نگاہِ ہجر میں رنگِ ملال دیکھا ہے

نگاہِ ہجر میں رنگِ ملال دیکھا ہے
پھر اپنی سانسوں میں رقصِ وصال دیکھا ہے
اُتر کے چاند میں وہ عکس مجھ سے کہتا ہے
کہیں پہ ایسا بھی حُسن و جمال دیکھا ہے
میں آگ اور وہ پانی کے بُت بناتا تھا
ہوس میں دستِ ہنر کا کمال دیکھا ہے
پھر آئینے میں ترا عکس ڈھونڈتے ہوئے شاذؔ
جنونِ عشق میں وحشت کا حال دیکھا ہے

شجاع شاذ
اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے