا کے کیا پایا
بھٹک کے رہ گئیں نظریں خلا کی وسعت میں
حریمِ شاہدِ رعنا کا کچھ پتہ نہ ملا
طویل راہ گزر ختم ہو گئی لیکن
ہنوز اپنی مسافت کا منتہا نہ ملا
سفر نصیب رفیقو! قدم بڑھائے چلو
پرانے راہنما لوٹ کر نہ دیکھیں گے
طلوعِ صبح سے تاروں کی موت ہوتی ہے
شبوں کے راج دلارے ادھر نہ دیکھیں گے
ساحر لدھیانوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے