نائٹ میئر

بہت کالی راتوں کے گرداب سے

ایک آہٹ نکل کر

دبے پاؤں بڑھتی ہے

کھڑکی سے لگ کر

کوئی اجنبی شکل رونے لگی ہے

مجھے وہم ہے

میں اگر اس کے رونے پہ

رونے لگوں تو

یہ فوراً پگھل کر مرے ساتھ

بہنے لگے گی

کوئی لجلجاتی ہوئی چیز

سہمے حلق سے اُترتی ہے

اور تھرتھراتی ہوئی سانس

جمنے لگی ہے

یہ پتھرائی دھڑکن کی

آواز ہے یا کوئی دھپ سے

بستر میں کُودا ہے

اور خرخراتی ہوئی ایک مدھم صدا

یہ صدا ہے کہ پھر میری سوئی

نگاہوں کو دھڑکا لگا ہے

لرزتی ہوئی رات کی آنکھ

کھلتی نہیں ہے

کسی طور پتھرائی ساعت

پگھلتی نہیں ہے

مجھے وہم ہے پھر اگر یہ

پگھلنے لگی تو مرے ساتھ

بہنے لگے گی

اُچٹتی ہوئی سسکیاں

لے رہا ہے کوئی

جیسے میں اپنے بستر میں

تنہا نہیں ہوں

ابھی میں نے چاہا تو ہے

چیخ کر اُٹھ پڑوں

پر کسی نے

مری سانس باندھی ہوئی ہے

مرے پاؤں جکڑے ہوئے ہیں

کوئی اجنبی چیز ہے جو

مرے ایسے بے جان تن کو

دُھنکنے لگی ہے

مری سانس رُکنے لگی ہے

گلناز کوثر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔