نشّۂ غم ہے اور ہم ہیں بس

نشّۂ غم ہے اور ہم ہیں بس
ایک عالم ہے اور ہم ہیں بس
عشق میں یار یہ من و تُو کیا
لفظ اک ’ہم‘ ہے اور ہم ہیں بس
حاصلِ جستجو نہیں معلوم
سعیِ پیہم ہے اور ہم ہیں بس
تیرا عکسِ خیال ہے اور دل
دیدۂ نم ہے اور ہم ہیں بس
یہ ہَوا یہ چراغِ جاں غائر
بس کوئی دم ہے اور ہم ہیں بس
کاشف حسین غائر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے