نو ، نیاز آمدہ

نو ، نیاز آمدہ

میں آج بد نما، گھسا پٹا ہوا
پُرانا، مَیل خوردہ سکّہ ہوں… مجھے
چھُوا ہے سینکڑوں غلیظ انگلیوں کے مَیل نے
مجھے بھرا گیا ہے
گندی تھیلیوں میں،بٹوؤں میں ٹھونس ٹھونس کر سدا
مجھے دیا گیا ہے کاروبار، لین دین میں، حوالگی میں، قرض میں
میں ایک ہاتھ سے کسی بھی دوسرے میں
رخصت و وداع کے بغیر منتقل ہوا ہوں عمر بھر
ہزاروں گندے ہاتھوں کے پسینے کی تہیں سی جم گئی ہیں میرے جسم پر
مری جبیں بھی، پشت بھی
کچھ ایسے مسخ ہیں کہ اب تو کھوٹا ہونے کا گمان
بھی ہُوا ہے میرے لین دین میں
میں روپیہ ہوں، پاؤنڈ بھی ہوں، مُہر بھی، ریال بھی
نہ جانے کب گھڑا گیا تھا ، یاد تک نہیں مجھے!

میں جب گھڑا گیا تھا ٹھوس دھات سے
سفید، نقرئی ،روپہلا، چمپئی
سنہرا، جاذب نظر تھا ، صاف اور کھرا تھا میں
یہ سادگی کا حسن تھا
کہ میری پرکھ میری تازگی میں تھی
کسی غلیظ ہاتھ نے نہیں چھُوا تھا میرے صاف جسم کو
کسی بھی جیب کی سڑاند،تھیلیوں کی بُو نے میرے
اُجلے پن کو بد نُما نہیں کیا تھا…اور میں
نیا تھا، نو بہ نو تھا
ایک نو نہال طفل سا!
یہ لفظ ’’نو نہال ‘‘ مجھ کو کیسے یاد آ گیا؟

میں ایک سکّہ ؟ ایک نو نہال سا؟
نیا،نویلا ، ۔۔۔ایک بچہ، صغر سن؟
اچھوتا، کورا، نو نیاز آمدہ ؟

میں آدمی کی نسل ، ایک طفل نو؟
چمک دمک میں جو کبھی نئے گھڑے ہوئے سفید سکّے سا کھرا تھا، پر
تمام عمر کے غلیظ لین دین نے مجھے
ذلیل، خستہ حال، رنگ باختہ بنا دیا!

موازنہ بھی کیا عجیب چیز ہے!!

ستیا پال آنند

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے